{"book": "adl0233", "page": 1, "text": "Afghanistan Digital Library\n\nadl0233\n\nhttp://hdl.handle.net/2333.1/prr4xh8q\n\nThis is a PDF version of an item in New York University's Afghanistan\nDigital Library (http://afghanistandl.nyu.edu/). For more information about\nthis item, copy and paste the \"handle\" URL above into a web browser.\nWhen referring to or citing this item please use the \"handle\" URL\nand not this document or the URL from which you downloaded it.\n\nAll works presented on New York University's Afghanistan Digital Library website are, unless\notherwise indicated, in the public domain. The images available on this website may be freely\nreproduced, distributed and transmitted by anyone for any purpose, commercial or non-commercial.\nNYU Libraries, Digital Library Technical Services, dlts@nyu.edu"}
{"book": "adl0233", "page": 2, "text": "ZIKR\nI-\nSHAH\nI-\nI SLAM"}
{"book": "adl0233", "page": 3, "text": "Zekr-e Shâh-e eslâm\n\n1906\n\nDelhi\n\npar Mohammad\n\nKhân, hâjji"}
{"book": "adl0233", "page": 4, "text": "[BLANK PAGE]"}
{"book": "adl0233", "page": 5, "text": "[BLANK PAGE]"}
{"book": "adl0233", "page": 6, "text": "Zekr -e shâh -e Islam [HA]\nDelhi, 1906"}
{"book": "adl0233", "page": 7, "text": "[BLANK PAGE]"}
{"book": "adl0233", "page": 8, "text": "جناب مستطاب معظم مکرم القاب شیم و امثال تو رسالمد ماب\nمابد توقیع نظر مربیع لایق دولت علیه خداداد افغانستان [ILL] تعالی\nمن جميع عوارضات تلوّثات\nمسیح در یح [؟] سته اوی رنگ سنگ\nح ح ح ح ح\nشیخ سعدی شیرازی علیه الرحم\nدر لان [؟] عذابت نبران [؟]\n[ILL]\nAsad [ILL] a A\nشلاع [؟]"}
{"book": "adl0233", "page": 9, "text": "[BLANK PAGE]"}
{"book": "adl0233", "page": 10, "text": "الله هو\nنشان دولت\nقوی شوکت\nخدا داد افغانستان\n\nذکر شاه اسلام\nیعنے\nاعلیحضرت سراج الملة والدین امیرالمومنین ہز مجسٹی امیر حبیب اللہ خان\nپادشاه دولت خداداد افغانستان خلد الله ملکہ کے مختصر حالات\nمولفہ\nحاجی محمد خان ولد عبداللہ خان رئیس خوجہ مصنف ناول طلسم صادق\nو معراج المومنین و اصول تجارت ناول آئینہ نجات وغیره\nدر مطبع نظامی دہلی باہتمام محمد سید سلیمان انجام یافت"}
{"book": "adl0233", "page": 11, "text": "[BLANK PAGE]"}
{"book": "adl0233", "page": 12, "text": "التماس\nو\nعذر مؤلف\n\nبسم الله الرحمن الرحیم\n\nاعلیٰ حضرت ہزمیجسٹی سراج الملۃ والدین امیرالمومنین امیر حبیب اللہ خان پادشاہ دولت خداداد افغانستان خلد اللہ ملکہ۔ بطور مہمان ہمارے سرکار والا تبار یعنی دولت العالیہ برطانیہ ہندوستان تشریف لاتے ہیں۔ اس لئے میرا خیال تھا کہ اعلیٰ حضرت سراج الملۃ والدین خلد اللہ ملکہ و اقبالہ کے اوصاف و حالات میں کسی لایق اور قابل شخص کی تالیف ضرور شایع ہوگی کیونکہ اعلیٰ حضرت کا ہندوستان میں قدم رنجہ فرمانا کوئی معمولی امر نہیں ہے۔ ہمکو معلوم نہیں ہوتا کہ کبھی کوئی تاجدار ہندوستان میں بطور مہمان آیا ہو۔ یہ فخر ہندوستان کو اول ہی مرتبہ حاصل ہوتا ہے لیکن اسوقت تک ہمکو معلوم نہیں ہوا کہ کوئی ایسی کتاب شایع یا طبع ہوئی ہے۔ لہٰذا بندہ نے یہ خیال کر کے کہ ایسے ہر صفت موصوف پادشاہ اسلام کے اوصاف حمیدہ کا جسکا وجود مبارک نہ صرف افغانستان بلکہ اسلام کے واسطے رحمت الٰہی ہے۔ اہل ہند کو معلوم نہ ہونا قابل افسوس امر ہے کیونکہ ہر شے کی وقعت اسکی معرفت سے ہوتی ہے ایسا قصد کیا ہے گو یہ امر میری قابلیت اور گنجایش وقت کے بالکل خلاف ہو نہ اب وہ تصاویر فراہم ہو سکتی ہیں جو اعلیٰ حضرت کے دربار کے شاہی شان و شوکت کا نظارہ دکھا سکیں ۔ نہ اب ایسے مضامین کی فراہمی ممکن ہے جسے پورے طور پر اوصاف ذات اقدس شاہانہ معلوم ہوں ۔ کیونکہ تالیفات میں حالات صحیحہ کا معلوم"}
{"book": "adl0233", "page": 13, "text": "۲\nہونا ضرور ہے۔ ذہنی ایجادات کی اس میں گنجایش نہیں ہے نہ میں اس کام کے واسطے تیار\nہوں۔ اگر مجھکو پہلے سے ایسا خیال ہوتا تو تمام سامان مذکورہ بآسانی کابل میں فراہم کر لیتا\nلیکن دراصل میں اسی خیال میں رہا کہ اعلیٰ حضرت کے وہ لایق اور قابل نمک خوار جو ہندستان\nاور اُردو زبان سے خوب واقف ہیں ایسے ضروری امر کو فروگذاشت نہ کرینگے کیونکہ مہمان\nکی شان و شوکت اُسی پر منحصر ہے کہ اُسکے گھر کے حالات اور اوصاف حمیدہ ظاہر ہوں۔ لیکن یہ\nاتفاقی امر ہے کہ ان حضرات کا خیال اس طرف نہیں گیا (شاید یہ ایشیا ہونیکا باعث ہے\nیورپ میں تو ایسے عظیم الشان امر پر صدہا کتابیں تالیف و تصنیف ہو جائیں) اور مجھ سے\nناقابل اور ناواقف کو یہ خدمت انجام دینی پڑی۔ میں سخت حیران ہوں کہ لکھوں تو کیا لکھوں\nمضمون نگاری کا مجھکو سلیقہ نہیں۔ صدہا اوصاف جو ذات اقدس شاہانہ کے سنے تھے۔\nوہ یاد نہیں رہے۔ اور جو اُن میں سے چند یاد ہیں اُن میں بھی اکثر کے بیان کرنیوالوں کے\nنام یاد نہیں رہا۔ اور بلا ثبوت اس زمانہ میں کسی تحریر کا اعتبار نہیں۔ کابل میں میرے قیام\nکی مدت بہت کم سوائے چند امور کے زیادہ مشاہدہ کا موقع ہی نہیں ملا۔ ایسی حالت میں\nیہی مناسب تھا کہ میں بھی خاموشی اختیار کرتا اور کسی ذاتی فائدہ کے فکر میں مصروف ہوتا۔\nلیکن طبعیت کے تعلق کو کیا کروں بقول شخصے۔؎\nمحبت ہست که دل را نمی دهد آرام * وگرنه کیست که آسودگی نمی خواهد\nلہذا مجبوراً ناظرین کے اوصاف حمیدہ اور خلق پر بامید عیب پوشی تکیہ کر کے جو کچھ بھی مجھے معلوم\nہے اپنی ٹوٹی پھوٹی قصابی زبان میں تحریر کر کے ہدیہ ناظرین کرتا ہوں کیونکہ نہ ہونے سے\nہونا پھر بھی بہتر ہے بقول شخصے۔ گندم اگر بہم نرسد جو غنیمت است *\nالمکلف حاجی محمد خان ساکن مورجہ ۲۹۔ شوال المکرم ۱۳۲۴ ہجری *"}
{"book": "adl0233", "page": 14, "text": "٣\n\nدیباچه\nمؤلف\n\n۶۱۹۰۵ء مسلمانان ہندوستان کے واسطے کیسا مبارک سال ہے جس میں یہ ایک بادشاہ اسلام اور اپنی فرمانروا شہنشاہ کی قلبی اتحاد کی عملی تصویر دیکھتے ہیں۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے اگر بنظر غَور دیکھا جائے تو لا انتہا مسرت کا باعث ہے اسلئے کہ یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ ہر ایک انسان کو اپنے مذہب سے قلبی تعلق ہوتا ہے ایسی حالت میں مسلمانوں کی طبیعت کا میلان پادشاہ اسلام کی طرف فطری امر ہے۔ اسی طرح انسانی طبیعت کا یہی خاصہ ہے کہ جس کی سایہ عاطفت میں پرورش پاتا ہے زندگی آرام و آسایش سے گزارتا ہے اُس کے وجود مبارک سے بھی اسکا تعلق فطری اور قلبی ہوتا ہے۔ جہانتک ہم غور کرتے ہیں ہم کو ہمارا تجربہ بتاتا ہے کہ تاج برطانیہ تمام عالم میں عدل و انصاف اور رعایا پروری کے نور کا چمکتا ہوا ستارہ ہے ہم مسلمانوں نے بلکہ تمام اہل ہند نے اپنے پیارے شہنشاہ کے سایہ عاطفت میں بڑے آرام و اطمینان سے زندگی بسر کی ہے اسلئے ہر نیک دل اور منصف مزاج ہندوستانی کو تاج برطانیہ کے ساتھ قلبی محبت کا ہونا لازمی امر ہے۔ مذکورہ بالا بیان سے صاف ظاہر ہے کہ اہل اسلام ہندوستان کو اپنے شہنشاہ اور بادشاہ اسلام سے فطری تعلق اور محبت ہے۔ اب اس سے زیادہ اور کیا خوشی ہو سکتی ہے جب وہ دونون کا اتحاد قلبی"}
{"book": "adl0233", "page": 15, "text": "دیکھیں اور آئندہ اُس کی اور مضبوط اور مستحکم ہونے کی اُمید ہزارہا خوش کن خیالات پیدا\nکرتی ہو۔ اللّہم زد فزد ۔\nبعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر ہم ہزمیجسٹی پادشاہ افغانستان کی تعریف و توصیف کریں یا\nاُن سے جائز تعلق رکھیں تو ہماری گورنمنٹ کی ناراضی کا باعث ہوگا۔ ہمارے نزدیک یہ\nخیال نہایت غلط معلوم ہوتا ہے کیونکہ اگر بنظر غور دیکھا جائے تو افغانستان کی اِس عزت\nاور ترقی کا بڑا باعث ہماری گورنمنٹ ہی کی امداد ہے نہایت تعجب خیز امر ہے کہ خود ہی گورنمنٹ\nاُنکی عزت افزائی کرتی ہو اُنہیں مہمان بناتی ہو اپنا دوست بناتی ہے۔ پھر جو اُنکی عزت کریں گے\nاُنہیں محبت کی نظر سے دیکھیں گے گورنمنٹ کے مخالف تصور کئے جائیں گے چہ خوش گفت است سعدی\nدر زلیخا + یہ کونسے ملک کا فلسفہ ہو کہ دوست کا خیر خواہ مخالف ہوتا ہے + اعلیٰ حضرت کا\nہندوستان میں بطور مہمان تشریف لانا گورنمنٹ کی دوستی کا قاطع ثبوت ہے۔ بقول حضرت\nضیاء الملۃ والدین خُلد آشیان علیہ الرحمۃ = میں چاہتا ہوں کہ خود ہندوستان جاکر وائیسرائے دوستانہ\nملاقات کروں تاکہ تمام دنیا کو معلوم ہوجائے کہ جس حالت میں کہ امیر افغانستان ایک خود مختار اور آزاد حکمران\nخلاف معمول اپنے ملک سے باہر جاکر صرف ایک مختصر باڈی گارڈ کے ساتھ نائب نیزہ پر ملکہ\nانگلستان کے ملنے لئے ہندوستان جاتا ہو تو ضرور ہے کہ ان دونوں قوموں میں نہایت اختلاط\nو اتفاق ہے اور ایک کو دوسرے پر کامل اعتبار و اعتماد ہو اِس فضیحت سے تمام جھوٹی افواہوں کی تردید\nہوجائے گی اور ثابت ہو جائیگا کہ مابین سلطنت انگلستان و افغانستان سچی خالص دوستی ہے۔\nگورنمنٹ انگلیشیہ کی عظمت اور دبدبہ زیادہ ہو جائیگا اور عام طور پر ظاہر ہو جائیگا کہ ہندوستان و\nافغانستان کی حفاظت اور مضبوطی اِسی پر منحصر ہو کہ دونوں میں باہم اتحاد و اتفاق ہے۔ الخ =\nسالے ترک عبد الرحمانی جلد دوم صفحہ ۱۱۵۔"}
{"book": "adl0233", "page": 16, "text": "۵\nبعض حضرات کا یہ مقولہ ہو کہ شاید آیندہ نااتفاقی ہو جائے ایسے حضرات کا فلسفہ اور شاید بعینہ اس ملازم کے\nفلسفہ اور شاید کے مطابق ہو جو کہ اپنے مریض آقا کی خدمتگذازی پر معمور تھا جنکا مکالمہ ذیل میں درج ہے\n= آقا = مجھے اسوقت تکلیف ہے جاکر ڈاکٹر کو بلا لاؤ =\n= ملازم = شاید ڈاکٹر اسوقت مکان پر نہوں =\n= آقا = میں جانتا ہوں کہ وہ مکان پر ہیں =\n= ملازم = اگر مکان پر بھی ہوں تو شاید آئیں یا نہ آئیں =\n= آقا = ضرور آئیں گے =\n= ملازم = شاید اُن کے پاس دوا نہو =\n= آقا = اُن کے پاس دوا بھی ہے =\n= ملازم = شاید دوا اثر نہ کرے =\n= آقا = ضرور اثر کرے گی =\n= ملازم = اور جو شاید آپ کو مرض الموت ہو =\n= آقا = مرض الموت نہیں ہے =\n= ملازم = آخر مرنا ہی یا نہیں جب مرنا ضرور ہے تو اسمیں فرق ہی کیا ہو دو روز پہلے مرے یا دو روز پیچھے\nاگر تھوڑی دیر کیواسطے بفرض محال ایسے حضرات کے فلسفہ اور شاید کو تسلیم بھی کر لیا جائے\nتو ہم کہتے ہیں جب گورنمنٹ سے نہ اتفاقی ہو جائیگی تو ہمارے تعلقات بھی منقطع ہو جائینگے۔ اگر اس شاید\nپر عمل کیا جائے تو تمام امورات دینی و دنیاوی ترک کر دینا چاہیئے کیونکہ شاید کا امکان ہر کام میں ممکن ہے۔\nلہذا ہر پہلو سے اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اپنی پیاری گورنمنٹ کے معزز مہمان\nکے اوصاف حمیدہ اور حالات ناظرین کے سامنے پیش کئے جائیں ۔"}
{"book": "adl0233", "page": 17, "text": "بسم الله\nخلد الله ملکه\nالرحمن الرحیم\nذکر شاه\nسراج الملة والدین\nاسلام\nالسلطان ظل الله فی الارض ومن اکرمه اکرمه الله ومن اهانه اهانه الله\nحضرت سراج الملة والدین امیر المومنین خلد الله ملکه و اقباله نسلاً اعلیٰ حضرت ضیاء الملة والدین\nامیر المومنین امیر عبد الرحمٰن خان خلد آشیان رحمۃ الله علیہ کے فرزند رشید ہیں اور حکومت مآب\nاعلیٰ حضرت احمد شاہ درانی خلد آشیان علیہ الرحمۃ کے پوتے اور تاریخاً حضرت جلالت مآب\nمحمود غزنوی خلد آشیان رحمۃ اللہ علیہ کے پرپوتے ہیں۔\nحضرت سراج الملة والدین خلد الله ملکه کی ولادت ۱۲۸۸ھ میں ہوئی اسوقت عمر مبارک کا\nپینتیسواں سال ہے۔ تعلیم و تربیت اپنے والد ماجد اعلیٰ حضرت ضیاء الملة والدین خلد آشیان\nکے سایہ عاطفت میں پائی جن کی عقل و فراست کا تمام عالم کو اعتراف ہے بقول مؤلف\nتزک عبد الرحمانی = میرے نزدیک اس امر کے ثابت کرنے میں وقت ضایع کرنے کی کوئی ضرورت\nنہیں ہے کہ امیر عبد الرحمٰن خان اس زمانہ کے بزرگ ولایق ترین اشخاص میں سے ہیں۔ اُن تمام\nمدبروں نے جو کہ اُلٹے ملے ہیں یہی رائے قایم کی ہے اور سچ تو یہ ہے کہ وہ عجیب غریب نادر\nکامیابی جو اُنہیں افغانستان ایسے ملک کو جو کہ اُنکے زمانہ سے پیشتر ایک ویران خطہ زمین وحشی\nلہ دیباچہ مولف تزک عبد الرحمانی صفحہ ۷۔"}
{"book": "adl0233", "page": 18, "text": "قوموں سے آباد تھا ایک مضبوط اور رتبہ اسلامی سلطنت بنائی اور صنعت وحرفت و زمانہ\nحال کے نئی معلومات کا مرکز بنانے میں ہوئی ہے اپنی آپ نظیر ہے اور اُن کی غیر معمولی قدرتی فہم\nو ذکا کے ثبوت کے لئے کافی ثبوت ہے۔ الخ - ۱۲\nفی الواقع خداے عز وجل نے حضرت ضیاء الملۃ والدین خلد آشیاں کے وجود مبارک میں دینی و\nدنیاوی دونوں قسم کی اعلیٰ قابلیت پیدا کی تھی اور وجود مبارک کو اس شعر کا مصداق پیدا\nکیا تھا۔ شعر ۔\nاو د ہر اللہ سے وصل اید ہر مخلوق کے شامل * خواص اوس برنج کا ہیں تھا حرف مشدد کا\nاعلی حضرت ضیاء الملۃ والدین خلد آشیاں علیہ الرحمۃ والغفران کا مختصر حال بے دلچسپی\nناظرین اور اسلئے ہم تحریر کرتے ہیں جس سے ذات اقدس شاہانہ حضرت سراج الملۃ والدین\nخلد اللہ ملکہ کی اعلیٰ قابلیت کا جو بوجہ تعلیم و تربیت خلد آشیاں حاصل ہوئے انداز ہو سکے ۔\nمختصر حال خلد آشیاں\nاول ہم چند اشعار ایک ولی کامل کی تصنیف سے جو اعلی حضرت خلد آشیاں کی توصیف\nثنا میں ارشاد فرماتے ہیں عرض کرتے ہیں ۔ ۱۲\nآمده سروری از دودۂ عالی افغان * قوم ابدال شرف یافت از و قطب زمان\nآن ضیا ملت دین زیب سریر کابل * حامیٔ دین متین نائب سردار رسل\nظل یزدان بزمین خدمے اہل ایمان * مظہر رحمت حق ماہر شرع و عرفان\nاعلی حضرت کی حمیت اور غیرت اسلامی کا اندازہ ترک عبدالرحمانی کے اکثر مقامات سے\nہوتا ہے ہم صرف ایک مقام کی عبارت بطور نمونہ تحریر کرتے ہیں جو اسی بزرگ اور مدبر جود\nمبارک کی زبان اور قلم سے نکلی ہے ۔"}
{"book": "adl0233", "page": 19, "text": "جفاکشی سے مجھے مطلق تکلیف نہیں ہوتی۔ بلکہ مجھے اُس سے الفت ہے اور میں کبھی نہیں\nتھکتا اس لئے کہ مجھے کام ومحنت کا ازحد شوق ہے آمیں شک نہیں کہ ہر شخص میں\nایک نہ ایک قسم کی اولوالعزمی ہوتی ہے اور میری عالی حوصلگی یہی ہے کہ حتی الامکان\nمشقت و محنت کرون جسقدر کام میں کرتا ہوں وہ اپنی سلطنت کے انتظام کو مکمل کرنے\nکی غرض سے ہے۔ یہ ذوق و شوق و محنت خداوند تعالیٰ کی طرف سے ہے۔\nمیری زندگی کی بڑی آرزو اور خواہش یہی ہے کہ جس انسانی گلے کو خدا نے مجھہ ناچیز غلام\nکے سپرد کیا ہے اُس کی نگرانی وحفاظت کروں۔ رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے\nفرمایا ہے ۔ اذا اراد اللہ شیء حیاءتہ الخ\nچونکہ خدا کو منظور تھا کہ افغانستان کو بیرونی حملوں اور اندرونی شورش سے بچائے اس لئے\nاُس نے اس حقیر کو ایسی ذمہ داری کا رتبہ دے کر عزت افزائی کی اور وہی اسکا باعث\nہے کہ میں رفاہ عام کے خیال میں غرق رہتا ہوں اُسی نے میرے دل میں یہ بات ڈالی ہے\nکہ اہل افغانستان کی ترقی کا دل سے کوشان رہوں۔ اور اُن کی بہبودی اور اُس\nمقدس نبی محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے مذہب کے لئے جان تک دینے سے دریغ\nنہ کرون ۔ الخ۔\nاعلیٰحضرت خلد آشیان علیہ الرحمۃ کے بلند مرتبہ اور تقدس کے ثبوت میں اپنا دانتہ\nعرض کرتا ہوں سنہ ۱۸۹۶ء میں اعلیٰحضرت خلدآشیان نے بندہ کو طلب فرمایا بموجب\nامر مبارک پابوسی کا قصد کیا۔ لیکن یہ امر مین نے ایک بزرگ کی رائے اور اجازت پر\nمنحصر رکھا جنکو میں کیا خدا پرستوں کا بڑا گروہ ولی کامل اور محدث جانتا تھا۔ بغرض\nتزک عبدالرحمانی جلد دوم صفحہ ۷۹۔"}
{"book": "adl0233", "page": 20, "text": "مذکورہ حاضر حضور ہوکر اپنا قصہ عرض کیا جس کے جواب میں ارشاد ہوا کہ اس کا جواب کل\nدیا جائے گا چنا نچہ دوسرے روز بعد نماز فجر ارشاد فرمایا تجھو شب کو معلوم ہوا کہ تمام عالم\nحضرت ضیاء الملتہ والدین کے وجود مبارک کے نور سے منور ہے جاؤ قدم بوسی حاصل کرو\nخدا مبارک کرے ۔ یہ سنکر میں خاموش ہو رہا کیونکہ اس ارشاد سے میرے قلب میں\nخطرات پیدا ہوئے جن کا عرض کرنا خلاف ادب سمجھا لیکن حضرت نے خود ہی فرمایا کہ\nکیا اس میں تمہیں کچھ شبہہ ہے۔ میں نے دست بستہ عرض کیا کہ قلب میں خطرہ کا پیدا ہونا\nاختیاری امر نہیں ہے میں معذور ہوں ۔ فرمایا کچھ مضائقہ نہیں خطرہ کا اظہار کرو۔\nمینے حکم کی تعمیل کی اور عرض کیا کہ اعلیٰ حضرت ضیاء الملتہ والدین نبی تو ہو نہیں سکتے۔\nنبوت ختم ہو گئی۔ اب جتنے درجہ باقی ہیں وہ سب نبوت سے کم ہیں نبیوں کا یہ حال ہے\nکہ ایک وقت اور ایک ہی زمانہ میں متعد د نبی عالم میں موجود ہوتے تھے ۔ جب چند وجود\nہونگے تو نور اور اُن کے فیض میں تفریق ضرور ہوگی یہ تو جناب سرور عالم خاتم نبیا\nحضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی شان ہے کہ سارے عالم اُن کے وجود مبارک\nسے پر نور اور منور ہوں بموجب ارشاد جناب باری عزاسمہ وما ارسلناك الا رحمة\nاللعالمین۔ اسکے جواب میں ارشاد فرمایا کہ یہ خطرہ میرے قلب میں بھی آیا تھا لیکن غور\nکرنے سے رفع ہو گیا اس لئے کہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے صاف ظاہر ہے کہ\nایک زمانہ ایسا آئے گا جو ایک سنت نبوی کو زندہ کرے گا۔ اُسکو ایک سو شہداء کرام\nکا ثواب اور درجے ملے گا یہ وہی زمانہ ہے تو اب غور کرو جس کے وجود مبارک سے ساری\nشریعت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم زندہ اور جاری و نافذ ہوئی ہے اُسکے مرتبہ کی کیا انتہا\nہو سکتی ہے جسکو سوائے خدا کے کوئی نہیں جان سکتا ۔ علاوہ ازین تفریق کے یہی"}
{"book": "adl0233", "page": 21, "text": "۱۰\nمعنی میں جیسا کہ تم نے کہا کہ عالم میں دو وجود مقابل ہوں تو نور میں تفریق ہو مثلاً عالم\nمیں دو آفتاب ایک وقت موجود ہون تو ضرور نور میں تفریق ہوگی اور جب دوسرا وجود\nمقابل پر موجود ہی نہیں ہے تو سارے عالم مین اُسی ایک وجود کا نور ہوگا جو یکتا زمانہ\nہے۔ اب غور کرو تمام عالم میں سوائے اعلیٰ حضرت ضیاء الملۃ والدین کے کوئی اور\nدوسرا بھی ایسا پادشاہ اسلام موجود ہے کہ اُسکی عملداری میں احکام شریعت اسلام\nجاری و نافذ ہوں اور جب نہیں تو پھر خطرہ بے محل ہے۔ یہ سنکر اطمینان کامل ہو گیا۔\nاعلیٰ حضرت ضیاء الملۃ والدین خلد آشیان کی انصاف پسندی اور قلب میں خدائے\nعز وجل کی عظمت و ہیبت کا انداز اس امر سے ظاہر ہے۔\nبندہ ۱۸۹۶ء میں بغرض پابوسی اعلیٰ حضرت خلد آشیان حاضر حضور ہوا۔ اور عالیجناب\nفیض مجسم مرزا محمد حسین خان صاحب مستوفی الممالک کے دولت خانہ پر ٹھہرایا گیا۔\nایک روز اثناء گفتگو میں محمد یوسف خان صاحب برادر مستوفی صاحب نے فرمایا کہ اعلیٰحضرت\nضیاء الملۃ والدین کے آپ کو خلق اور الطاف خسروانہ کی انداز ہی کا موقع ملا ہے ۔\nآپکو اگر غضب شاہی کے دیکھنے کا موقع ملے تو پریشان ہوجائیں خدا پناہ میں رکھے\nاگر دریا سامنے ہو تو خشک ہو جائے۔ شیرون کا پتہ تہلیل ہو جائے یہ ہو جائے وہ ہو جائے۔\nمیں خاموش سنتا رہا جب وہ بہت کچھ فرمانے لگے تو میں بھی اپنی عادت سے مجبور تھا\nبقول شاعرے\nشیخ محفل میں جو رندونکی کبھی آئے گئے ٭ خوسے لاچار تھے کچھ وعظ بھی فرمائے گئے\nآخرالامر وہ اس طرح نکلوائے گئے ٭ پابستے دگرے دست بدستے دگرے\nمجھ کو بھی اسکا ہزار مرتبہ تجربہ ہوا ہے اور سخت پریشانیاں اُٹھانی پڑی ہیں لیکن اپنی عادٔ"}
{"book": "adl0233", "page": 22, "text": "سے باز نہیں آتا اور نہیں خیال کرتا کہ یہ عام مقولہ ہے کہ سچی بات دیوانہ کہے یا مستانہ\nباوجود تجربہ کے پھر بھی میں نے عرض کیا کہ حضرت یہ آپ کیا فرماتے ہیں یہ صفات تو\nغضب الہی کے ہیں کہ اُس سے سمندر خشک ہو جائے دوزخ و جنت کا نام و نشان\nمٹ جائے آسمان پھٹ جائیں زمین دھس جائے انسان کی اس ضعیفی اور محتاجی پر جو\nاظہر من شمس ہے ایسا بیان کرنا زیبا نہیں۔ خان صاحب نے ترش ہو کر فرمایا۔ آپ کیا\nجانیں جیسا میں نے عرض کیا وہ بالکل صحیح اور درست ہے۔ میں نے بھی اسی لب و لہجہ\nمیں عرض کیا ۔ حضرت سمندروں اور دریاؤں کا خشک ہونا تو درکنار میں ایک پیالہ پانی\nبھر کر اعلیٰ حضرت کے روبرو رکھے دیتا ہوں اعلیٰ حضرت اپنے غضب کی تقویت کے تمام\nسامان یعنے توپ تفنگ فوج فرہ جو کچھ بھی ہو وہ سب مہیا فرمالیں اور تمام قوت غضبیہ\nکا خاتمہ اس پیالہ پر فرمادیں اگر غضب کے اثر سے اُس پیالہ میں سے ایک قطرہ بھی پانی کا\nخشک ہو جائے تو آپ میرا رو سیاہ کر کے گلی میں جوتیوں کا ہار ڈال کر گدھے پر سوار کر کے\nسارے شہر میں گشت کرائیے گا۔ اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر آپ کو بجائے میرے ایسا کرنا\nہو گا مستوفی صاحب بھی اس گفتگو کو سُن کر تبسم فرما رہے تھے۔ اُنہوں نے اس بات کو رفع\nدفع کر دیا۔ اسکے بعد بندہ حاضر دربار ہوا دربار برخاست ہونے کے بعد ذات\nاقدس شاہانہ کے ہمراہ طعام میں شریک ہوا اعلیٰ حضرت خلد آشیان مسند آرائے\nسریر خلافت تھے بندہ اور مستوفی صاحب اور عالیجناب احمد شاہ خان صاحب ملک التجار\nزیر سریر شاہی اعلیٰ حضرت خلد آشیان کے طبع مبارک فطرتاً ظریفانہ واقع ہوئی تھی۔\nاس لئے خوش کن گفتگو بھی ہوتی جاتی تھی عالیجناب مستوفی الممالک صاحب نے موقع پا کر بیر[؟]\nاور اپنے بھائی کا قصہ فرمانا شروع کیا جس کو اعلیحضرت خلد آشیان نہایت غور سے سنتے"}
{"book": "adl0233", "page": 23, "text": "جاتے تھے اور طبع مبارک پر اسکا اثر ہوتا جاتا تھا۔ جب وہ ختم کر چکے تو آبدیدہ ہو کر فرمایا کہ\nجس کی نظروں میں اور قلب میں ایک ذرہ کے برابر خدائے عزوجل کی عظمت اور ہیبت\nسما جاتی ہے تو پھر اُسکے قلب اور نظروں میں کیسی ہی عظیم الشان اور جلیل القدر شے ہو اسکی\nعظمت اور ہیبت کا اثر نہیں ہوتا چہ جائے کہ انسان کی جو ایک مشت خاک ہو اور ایک\nناپاک قطرہ سے بنایا گیا ہے۔\nاعلیٰ حضرت خلد آشیان کا قیافہ ایسا درست اور صحیح ہوتا تھا کہ لوگوں کو خرقہ عادات کے شبہ میں\nڈال دیتا تھا چنانچہ مجھ کو خود اسکا تجربہ ہوا ہے بندہ اعلیٰ حضرت خلد آشیان علیہ الرحمۃ و الغفران\nاُردو میں عرض کیا کرتا تھا اور اعلیٰ حضرت شاہِ اسلام فارسی میں ارشاد فرمایا کرتے تھے اسلئے\nمیں یہ اندازہ نہیں کر سکتا تھا کہ حضور والا کی قابلیت اُردو زبان میں کیسی ہے اس وجہ سے\nاگر کوئی ضروری بات ہوتی تھی تو میں فارسی میں تحریر کراکر حضور میں پیش کر دیا کرتا تھا۔ ایک روز\nمیں یہ تحریر کراکر لیگیا کہ افغانستان سے بغرض تعلیم صنعت و حرفت کچھ لوگ یورپ بھیجے جائیں\nاعلیٰ حضرت خلد آشیان نے کمال شفقت خسروانہ سے اس احقر کو سریر مبارک کے روبرو\nقالین پر بیٹھنے کا فخر بخشا تھا چنانچہ میں اپنی جگہ مقررہ پر با ادب حاضر تھا اعلیٰ حضرت\nاہل دربار سے کچھ ارشاد فرمارہے تھے بعد سکوت مینے موقع پاکر جیب سے لفافہ نکالا۔\nاعلیٰ حضرت نے اُسے دیکھا لیکن پھر کسی کام میں مصروف ہو گئے میں نے اُسے جیب میں\nرکھ لیا اُس کام سے فارغ ہو کر میری طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا کہ اگر کسی ہندوستانی\nکا یہ خیال ہو کہ افغانستان سے کچھ لوگ بغرض تعلیم صنعت و حرفت یورپ بھیجے جائیں۔\nاُس کا یہ خیال ہندوستان کے باشندوں کے واسطے تو مناسب ہے لیکن اہلِ افغانستان\nکے واسطے درست نہیں ہے اس لئے کہ ہندوستان ایک آزاد ملک ہو اور افغانستان"}
{"book": "adl0233", "page": 24, "text": "میں احکام شریعت اسلام جاری ہیں یہاں کوئی شراب نہیں پی سکتا کوئی زنا وغیرہ نہیں\nکرسکتا اس لئے اگر یہاں کا آدمی آزاد ملک میں جائے گا تو اُسکے خراب و برباد ہونے کا\nاندیشہ ہے جب انسان کسی مذہب کا پابند نہیں رہتا اور آزاد مشرب ہو جاتا ہے تو اُسکے\nاخلاق و عادات خراب ہوجاتے ہیں اسلئے اہل یورپکا بغرض مذکورہ افغانستان میں آنا\nبہتر ہے ۔ میں یہ سنکر نہایت متحیر ہوا کہ اعلیٰ حضرت کو لفافہ کے اندر کا حال کیونکر معلوم\nہوگیا مجھ کو متحیر دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ میرے نزدیک ولی اور عقلمند آدمی میں صرف اتنا فرق ہے\nجیسا ٹیلی فون اور تار میں یعنے ٹیلی فون میں انسان کو عقل و غور کی زیادہ ضرورت نہیں ہے\nجیسا کسی نے کہا آواز آگیا لیکن تار میں عقل و غور اور علم کی ضرورت ہے یعنے اُسکے اصطلاحات\nکا معلوم ہونا کھٹکا صحیح معلوم کرنا اسی طرح ولی کو بذریعہ الہام وحی معلوم ہو جاتا ہے کہ آئندہ\nایسا ہوگا یا ایسا ہوا۔ عقلمند زمانہ کے حالات و رفتار سے معلوم کر لیتا ہے کہ آئندہ ایسا ہوگا۔\nان تمام مذکورہ بالا امور سے ظاہر ہے کہ جب ایسے عقلمند و مدبر و بزرگ شاہ اسلام کے زیر\nنگرانی وہ حصہ عمر کا گذرا ہو جو تعلیم کے واسطے مخصوص ہے تو اُن تمام خوبیوں کا جو اعلیٰ حضرت\nخلد آشیان کے وجود مبارک میں قدرت نے پیدا کی تھیں حضرت سراج الملہ والدین خلداللہ\nملکہ کے وجود مبارک میں ہونا ضروری امر ہے کیونکہ طبیعت انسانی کا خاصہ ہے کہ جوعادتیں\nیہ بضرورت اختیار کرتا ہے وہ رفتہ رفتہ اس کی طبیعت ثانیہ ہو جاتی ہیں۔ بقول حضرت\nسعدی رحمۃ اللہ علیہ ؎\nگلے خوشبوئے در حمام روزی ٭ رسید از دست محبوبی بدستم ٭ بدو گفتم کہ مشکے یا\nعبیری ٭ کہ از بوئے دلاویز تو مستم ٭ بگفتا من گل ناچیز بودم ٭ ولیکن مدتی با گل\nنشستم ٭ کمال ہمنشین در من اثر کرد ٭ وگرنہ من ہمان خاکم کہ ہستم ٭"}
{"book": "adl0233", "page": 25, "text": "۱۴\n\nحضرت سراج الملة والدین خلداللہ ملکہ کی عمر مبارک کا وہ تمام حصّہ یعنے تیس سال جو ہندوستان\nعقلاؤں کے نزدیک تعلیم کا انتہائی زمانہ ہے زیر سایہ و نگرانی اعلیٰ حضرت خلد آشیان\nگزرا ہے ۔ دانشمندانِ ہند کے خیال میں تیس سال کے بعد انسان کے عادات و اطوار\nمیں تغیّر و تبدل نہایت دشوار بلکہ ناممکن ہے ۔ وہ کہتے ہیں بیس پچیس ۲۵ تیس ۳۰ برس کے\nاندر پُوت۔ کپُوت۔ سپُوت ۔ بنے سو بنے ۔ یعنی انسان جو خصلتیں بُری یا بھلی اختیار کرتا ہے\nوہ تیس برس کے اندر اُس کی طبعیت ثانیہ ہو جاتی ہیں جنکا تبدل ناممکن بقول شخصے ۔\nجیل گرد و جبلت نگردد اعلیٰ حضرت خلد آشیان نے عنانِ حکومت اپنی زندگی میں حضرت\nسراج الملة والدین خلداللہ ملکہ کے سپرد کر دی تھی چنانچہ وہ تحریر فرماتے ہیں حبیب اللہ خان میرے\nسب سے بڑے لڑکے کو وہ تمام کام کرنے پڑتے ہیں جو کہ میں خود یا سابق امیران افغانستان کیا\nکرتے تھے صرف چند نئے محکمے و سرر شتے اُنکے سپرد نہیں ہیں جیسا کہ صیغہ خارجہ جس کا\nانتظام میں نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے حبیب اللہ خان کا دستورالعمل یہ ہے ۔ دس بجے صبح\nدربار کرتے ہیں اور چار پانچ بجے سہ پہر کو اُسے برخاست کرتے ہیں بروز دوشنبہ پنجشنبہ\nاُنکے دربار کے سکرٹری تمام درخواستیں خطوط جو بذریعہ ڈاک یا قاصد ۔ ہرات ۔ قندہار\nبلخ ۔ غزنی ۔ جلال آباد ۔ ہندوستان و دیگر مقامات سے موصول ہوں انہیں پڑھ کر\nسناتے ہیں مختلف محکموں کے روزانہ اخراجات کے احکام بنام خزانہ جاری کئے جاتے\nہیں۔ اور گورنروں و فوجی وملکی اہلکاروں و مہتممان کارخانجات و میگزین و محکمہ عمارات امال\nکی رپورٹوں پر احکام صادر کئے جاتے اور حکام متعلقہ کے پاس بھیجے جاتے ہیں۔ یہی\nسکرٹری درخواستوں کے جوابات و دیگر کاغذات وغیرہ پر اُن سے مہر و دستخط کراتے ہیں\n؂۱ تزک عبدالرحمانی جلد دوم صفحہ ۹۵ ۔"}
{"book": "adl0233", "page": 26, "text": "۱۵\nپھر بذریعہ ڈاک اُن کو روانہ کرتے ہیں۔ اس سبکے ختم ہونے کے بعد وقت آرام تک اور جو\nکچھ کام آجائے اُسے انجام کرتے ہیں اور صرف اسپ سواری اور ہوا خوری کے لئے تھوڑا\nوقت نکال لیتے ہیں۔\nسونے سے پہلے وہ میرے دربار میں چند منٹ کے لئے آتے ہیں اور اگر ضرورت ہو تو\nصبح کے وقت بھی جبکہ میں بیدار ہوؤں شنبہ کے روز وہ فوجی دربار کرتے ہیں جس میں\nتمام فوجی افسروں کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں۔ فوج کے لئے تازہ سپاہی وہی مقرر کرتے\nہیں۔ اور تمام فوجی معاملات اُن کے متعلق ہیں۔ فوجی جرایم و تنازعات وغیرہ کا تصفیہ بھی\nاُنکے سپرد ہے۔ چہارشنبہ کو ملکی حکام موجودہ کابل کا دربار ہوتا ہے اور جو مقدمات ملکی\nاُسوقت پیش ہوں اُنہیں طے کرتے ہیں۔ بروز شنبہ مقدمات فوجداری فیصل کرتے ہیں۔\nاور مجرموں کو سزا قید دیتے یا رہا کرتے ہیں اُسی روز کوتوال بھی مقدمات پیش کرے یا\nکسی اور ذریعہ سے آئیں۔ اور اپیلیں وغیرہ بھی سنتے ہیں۔\nاتوار کے دن تمام کارخانجات و کابل کے مختلف میگزینون کا معاینہ کرتے ہیں کاریگرون\nکی درخواستیں سنتے ہیں اور اُن کی لیاقت کے مطابق اُنہیں ترقی پنشن۔ رخصت\nوغیرہ دیتے ہیں۔ جمعہ یوم الراحت ہے جسے یا تو وہ میرے ساتھ گزارتے ہیں یا شکار میں\nجمعہ کی نماز مسجد میں پڑھتے ہیں اور اپنی ماؤں و خویش و اقارب سے ملتے ہیں۔ الخ۔\nلیکن باضابطہ تخت نشین اعلی حضرت ضیاء الملۃ والدین کی وفات کے بعد ہوئی۔\nوفات حسرت آیات شاہ اسلام نے تمام عالم کے مسلمانون کے قلوب کو ہلا دیا۔\nگورنمنٹ عالیہ برطانیہ کے تمام قلمرو میں جھنڈے نصف سرنگوں کر دئے گئے مسلمانان\nعالم کے صدمہ اور گورنمنٹ عالیہ کے رنج کا بدل خداوند عالم نے اعلیٰ حضرت سراج الملۃ"}
{"book": "adl0233", "page": 27, "text": "۱۶\nوالدین امیر المومنین خلد الله ملکه وسلطنته واقباله کو زیب سریر دولت خداداد افغانستان\nفرما کر کر دیا :\n\nاشعار دعائیہ\nیا خدا جب تک کہ یہ عالم رہے : آدمی کے دم میں جب تک دم رہے\nخلق میں جب تک بہے آب روان : اور جب تک گریہ شبنم رہے\nہو ترقی دولت داد خدا : شاہ اوس کا شاد اور خرم رہے\nبڑھتے بڑھتے ماہ کامل ہو سراج : دنگ جس کو دیکھ کر عالم رہے\nحُب نصر اللہ نائب سلطنت : شاہ کے دل میں صدا قایم رہے\nنور چشم شاہ معین السلطنت : جگمگاتا خلق میں دایم رہے\nبا ضابطہ تخت نشینی\nاعلیٰ حضرت سراج الملۃ والدین خلد الله ملکه یکم اکتوبر ۱۹۰۱ء کو سریر آرای دولت خداداد\nافغانستان ہوئے اور مارچ ۱۹۰۴ء میں با ضابطہ تخت نشینی کو تمام افغانی سرداروں اور\nعالموں اور گورنمنٹ آف انڈیا نے تسلیم کر لیا۔ عنان حکومت دست مبارک میں\nلینے کے بعد ۱۹۰۷ء میں اپنا ولی عہد اور نائب السلطنت ایسے شخص کو کیا کہ جس کی\nپیشانی کا چمکتا ہوا نور ہر دیکھنے والے کو بتا دیتا ہے کہ یہ شخص صفات ملکوتی رکھتا ہے\nجس کا وجود مبارک دولت خداداد افغانستان اور اسلام کے واسطے رحمت الٰہی ہے\nاور یہ جناب خاتم الانبیاء محمد مصطفےٰ صلے اللہ علیہ وسلم کی اُس صفت سے مستفیض اور\nاُس کا مظہر ہے جس کی بابت جناب باری عزاسمہ ارشاد فرماتا ہے وما ارسلناک\nالا رحمت اللعالمین ۔ نائب السلطنت کے وجود مبارک سے اعلیٰ حضرت سراج الملۃ"}
{"book": "adl0233", "page": 28, "text": "والدین خلد اللہ ملکہ اور تمام اہل افغانستان کو قلبی محبت ہے انہیں پر منحصر نہیں بلکہ ہر مسافر\nاور اُس شخص کو جو ایک مرتبہ بھی پابوسی حاصل کر لیتا ہے وجود مبارک سے قلبی تعلق پیدا\nہو جاتا ہے آپکا نام مبارک نصر اللہ خان ہے۔\nزبان پہ بار خدا یا یہ کس کا نام آیا * کہ میری نطق نے بوسہ میری زبان کے لئے\nنائب السلطنت صاحب اعلی حضرت سراج الملۃ والدین خلد اللہ ملکہ کے برادر خورد ہیں\nاور شہزادہ عنایت اللہ خان معین السلطنت فرزند اکبر اعلی حضرت نائب السلطنت صات\nکے ولی عہد ہیں جن کے خلق اور قابلیت کا تجربہ اور پابوسی کا شرف تھوڑا ہی عرصہ\nہوا۔ اہل ہندوستان کو حاصل ہو چکا ہے۔\nصفات ذات شاہانہ\nاعلی حضرت سراج الملۃ والدین امیر المومنین خلد اللہ ملکہ واقبالہ اول درجہ کے شجاع اور\nنہایت رحم دل و منصف مزاج و خندہ پیشانی اور خلیق اور بیدار مغز اور مستعد ہیں ہر ایک\nصفت کے ثبوت میں ایک ایک واقعہ بطور نمونہ عرض کیا جاتا ہے۔\nشجاعت\nبمقام جلال آباد اتفاقاً بندوق کا فیر کرتے وقت اُس کے شق ہو جانے سے انگشتان\nمبارک میں صدمہ پہونچا جس کی قطع برید کی نوبت آئی حضور وایسرے بہادر سابق نے\nجو ڈاکٹر برائے علاج روانہ فرمایا تھا اُس نے عمل جراحی کے وقت بیہوش کرنا چاہا جسکو\nایسا کرنے سے منع فرمایا اور دست مبارک اُسکی طرف بڑھا کر فرمایا کہ اپنا کام شروع کرو۔\nاور دوسرے ہاتھ میں اخبار لیکر ملاحظہ فرمانا شروع کیا۔ عالیجناب مرزا عبد الرشید خان\nصاحب نے دست مبارک جسپر عمل جراحی کرنا مقصود تھا تھام لیا۔ عمل کے شروع ہونے پر"}
{"book": "adl0233", "page": 29, "text": "۱۸\n\nمرزا صاحب کا ہاتھ کانپنے لگا۔ اعلیٰ حضرت نے مسکرا کر فرمایا مرزا کیا ہے مرزا صاحب کے\nآنسو نکل آئے اور معذور سمجھکر ہٹا دیئے گئے۔ ڈاکٹر نے ہر دو انگشتان مبارک کو جنہیں\nصدمہ پہونچا تھا قطع کیا اور نہایت سہولیت اور اطمینان کے ساتھ اپنا کام انجام دیا۔\nاس تمام عرصہ میں اعلیٰ حضرت اخبار ملاحظہ فرماتے رہے نہ جبین مبارک پر چین آئی نہ\nدوسرے ہاتھ پر کسی قسم کا اثر پڑا نہ خیال پر اسکا اثر ہوا۔ ڈاکٹر نے یہ شجاعت و استقلال\nدیکھ کر فرمایا کہ میری نظر سے ایسا بہادر شخص نہیں گذرا انگلیاں قطع کی جائیں اور اُسکا اثر\nخیال تک پر نہ ہو *\n\nرحم دلی\nاگست ۱۹۰۷ء میں اعلیٰ حضرت شکار کو تشریف لے گئے دور بین سے جنگل کا ملاحظہ\nفرماتے وقت نظر کیمیا اثر ایک ٹوٹے سے جھونپڑہ پر گئی جسمیں ایک مرد ضعیف کٹی کاٹ\nرہا تھا اُسکے پاس خود تشریف لیجا کر کمال شفقت خسروانہ سے دریافت فرمایا کہ تم اس ضعیفی\nمیں کیون اسقدر مشقت کرتے ہو کیا کوئی وارث نہیں ہے اُس نے دست بستہ عرض\nکیا کہ صرف ایک لڑکا ہے وہ شاہی فوجی خدمت انجام دیتا ہے ۔ اعلیٰ حضرت اپنی فرودگاہ پر\nاُسے لے آئے اپنے ساتھ کھانے میں شریک کیا اور اُس کے فرزند کو طلب فرما کر ضعیف کی\nخدمت پر معمور کیا اور دو ہزار روپیہ نقد مرحمت فرمائے ۔\n\nانصاف\nاسکے ثبوت میں کسی واقعہ کے درج کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ایسے واقعات پیش\n\n۱۲ اس زمانہ میں بندہ کابل میں موجود تھا۔ اول یہ قصہ عزیز القدر عبدالکریم خان پسر عالیجاہ عبدالغفور خان مرحوم\nنبرہ عالی جناب حبیب اللہ خان مستوفی الممالک مرحوم نے مجھ سے فرمایا ۔ اس کے بعد اکثر اشخاص سے\nاسکی تصدیق ہوئی ۔"}
{"book": "adl0233", "page": 30, "text": "19\nآتے رہتے ہیں جن کی تعداد ہزارہا کی ہے میں صرف اسکا قاعدہ درج کرتا ہوں کہ مظلوم\nکی فریاد اعلحضرت کے گوش مبارک تک کیونکر پہونچتی ہے ناظرین کو اس سے یقین طور پر ظاہر ہو\nجائے گا کہ ایسا قاعدہ مقرر کرنا ہے منصف مزاج بادشاہ کا کام ہے اور نیز اس قاعدہ\nکے معلوم ہونے سے اہل ہندوستان کو یہ بھی فائدہ پہونچے گا کہ بعض اہل کاروں نے دولت\nخداداد افغانستان کی عام طور پر جو مشہور کر رکھا ہے اور لوگوں کا اُسکا یقین ہو گیا ہے۔\nکہ ہندوستان سے کوئی خطہ یا کسی کی شکایت وغیرہ کی درخواست بغیر اُن کی توسل کے\nاعلیٰ حضرت تک نہیں پہونچ سکتی ۔ ڈاک خانہ پشاور سے ایسے خطوط یا تو چاک کر دئے جاتے\nہیں یا اُن کے ملاحظہ کے واسطے بھیج دئیے جاتے ہیں وہ اُنکو ملاحظہ کرنے کے بعد یا تو چاک\nکر دیتے ہیں یا اعلیٰ حضرت کے حضور میں روانہ کر دیتے ہیں بغرض جیسا اُنکے نزدیک مناسب\nمعلوم ہوتا ہے وہ کرتے ہیں۔ یہ محض غلط اور فضول ہے کسی کی مجال نہیں ہے کہ اعلیٰ حضرت\nکے نام کا خط یا درخواست کوئی اہل کار کھول سکے۔ اسکا یقین کرنا ایسا ہے جیسا کہ بعض\nحضرات حضرت جبریل علیہ السلام کے نام خط لکھ دیتے ہیں کہ میت حاملہ خط ہذا کو بموجب خط\nناپ کر جنت میں زمیں دے دیجئے گا۔\nہم نہایت ادب سے اُن ظلم رسیدہ حضرات کو جو ایسے اہلکاروں کے پنجۂ ظلم میں گرفتار\nہوئے ہوں یا اس وقت یا کبھی آئندہ ہوں مشورہ دیتے ہیں کہ بقاعدہ ذیل مقررہ دولت\nخداداد افغانستان وہ اپنی چارہ جوئی کریں ۔\nقاعدہ\nایک اشتہار اعلیٰ حضرت کی جانب سے اہل افغانستان اور دیگر ممالک کے لوگوں کو اطلاع\nدہی کی غرض سے شائع کیا گیا ہے کہ اگر اُن کو کسی ایسے شخص سے جو دولت خداداد افغانستا\nن"}
{"book": "adl0233", "page": 31, "text": "۲۰\n\nکی رعیت یا اُس کا ملازم یا ایجنٹ ہو کوئی نقصان پہونچے تو اُس کی اطلاع بغرض انصاف\nبقاعدہ مندرجہ اشتہار اعلیٰ حضرت کو کرسکے ۔ اس اشتہار کا نام عریضہ خریداری ہے\nاور یہ سرکاری طور پر مثل اسٹامپ قیمت ایک عباسی یعنے نصف روپیہ کابلی کو جو برابر\nچار آنہ دولتِ عالیہ برطانیہ ملتا ہے۔ ایک طرف اس اشتہار کے تمام قواعد وضوابط\nلکھنے اور اُسکے ارسال کرنے کی اور اُسکے جواب کی انتہائی مدت اور قیمت ٹکٹ جو\nدرخواست چسپان کرنا چاہئیے۔ وغیرہ درج ہیں اسی اشتہار کی پشت پر سایل کو اپنی\nدرخواست تحریر کر کے دس روپیہ کابلی کا ٹکٹ چسپان کر کے خاص اعلیٰ حضرت کے یا نایب السلطنت\nصاحب کے یا معین السلطنت صاحب کے حضور میں ارسال کرنا چاہئیے صرف یہ تین مقام مذکورہ\nاسکے واسطے مقرر ہیں ۔ درخواست رجسٹر پر چڑھ کر نمبر وار اعلیٰ حضرت کے خاص حضور میں\nپیش ہوتی ہے اور اُس کا معقول اور مدلل جواب اعلیٰ حضرت کا خاص دستخطی اور لکھا ہوا ہوا\nتاریخ ارسال درخواست سے چالیس یوم کے اندر سایل کو دیا جاتا ہے۔ اگر پیر و نجات سے\nدرخواست ارسال کی جائے تو محصول ڈاک سایل کے ذمہ ہے اگر سائل نے اپنا دعویٰ\nثابت کر دیا تو علاوہ اُس سزا کے جو اُس جرم میں ملزم کو برداشت کرنی ہوگی ٹکٹ درخواست\nوغیرہ خرچ بھی ملزم سائل کو ادا کریگا۔\nخندہ پیشانی\nشبیہ مبارک سے چہرہ کی بشاشت اور خندہ پیشانی اس طرح ظاہر ہے جیسے آفتاب سے نور\nعلاوہ ازین جولائی ۱۹۰۶ء میں مجھکو خود اعلیٰ حضرت کے دربار میں پیش ہونے کا موقع ملا۔\nدربار کی شان وشوکت سرداران افغانستان کی زرق برق وردیان اور انکی شاندار\nاور پُر وجاہت صورتیں ننگی تلواروں کی چمک دمک یہ ایسی چیزین ہیں کہ اعلیٰ درجہ کے بہادر"}
{"book": "adl0233", "page": 32, "text": "۲۱\n\nکے قلب پر بھی اثر کئے بغیر نہیں رہ سکتیں ۔ وہ پیش ہونے سے پہلے مترد ہوتا ہے کہ دیکھئے\nکیا پیش آتا ہے اعلیٰ حضرت کیا پوچھتے ہیں اور اپنی زبان سے کیا نکلتا ہے ۔ خدا جانے\nوہ کیا پوچھیں زبان اپنی سے کیا نکلے۔ لیکن اعلیٰ حضرت کے وجود مبارک پر نظر پڑتے\nہی وہ بشاش صورت خندہ پیشانی ان خیالات خوف کو ایسی دور کر دیتی ہے جیسے نور ظلمت\nکو اور خوشی رنج و غم کو ۔\nخلق\nیہ عام طور پر مشہور ہے کہ اعلیٰ حضرت نہایت خلیق ہیں غور کرنے سے یہ امر صحیح معلوم ہوتا ہے\nکیونکہ خلق صفات جبلیہ کو کہتے ہیں اور یہ ظاہر امر ہے افعال اختیاری تابع صفات ہیں۔\nجیسے انسان میں صفت ہوتی ہے ویسے افعال سرزد ہوتے ہیں مثلاً اگر سخاوت ہے تو داد\nودہش کی نوبت آئے گی ۔ شجاعت ہے تو معرکہ آرائی اور بزدلی ہے تو پسپائی ظہور میں آئیگی\nعلیٰ ہذا القیاس تو جب تعلیم و تربیت کا یہ حال ہو کہ تمام عمدہ عادتیں طبیعت ثانیہ ہو گئی ہوں ۔\nجیسا کہ ہم ثابت اور بیان کر آئے ہیں تو ظاہر ہے کہ اعلیٰ حضرت کا خلیق ہونا لازمی امر ہے۔\nمجھکو اسکا تجربہ ہوا ہے جب میں اول مرتبہ حضور اقدس میں پیش ہوا سلام مسنون عرض کیا تو\nنہایت الطاف خسروانہ سے پیارے لہجہ میں اُسکے جواب ہی پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ نہایت خلق\nسے مزاج پرسی فرما کر ارشاد فرمایا کہ تم میرے عزیز ہو میرے دوست ہو میرے مہمان ہو۔ مجھ کو\nہندوستانیوں کو دیکھکر مسرت ہوتی ہے ۔\nبیدار مغزی\nغالباً گذشتہ حالات پڑھکر ناظرین کو خود معلوم ہوگیا ہو گا کہ ایسے جامع کمال ذی علم\nوجود مبارک کے بیدار مغز ہونے کے کیا معنے تمام گذشتہ واقعات اور نظام سلطنت و"}
{"book": "adl0233", "page": 33, "text": "۲۲\nدولت خداداد افغانستان حبیس کالج و شفاخانہ اور سڑکوں کا انتظام راہ میں اعلی درجہ\nکی سراؤں کا تعمیر کرنا ہر قسم کے کارخانجات روز افزوں ترقی یہ تمام ثبوت بیدار مغزی کا ہے\nحضور یکلنسی رائیٹ انزیل گلبرٹ جان الیٹ ہری کینین مونڈل ارل آف منٹو ویسرے\nکشور ہند بہادر دام اقبالہ نے بھی بمقام پشاور اعلیٰ حضرت کے بیدار مغزی کی تعریف کی-\nجو درج اخبارات ہوچکی ہے۔\nمستعدی\nاعلیٰحضرت شب روز میں بہت کم آرام فرماتے ہیں سلطنت کے ضروری کاموں میں انتظام میں\nمصروف رہتے ہیں۔ کبھی کسی حالت میں نماز قضا نہیں فرماتے۔ عالیجناب مرزا عبد الرشید خان\nصاحب نے مجھ سے فرمایا کہ ہر وقت اور ہر حالت میں اعلیٰ حضرت کے ہمرکاب رہتا ہوں-\nمیں نے اپنی عمر میں نہیں دیکھا کہ اعلیٰ حضرت نے کبھی نماز قضا کی ہو۔ یہانتک کہ ایک\nمرتبہ ایسے علیل ہوئے کہ حس حرکت کی قوت باقی نہیں رہی۔ ایسی حالت میں بھی نماز\nقضا نہیں کی نہ کبھی روزہ ترک فرماتے ہیں۔ بغیر شد ضرورت کے تمام احکام خداوندی\nنہایت مستعدی سے ادا فرماتے ہیں۔ کیسا ہی سخت سفر پیش آئے وجود مبارک پر تکان\nکا اثر نہیں ہوتا چنانچه ماه جولائی ۱۹۰۵ء میں جب میں کابل پہونچا تو اعلی حضرت جبل سراج\nتشریف لیگئے تھے۔ ایک روز میں عالیجناب خلق مجسم قابل فخر افغانستان کرنل حبیب اللہ خانضا\n۵ خان صاحب موصوف نہایت قابل صد لایق اور ہمہ دان شخص ہیں۔ آپ کو ترکی عربی پشتو - فارسی اور\nانگریزی وغیرہ زبانوں پر ایسی قدرت ہے جیسی اپنی مادری زبان فارسی پر۔ آپ سلطان المعظم کے یہان\nپچیس سال بعهده سپرنٹنڈنٹی پولیس بمقام شام معمور رہ چکے ہیں۔ اب اعلیٰ حضرت نے اپنی خدمت میں\nطلب فرمالیا ہے- آپ نہایت خلیق با مروت مسافر نواز اور بزرگ شخص ہیں۔ اور سچ تو یوں ہے کہ ایسے ہی\nشخص دولت کو فخر اور نیک نامی کا باعث ہوتے ہیں۔"}
{"book": "adl0233", "page": 34, "text": "۲۳\n\nنائب عسس کی خدمت میں حاضر تھا۔ ایک غلام بچہ کرنل صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا\nاور بیان کیا کہ کل اعلیٰ حضرت جمعہ کی نماز دارالسلطنت کابل میں ادا فرماویں گے لیکن\nاُسی روز یعنے جمعرات کی شام کو تمام شہر کابل توپوں کی آواز کی گرج سے گونج اُٹھا دریافت سے\nتحقیق ہوا کہ اعلیٰ حضرت پچیس میل کا سفر بسواری اسپ طرّے فرماکر داخل دارالسلطنت کابل\nہوئے۔ اس سے زیادہ کیا مستعدی ہوسکتی ہے۔\nخداوند عالم اعلیٰ حضرت کے وجود مبارک کو اہل اسلام کے سر پر قائم رکھے۔ اور تمام آفات\nارضی و سماوی اور اُن حضرات کے اثر سے محفوظ فرمائے۔ جو ایسے مقدس وجود کو جو کروڑہا\nبندگان خدا کی حفاظت کی غرض سے پیدا کیا گیا ہے لہو اور لعب میں مصروف کرنا چاہیں۔\nع زندہ نماند ہرکہ نہ جوید فلاح او ؂\nدربار کے مختصر حالات\nاعلیٰ حضرت اکثر روزانہ دربار باغ ارگ میں فرماتے ہیں یہ باغ شہر کے کنارہ پر متصل قلعہ ارگ\nواقع ہے اسکے درمیان میں نہر ہے اس کی سرسبزی اور شادابی کی نسبت اتنا کہنا کافی ہے\nوہ تراوٹ کا اثر ہے کہ دمِ سیر چمن ؂ پانی دینے لگے یوسف کا یہان چاہ ذقن\nہفتہ وار فوجی دربار سلام خانہ میں ہوتا ہے۔ روزانہ دربار کا یہ قاعدہ ہے۔ دروازہ باغ سے\nشروع ہوکر تختِ شاہی تک دورویہہ فوجی سپاہی زرق برق وردیاں پہنے کھڑے رہتے\nہیں پیش ہونے والے کو ایشک آقاصی ملکی یا فوجی یا اور کوئی ایشک آقاصی جیسا کہ پیش ہونیوالے\nلہ تخت شاہی قوسی شکل میں مثل اُس کھلی اور کشادہ جگہ کی ہے جو دربار دہلی سنہ ۱۹۰۳ء میں تیار کی گئی تھی بلے دیار\nسے ایشک آقاصی کے معنے متروک عبدالرحمانی میں میر عرض بیان کئے ہیں ۔ اور غیاث اللغات میں داروغہ دیوانخانہ\nلیکن غیاث نے ظاہر کردیا ہے کہ یہ لغت نہیں ہے۔ بلکہ مصطلحات میں سے ہے اور دو لفظوں سے مرکب ہے۔\nایک ایشک جس کے معنے فضائی دروازہ ہیں اور دوسرا آقاصی جس کے معنے سردار کے ہیں۔"}
{"book": "adl0233", "page": 35, "text": "۲۴\nکے مناسب حال ہو۔ مہمان خانہ سے اپنے ہمراہ لے جاتا ہے۔ مہمان خانہ میں متعدد ہال\nہیں۔ اور مہمان کی آسایش و آرام کے واسطے ہر شے مہیا رہتی ہے اسی جگہ ایشک اقاصی\nآداب شاہی کی تعلیم دیتا ہے جو یہ ہیں ۔ اعلیٰ حضرت امیرالمؤمنین کے روبرو ادب سے جانا چاہیئے\nاور قریب پہونچکر قلب پر ہاتھ رکھ کر بغیر سر وگردن خم کئے سلام وعلیکم یا امیرالمؤمنین عرض\nکرنا چاہیئے۔ کیونکہ سر خدائے عزوجل کے حضور میں خم کیا جاتا ہے ۔\nامیرالمؤمنین اُس ذات اقدس کے بندگان میں سے ہیں۔ گفتگو صاف اور بلا تصنع ہو کوئی\nلفظ مثل خداوند وغیرہ کے خلاف شریعت اسلام نہ ہو بلکہ سلیس صرف اسقدر ادب کے\nساتھ جیسے اپنے کسی بزرگ خاندان سے کی جاتی ہے۔ اگر اعلیٰ حضرت نشست کیواسطے\nارشاد فرمائیں تو کرسی پر جو اسی غرض سے زیر سر مبارک بچھی ہوئی ہیں بیٹھ جانا چاہیئے۔\nورنہ کھڑے رہنا چاہیئے بلا ہاتھ باندھے ہوئے۔ غرض کوئی امر ایسا نہو جو مشابہ\nہوجائے اُس ادب کی جو مخصوص ہے خدائے عزوجل احکم الحاکمین ومالک الملک لاشریک لہ\nکے واسطے۔ اس کے بعد اگر پیش ہونے والا کچھ سامان نظر کے واسطے لایا ہے تو غلامان\nاُس کو پیش ہونے والے کے ہمراہ لے چلتے ہیں ورنہ صرف ایشک اقاصی اسی کو دربار\nمیں لے جاکر حضور میں پیش کرتا ہے۔ اعلیٰ حضرت زیب سریر خلافت ہوتے ہیں ۔ جو\nقوسی شکل کا بنا ہوا قد آدم بلند ہے جس کی سقف صرف ستونوں پر قایم ہے اور ہر\nچہار طرف سے کشادہ ہے۔ سقف وستون وغیرہ سنہری کام سے مغرق ہیں۔\nاعلیٰ حضرت کرسی پر دربار فرماتے ہیں۔ ایک خوشنما سنہری میز معہ ضروری سامان کے\nروبرو ہوتی ہے۔ ایک غلام بچہ پشت مبارک کی جانب سے چوکری یا مورچھل جو کچھ\nاُس خوشنمائے کا نام رکھا جائے جو اعلیٰ درجہ کے خوشنما جانوروں کے پروں سے"}
{"book": "adl0233", "page": 36, "text": "۲۵\nبنی ہوتی ہے جلتا رہتا ہے۔ تخت مبارک کے دونون بازؤں اور پشت کا افسران فوجی و غلام\nبچه زرق برق وردیان زیب تن کئے ہوئے حلقہ کئے رہتے ہیں۔ جو دور سے دیکھنے والے کو\nبقول شاعر یہ معلوم ہوتا ہے ع\nماہ کا مائہ میں ہوتا ہے چکورون کو یقین + کبھی انگڑائی جو وہ رشک قمر لیتا ہے\nہفتہ وار دربار سلام خانہ میں ہوتا ہے جو ایک نہایت خوشنما قدیم مغلیہ خاندان کی طرز کی\nعمارت کے مشابہ ہے۔ اسکا درمیانی ہال یعنے کمرہ اسقدر وسیع ہے جسمیں پندرہ سو\nکرسیان آجاتی ہیں۔ اس ہال کے صدر مقام پر وہی عمارت تخت مذکورہ بالا مختصر پیمانہ\nپر بنی ہوئی ہے جس پر شاہی کرسی ہوتی ہے باقی سر یہ مبارک سے قریب چھہ فٹ کے فاصلہ\nچھوڑ کر اراکین سلطنت و افسران فوج و حکام ملکی منصب داران وغیرہ کی درجہ بدرجہ\nسیدھی قطار میں کرسیان ہوتی ہیں۔ سلام خانہ کا باڈی گارڈ شاہی اور دیگر فوجی پلٹن\nکے سپاہی زرق برق وردیان پہنے برہنہ تلواریں لئے احاطہ کئے رہتے ہیں۔ صحن سلامخانہ\nمیں فوجی باجہ بجتا رہتا ہے۔ جس قدر فوج یا جن لوگوں کا ملاحظہ فرمانا منظور ہوتا ہے اُن کو\nبقاءدہ فوجی ایک دروازہ سے لیجا کر نظر کیمیا اثر کے روبرو ہوتے ہوئے نائب السلطنت حبیب\nیا معین السلطنت صاحب دوسرے دروازہ سے واپس لاتے ہیں۔\nنائب السلطنت صاحب زاد الله شوکته و حشمته و اقبالہ اس موقع پر بجائے اُس اپنے\nمقدس لباس عبا قبا کے فوجی وردی جس کی چک دمک نظر کو خیرہ کرتی ہے زیب تن فرمائے\nہوئے ہوتے ہیں۔ سلام خانہ کے جنگلے کے باہر خلقت کا ہجوم ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ جب\nہو لیتا ہے تب قابچی کھانا لاتے ہیں۔ اور وہ تمام اراکین سلطنت و افسران فوجی و غیرہ\nجو ہال کے اندر ہوتے ہیں اعلیٰ حضرت کے ہمراہ شریک طعام ہو کر سرفرازی حاصل"}
{"book": "adl0233", "page": 37, "text": "Kâbol, capitale\n(26-30)\nen urdu, hélas!\nSeulement\nBâgh-e Bâbur\nest décrit en\ndétail (28-30)"}
{"book": "adl0233", "page": 38, "text": "[BLANK PAGE]"}
{"book": "adl0233", "page": 39, "text": "کرتے ہیں۔\nاس موقعہ پر میری طبیعت پر ایک خاص اثر ہوا۔ حضرت ضیاء الملۃ والدین خلد آشیان\nکی شبیہ مبارک آنکھوں کے سامنے آ گئی۔ اور وہ تمام عنایات خسروانہ لینے اپنے ہمراہ\nچند مرتبہ کھانہ میں شریک فرمانا خاص الش اپنے دست مبارک سے مرحمت فرمانا یاد آکر\nطبیعت بھر آئے ۔ اور ایک خاص کشش محسوس ہوئی جو مزار مبارک کھینچ کر لے گئی۔\nرشتہ در گردنم افگندہ دوست  میبرد ہر جا کہ خاطر خواہ اوست\nاس لئے اس کے بعد کے واقعات میں نہیں بیان کر سکتا۔ غالباً اس کے بعد دربار برخاس\nہو جاتا ہے۔\nمختصر حالات کابل دار السلطنت افغانستان\nشہر کابل کی آبادی اور وسعت مثل دہلی کی ہے اکثر بازار پٹے ہوئے ہیں لینے ان کی\nسقف ہی مثل اون بازاروں کے جیسے مکہ معظمہ اور جدہ شریف کے ہیں فرق صرف\nمقصد کا ہے۔ یہاں سردے اور برف کی غرض سے ایسا کیا گیا ہے۔ اور وہاں گری\nاور تمازت آفتاب کی غرض سے ۔ بازاروں میں خلقت کی ہجوم کی وجہ سے چلنا دشوا\nہوتا ہے۔ سردے و انگور۔ سیب وغیرہ میوہ جات کے ڈھیر لگے رہتے ہیں۔ علی درجہ\nسردے کا نرخ دو پیسہ فی اثار رہتا ہے جس کی شیرینی کا مقابلہ بلا مبالغہ قند سے ہو سکتا\nہے۔ علی ہذا انگور کی ارزانی کی بھی یہی کیفیت ہے سیب کی ارزانی سے بڑھی ہے\nیہانتک کہ بعض وقت ایک پیسہ کے دس ملتے ہیں۔ بادام ۔ آلوچہ و زردالو وغیرہ\nبھی بہت ارزاں ہیں۔ ان کی کابل میں یہی کیفیت ہے جیسے ہمارے یہاں لینے"}
{"book": "adl0233", "page": 40, "text": "۲۷\nدہلی میں ھولی گاجر کی۔ کابل کا حُسن اور فارسی زبان کی شیرینی مسلمہ ہے۔ ان تمام امور\nمذکورہ بالا خیال کر کے ناظرین خود اندازہ کرسکتے ہیں کہ بازاروں کی رونق اور دلچسپی کس\nدرجہ پر ہوگی۔ میرے نزدیک تو اہل افغانستان کا یہ عام مقولہ کہ کابل گوشہ جنت نشان است\nنہایت صحیح اور درست ہے۔ افغانستان کے عام باشندون کے اطوار و عادات\nکے لحاظ سے میں دعویٰ کے ساتہ کہہ سکتا ہوں کہ بعد مکہ معظمہ و مدینہ منورہ بیت المقدس\nاسی ملکا درجہ ہے۔ ہر وقت کان میں اللہ رب العالمین کے نام مبارک کی آواز آتی رہتی ہے\nکھیتوں کی حفاظت کیجاتی ہے تو بآواز بلند کلمہ طیبہ پڑھا جاتا ہے۔ آپس کی گفتگو ہے\nتو ہر فقرہ میں یہ پیارا نام مبارک شامل ہے۔ لڑکوں کا کھیل ہے تو یہی ایک جا جمع ہو کر آیاتِ\nقرآنی پڑھے جاتے ہیں اور خوش الحانی کی بحث ہوتی ہے بوجہ احکام شریعت اسلام جاری و\nنافذ ہونے کے بدی کی طرف کسی کا خیال بھی نہیں جاتا۔ نیک عادات ان کی طبعیت\nثانیہ ہو گئی ہیں۔ جیسا کہ طبائع انسانی کا خاصہ ہے کہ جو عادت بضرورت اختیار کیجاتی\nہے وہ رفتہ رفتہ طبعیت ثانیہ ہو جاتی ہے بعض افغانی سردار یا اہل کار سرکاری یا عام\nلوگوں کی کوئی حرکت دیکھ کر اہل ہندوستان کا یہ خیال کر لینا کہ افغانستان میں بھی یہی حالت ہوگی۔\nنہایت غلط ہے یہ سب ہندوستان کی آزاد آب و ہوا کا اثر ہے۔ اور اگر شاذ و نادر ایسے اشخاص\nافغانستان میں بھی پائے جائیں تو ایسی چند مستثنے مثالوں سے قاعدہ کلیہ نہیں ٹوٹ سکتا۔ اور اگر\nبے یا نیک لوگوں کا انتخاب کیا جائے تو یقینی افغانستان میں فیصدی نیک اور پابند شریعت\nاسلام نوے قرار پائیں گے۔ اور ہندوستان اور دیگر از او ممالک میں فیصدی ایک نیک\nاور پابند مذہب انسان کا ملنا دشوار ہے ۔ ببیں تفاوت رہ از کجاست تا بکجا *\nعمارات شاہی اور باغات شاہی وغیرہ شہر کابل و نواح کابل میں اس کثرت سے ہیں کہ اگر"}
{"book": "adl0233", "page": 41, "text": "۲۸\n\nاس کا مفصل حال لکھا جائے تو اسکے پڑھنے اور لکھنے کو بہت زیادہ وقت کی ضرورت\nہے۔ عمارت کی طرز بجائے اسکے کہ میں بیان کروں۔ اعلیٰ حضرت ضیاء الملة والدین خلد\nآشیان کی تحریر نقل کئے دیتا ہوں جس سے ناظرین اندازہ کر لیں گے۔\nمیرے محل ایسے موقعوں پر بنائے گئے ہیں جہان سے ہر طرف نہایت خوشنما منظر دکھائی دیتا\nہے۔ جگہ کشادہ و ہموار ہے چہاروں طرف باغ و پھول ہیں اور اس انداز سے بنے ہوئے ہیں\nکہ ایک ہی عمارت میں موسم سرما میں گرم کروں کا انتظام ہو سکے اور گرما میں کھلے برآمدوں اور\nبڑی بڑی کھڑکیوں سے ٹھنڈا رہے۔ کرون کی ترتیب ایسی ہے کہ موسم بہار میں کلیون کا چٹکنا\nاور پھولوں کا کھلنا۔ خزان کی شاندار مختلف زرد رنگ موسم سرما کی چمکتی ہوئی برف اور شبہای\nماہتاب کا خوبصورت و دلربا منظر ان محلوں کا رہنے والا بآسانی دیکھ سکتا ہے۔ الخ ۔\nاور باغات میں سے صرف ایک باغ بابر کا حال میں بیان کرتا ہوں جس میں اعلیٰ حضرت سراج الملة\nوالدین خلد اللہ ملکہ نے کمال شفقت خسروانہ سے اس احقر کو برائے قیام ارشاد فرمایا تھا اسی پر\nناظرین اور باغات کو قیاس فرمائیں۔ باغ بابر کی نسبت یہ کہنا ؎\nاگر فردوس بروئے زمین است ٭ ہمین است و ہمین است و ہمین است\nبالکل درست اور واقع کے مطابق ہے۔ یہ باغ شہر کابل سے ایک میل کے فاصلہ پر زیر کوہ\nواقع ہے اس کی چہار دیواری چوبیس فٹ بلند ہے اس کی ساخت لاہور کے شالامار باغ\nسے ملتی جلتی ہوئی ہے۔ اسکے بارہ درجہ ہیں اور ہر ایک درجہ نیچے کے درجہ سے نو فٹ بلند ہے\nدروازہ کے اندر قدم رکھتے ہی سرسری نظر سے شاہی ٹھاٹھ معلوم ہوتا ہے جس کے ہر درجہ\nمیں سبز مخمل کا فرش بچھا ہوا ہے اور اُس پر مختلف رنگ کے ریشم کے پھولوں کا مشجر بنا\n؎۱ ترک عبدالرحمانی جلد دوم صفحہ ۹۹ ۔"}
{"book": "adl0233", "page": 42, "text": "۲۹\n\nہوا ہے۔ جابجا قرینہ سے بلوری بیٹھیک کے جھاڑ رکھے ہوئے ہیں سبز مخمل کی چھت گیری ہے۔\nجس میں انگور کے خوشے لٹک رہے ہیں بمناسب موقعوں پر سفید رنگ کے ستون قایم ہیں۔\nجن کے اوپر کا حصہ جو چھت گیری سے باہر نکلا ہوا ہے درخت نما ہے جس کے پتے پشت\nکی جانب سفید اور سامنے کی طرف سبز ہیں۔ لیکن پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو اور سرسبزی\nاور شادابی کا اثر اور فواروں کا خوش آیندہ آواز اور بید مجنوں کے درخت کی شاخوں کا ہوا\nسے لہرا کر کسی قدر باریک آواز پیدا کرنا اور چنار کے درخت کے پتوں کا جو چھت گیری لیئے\nانگور کی بیل سے باہر نکلے ہوئے ہیں ہوا کے صدمہ سے ٹوٹ ٹوٹ کر اوڑنا تھیٹر کے خیال کو\nغلط ثابت کرتا ہے۔ امور مذکورہ قدرت کی فیاضی اور انسان کی صناعی کا بین ثبوت اور نمونہ\nپیش کر کے ناظر کے خیال میں اس باغ کی عظمت اور وقعت پیدا کرتے ہیں۔ ہر درجہ کی شان\nاور ساخت جداگانہ ہے گیارھویں درجہ پر خوشنما کوٹھی ہے جو مالک باغ کی شاہی شان اور\nشوکت کا ثبوت ہے۔ کوٹھی کے سامنے خوشنما سنگ مرمر کا حوض ہے جس میں فوارے چھوٹ\nرہے ہیں۔ فواروں کا پانی حوض میں گر کر نیچے کے درجوں کے فواروں کو جاری رکھتا ہے\nاس حوض پر سے پلٹ کر دیکھنے سے جہانتک نظر کام کرتی ہے باغ کی وسعت معلوم ہوتی\nہے جس کی وجہ یہ ہے کہ نواح کابل اس درجہ سرسبز و شاداب ہے کہ اُس کی زمین کا ایک حصہ\nبھی میوہ دار درختوں سے خالی نہیں۔ اس جگہ کے دیکھنے سے دیوار باغ جس نے صحرائی\nحصہ اور باغ میں تفریق پیدا کی تھی نظر سے چھپ جاتی ہے اس لئے جہانتک نظر کام\nکرتی ہے باغ ہی معلوم ہوتا ہے۔\nبارھویں درجہ پر سنگ مرمر کی خوشنما مسجد ہے جس کی پیشانی کی عبارت بتا رہی ہے کہ ابوالمظفر\nشہاب الدین محمد صاحب قران ثانی شاہجہان بادشاہ نے مبلغ چالیس ہزار روپیہ کے خرچ سے"}
{"book": "adl0233", "page": 43, "text": "۳۰\n\n۱۰۱۶ھ میں تعمیر کی۔ اسکے صحن کے سامنے کسی قدر بلندی پر سنگ مرمر کی چار دیواری\nہے جس کے اندر سلطان محمد ظہیر الدین بابر خلد آشیان کا مزار ہے جس کے تعویذ پر\nاشعار ذیل کندہ ہیں\n\nپادشاہے کز جبینش یافتے نورالہ : آن ظہیر الدین محمد بود بابر پادشاہ\nبا شکوہ و دولت و اقبال عدل داد دین : داشت از توفیق فیض و فتح و فیروزی سپاہ\nعالم اجسام را بگرفت و شد روشن روان : بہر فتح عالم ارواح چون نور نگاہ\nشد چو فردوسش مکان رضوان برین تاریخ جست : گفتش فردوس دایم جای بابر پادشاہ\n\nمزار مبارک سے واہنی طرف ابوالمظفر نور الدین محمد جہانگیر پادشاہ ابن جلال الدین محمد اکبر\nپادشاہ کا مزار ہے جس کے تعویذ کی عمارت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بطور سیر و شکار\nیہان تشریف لائے تھے۔ اسی جگہ بقضائے الٰہی ۱۰۳۷ ہجری میں انتقال فرمایا۔ بائیں\nطرف مزار شریف کے خدیجہ الزمانی و خلد آشیانی نواب گوہر النسا بیگم بنت فردوس\nآرام گاہ عالمگیر ثانی پادشاہ کا مزار ہے جن کے سال وفات ۱۱۲۳ ہجری ہیں۔ اس\nخانقاہ کی چہار دیواری سے چند گز کے فاصلہ پر باغ کی چہار دیواری ہے اس کی\nپشت پر ایک عظیم الشان کوہ ہے۔ جسپر قلعہ بنا ہوا ہے زیر کوہ شہر کابل آباد ہے۔\n\nمختصر حال از پشاور تا کابل\n\nپشاور ایک مشہور شہر ہے اسکے تاریخی واقعات اور آبادی وغیرہ سے ہم بحث نہیں کر سکتے\n\n۱؎ بعض لوگ اس پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ شاہ موصوف کا مزار نواح لاہور میں ہے۔ میں تاریخی واقعات\nسے انکار نہیں کرتا۔ میں نے تو تعویذ مزار کی عبارت نقل کی ہے۔ باقی واللہ اعلم بالصواب :"}
{"book": "adl0233", "page": 44, "text": "۳۱\nالبتہ مختصر حال سفارت ہم بیان کرینگے جس کا تعلق دولت خداداد افغانستان سے ہے اس شہر کے مشہور بازار قصہ خوانی میں دولت خداداد افغانستان کا ڈاک خانہ ہے اور اُسی سے ملے ہوئے دیگر ضروریات کے مکان و مہمان خانہ وغیرہ ہے۔ اسوقت ڈاک خانہ وغیرہ کا انتظام عالیجناب غلام حیدر خان صاحب کے سپرد ہے جو ایک قابل اور ہوشیار نوعمر شخص ہیں۔ خان صاحب موصوف نہایت دیانت دار اور زمانہ حال کے ضروریات سے پورے واقف اور دولت خداداد افغانستان کے نہایت خیر خواہ ہیں۔ افغانستان کو ہفتہ میں دو مرتبہ ڈاک روانہ ہوتی ہے۔ قافلہ بھی دو مرتبہ یعنے پنجشنبہ اور دوشنبہ کو جاتا ہے سرکاری سامان کی روانگی کا بندوبست قافلہ باشی کرتا ہے اور باقی بطور خود سواری اور سامان کے واسطے اکثر گھوڑے کرتے ہیں۔ لیکن شتر اور گدھے پر بھی سامان جاتا ہے۔ پشاور میں مسافروں کے قیام کے واسطے سرائے و ہوٹل وغیرہ مثل دھلی یا جس طرح اور شہروں کا دستور ہے سب کچھ موجود ہے۔ بیرون شہر ایک سرکاری سرائے ہے جسمیں مسافر قیام نہیں کر سکتے صرف مال رکھ سکتے ہیں۔ ایک کوٹھری کا کرایہ چھ پیسہ چوبیس گھنٹہ کے واسطے مقرر ہے۔ اس سرائے کی چھت اور دروازہ وغیرہ پر سرکاری پہرہ رہتا ہے۔ سامان کے چوری جانے کا بالکل اندیشہ نہیں ہے قافلہ پشاور سے روانہ ہو کر جمرود ٹھیرتا ہے جو نو میل پر واقع ہے۔ جمرود تک ریل بھی گئی ہے۔ اس جگہ سرکاری قلعہ اور ایک بہت بڑی سرائے مسافروں یعنے قافلہ کے واسطے بنی ہوئی ہے۔ علی الصباح جمرود سے قافلہ روانہ ہوتا ہے سرکاری محصول ہر شخص کو ادا کرنا ہوتا ہے جو فی نفر چار آنہ اور فی اسپ ایک روپیہ۔ خواہ سواری کا ہو یا اُس پر سامان ہو یا کوتل ہو مقرر ہے اس جگہ سے قافلہ کے ہمراہ سرکاری"}
{"book": "adl0233", "page": 45, "text": "۳۴\nفوجی گارد مسلح ہوتا ہے۔ اور راہ میں جابجا گارد کے واسطے چوکیاں بنی ہوئی ہیں جنیر مسلح\nگار درہتا ہے۔ صرف سڑک ہماری گورنمنٹ یعنے گورنمنٹ عالیہ برطانيہ کے قبضہ میں ہے۔\nاور اُس کا گردونواح خود سر آفریدیوں کے قبضہ میں ہے مسافروں کو کسی قدر راستہ میں\nپانی کی تکلیف ہوتی ہے۔ جس کے رفع کے واسطے پشاور سے مشکیزہ یا گلی کوزہ لے لیئے جاتے\nہیں۔ جمرود سے لنڈی کوتل قریب بیس میل کے ہے۔ دو بجے قافلہ لنڈی کوتل پہونچتا ہے۔\nنصف راہ پر علی مسجد واقع ہے جس کی نسبت عوام میں مشہور ہے کہ حضرت سیدنا علی رضی اللہ\nعنہ کی بنائی ہوئی ہے اس مقام پر چشمہ پانی کا جاری ہے۔ لنڈی کوتل میں بھی سرکاری قلعہ\nاور سرائے ہے اس جگہ سے بھی علی الصباح قافلہ روانہ ہوتا ہے۔ اور پانچ میل پر پہونچکر\nروات خدا داد افغانستان کی فوجی گارد کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ اسی مقام سے عملداری\nافغانستان شروع ہوتی ہے۔ اسی جگہ سے قریب سات میل کے دکّہ ہے یہ ایک چھوٹا\nسا موضع ہے جس میں عظیم الشان سرائے اور مہمان خانہ بنا ہوا ہے ایک کمانیر یعنے\nسرہنگ معتین سو سواروں کے رہتا ہے یہ لب دریائے لنڈا واقع ہے جو وسعت اور\nپانی کی افراط کے لحاظ سے گنگا و جمنا سے بڑا ہے۔ یہاں ضروریات کی ہر شے ملتی ہے اور\nصرف مال پر محصول سرکاری لیا جاتا ہے اس جگہ سے قافلہ کی ضرورت نہیں رہتی۔\nجس کا جب جی چاہے چلا جائے۔ راہ میں کسی قسم کا خوف نہیں ہے۔ دکّہ سے کابل\nتک چھ چھ کوس کے فاصلہ پر عظیم الشان سرائے بنی ہوئی ہے جس کی وضع قلعہ جیسی ہے\nاور دو ہزار فوج یا مسافر بآرام بسر کر سکتے ہیں کرایہ سرائے فی نفرد و پیسہ ہے۔ ضرورت\nله راہ کابل میں سب سے زیادہ سخت اسی جگہ کا سفر ہے اگر پشاور سے گھوڑا گاڑی میں جائے تو ارام سے طے\nہو جاتا ہے۔ پوری گاڑی کے واسطے چھ روپیہ ہے اور فی سواری دو روپیہ ہے *"}
{"book": "adl0233", "page": 46, "text": "۳۳\nکی ہر جگہ ہر شے ملتی ہے اگر ایک ایک منزل کی جائے تو جلال آباد تک راہ میں دو جگہ\nٹھیرنا پڑتا ہے۔ ایک باسول دوسری گردی کش۔ جلال آباد میں چھاونی ہے۔\nاعلیٰ حضرت کا عظیم الشان باغ اور کوٹھی ہے۔ جلال آباد سے کابل کے دو رستہ ہوگئے\nہیں۔ ایک اُوپر کا رستہ کہا جاتا ہے دوسرا نیچے کا۔ اوپر کا راستہ سرد ہے۔ لیکن نہایت\nسخت ہے۔ اس کی منزلیں یہ ہیں۔ جلال آباد سے فتح آباد۔ گندمک۔ جگدلک۔ بارکو\nسیح ملاں عمر۔ بت خاک۔ کابل۔ نیچے کا رستہ صاف وہموار ہے۔ اور دریا کے کنارہ\nکنارہ کابل تک برابر سڑک بنی ہوئی ہے۔ یہ ہندوستانیوں کے واسطے بہتر ہے\nاس کی منزلیں یہ ہیں۔ جلال آباد سے۔ کچ محمد علی خان۔ کاکچہ۔ سروبی۔ گوگامونڈہ\nپل چرخی۔ کابل۔ شہر کابل میں ناواقف مسافر کو سرائے میں قیام کرنا چاہئیے جو کہ\nکثرت سے موجود ہیں۔ اور کم خرچ سے اُس میں مسافر بآرام بسر کر سکتا ہے۔ شروع\nشروع میں کھانے کی احتیاط چاہئیے میوہ جات یا گوشت وغیرہ کثرت سے نہ کھانا\nچاہئیے۔ جو صاحب سگرٹ وغیرہ کی عادت رکھتے ہوں اُنہیں بقدر ضرورت\nہندوستان سے اپنے ہمراہ لیجانا چاہئے۔ کابل میں بہت زیادہ قیمت پر بکتے ہیں\nاگر اہل ہند کو کسی قسم کی دقت یا تکلیف ہو تو اُس کا دفعیہ حضرت مولانا مولوی نجف علی\nصاحب انسپکٹر مدرسہ حبیبیہ کا وجود مبارک ہے مولانا صاحب نواح لاہور کے رہنے\nوالے ہیں اور بغیر کسی طمع کے صرف محبت وطن کی وجہ سے اہل ہند کو بہت زیادہ\nآرام پہونچاتے ہیں۔ بندہ کو باوجود مہمان شاہی اور ہر قسم کا سامان مہیا ہونے کے\nحضرت موصوف کی ذات بابرکات سے بہت کچھ آرام پہونچا جس کا میں انشا اللہ\nتعالیٰ تا زیست ممنون و مشکور رہوں گا۔"}
{"book": "adl0233", "page": 47, "text": "۳۴\nمیرے ذاتی تعلقات افغانستان سے\nالحمد للہ بندہ کو اعلیٰ حضرت ضیاء الملة والدین خلد آشیان اور حضرت سراج الملة\nوالدین خلد اللہ ملکہ اور حضرت نائب السلطنت صاحب زاد اللہ شوکتہ و حشمتہ کی\nقدمبوسی کا فخر حاصل ہے جس کے ثبوت میں ہر ایک وجود مقدس کے فرمان مبارک\nکی ایک ایک نقل درج ذیل ہے *\nنقل فرمان مبارک اعلیحضرت ضیاء الملة والدین خلد آشیان علیہ الرحمتہ\nعالیجاہ عزت مند صداقت شعار خیر خواہ حاجی محمد خان تجار ساکن خوجہ علاقہ دہلی\nواضح اینکه عریضہ ارسالی شما که مشتملبر تعریف یک عدد انجن اعلیٰ بود بحضور اقدس والا\nرسید معروض داشته بود که در اخبارات دیده شده که یک عدد انجن از مال دولت\nخدا داد در موضع خیبر افتاده شکسته بنابران یک عدد انجن که تیار موجود در نزد خود داشتم پیشکش\nحضور والا نمودم بکدام کاردار تحویل شود و نیز سه عدد انجن که در زیر کار است و تیتا تیار\nشد آنهم پیشکش حضور وانمال دولت قوی شوکت می باشد فقط عالیجاها دانسته خاطر\nہمایونی گردید ضمیر پاک سلمانی و دینداری و خیر خواہی شماه رای جهان مطاع گردید\nاز خداوند تبارک و تعالی جل علیٰ شانہ خواسته ام در هر دو دنیا از برای شماه اجر عظیم عطا فرماید\nانشاء اللہ تعالیٰ ببرکت دین متین سرور کائنات با چنین شخصی مسلمان در هر دو دنیا نعمت عظمیٰ\nنصیب است و رباب همان انجن که افتاده شکسته بود بدار السلطنت آورده شد\nآباد گردید که حالی چالان است و کامرسید بر کارخانجات دولت خدا داد قوی بنیا از فضل\nخداوندی از هر قسم کارخانه موجود و مهیا است که از هیچ اسباب کمی ندارد و در باب انجن شماه"}
{"book": "adl0233", "page": 48, "text": "۳۵\nالبته اگر حاجت و ضرورت شود در گرفتن آن هیچ حرفی نبود۔ لاکن از همه اقسام کارخانه\nحاضر است آوردن آن ما موجب تکلیف و زحمت می شد فقط۔ در اول بهار از همه\nکاریگرہای فہمیدہ و قابل نزد خود شده که هر کار بدانند بحضور مبارک ارسال کنید\nو تنخواہ ہر کدام شان را بقدر لیاقت شان خود شاہ بفرستید که در اینجا نگهداشته شود\nو کاریگرہای کابلی از انہا چیزی یاد بگیرد بقرار تجویز خود شاه از برای شان تنخواه مقرر شود\nباقی معزز باشند. تحریر یوم پنجشنبه ۱۲ شهر جمادی الثانی۔\n۱۳۱۴ طرا\nنشان مہر مبارک\n[Seal]\nدستخط محمد اسلم ضیائی میرزا پوری"}
{"book": "adl0233", "page": 49, "text": "۳۶\nنقل فرمان حضرت سراج المله والدین خلد الله ملکه و اقباله\n\nہو\nعزتمند اخلاص شعار دولت خداداد افغانستان حاجی محمد خان ساکن خورجه ضلع بلند شہر\nہندوستان را واضح خاطر باد۔ عریضه مورخه ۲۳ ماه ربیع الاول ارسالی شما بشرف ملاحظه\nسرکار همایون والا پیوست معروضداشته بودید که اینجانب قبل ازین چند قسم نقشه های ماشین ها\nرا که از چغندر انگور و سروه قند برآورده می سازند و از ملک جاپان و امریکه خواسته بودم\nبحضور مبارک ارسال داشته بودم از حضور گذارش نیافته و حال چند تکه نمونه های\nپارچه بافی ابریشمی و پشمی را که حساب ساخت و فروش آن در پارچه ها مندرج است\nو از ماشین های جاپانی مصنوع شده است که از قوت برقی یا بذریعه انجن کا مید هند\nنزد اینجانب موجود است هرگاه برای کارخانه جات دولت خداداد افغانستان بکار\nباشد انشاء الله تعالی بآسانی یک ست آن بکابل میرسد چون اینجانب خود را مسلمان\nمیدانم و میخواهم که فائدہ های کلی بدولت خداداد اسلام عاید گردد و باعث سعادت\nدارین فدوی گردو از مضمون عریضه شما سرا پا اطلاع حاصل گردید و تکه های پارچه\nنمونه های ارسالی شما بحضور انور والا رسید۔ عزت منداسر کار والا از طریقه مسلمانی و"}
{"book": "adl0233", "page": 50, "text": "۳۷\nدینداری شما شکر کامل و خورسندی تمام حاصل گردید البته کسی که مسلمان است باید\nدر ترقی باقی مسلمانان ساعی باشد. در باب سررشته خواستن ماشین بافت\nبافی و غیره ماشین ہائے شما تا یک دفعه خود شما بدارالسلطنت کابل بحضور مشرف\nنہ شوید ایں امر مراسلات و جواب که از حضور در آنولا با شما کرده شود ممکن ندارد آمدن خود\nشما یک دفعه بحضور مبارک ضرور است چوں درین وقت ہوائے افغانستان ہم خوب\nمے باشد. یک دفعه ضرور مع الینر عازم دارالسلطنت کابل مے شوید. و از حضور\nمبارک یک قطعه فرمان باسم عالیجاه میرزا غلام حیدر خان سررشته دار ڈاک خانہ\nاسلامیه پشاور اصدار گردیده که ہروقت که شما عازم حضور شوید از پشاور رشته\nآمدن شما را نام برده کرده و شما را بحضور مبارک بدارالسلطنت کابل روانه بدارد\nانشاء اللہ تعالیٰ بحضور که حاضر شدید در باب ماشین ہا مواجہتاً با شما حرف زده\nخواهد شد فقط ۔\nفی تحریر پنجشنبه ماه ربیع الثانی یوشرم ۱۳۲۷ =\nسراج الملة والدین امیر افغانستان"}
{"book": "adl0233", "page": 51, "text": "۳۸\n\nنقل فرمان مبارک نائب السلطنت صاحبان اللہ شوکہ حشمتہ\n\nہو\n\nعالیجاه عزت نشان میرزا غلام حیدر خان سررشتہ دار ڈاک خانہ اسلامیہ پشاور\nرا واضح خاطر باد که عزتمند حاجی محمد خان خوجه ملک هندوستان را از حضور حضرت\nسراج الملۃ والدین مرخص شده بوطن خود میرود در وطن خود رسیده از کوائف ماشین ها\nو غیره بذریعہ عرایض وقتاً فوقتاً بحضور مبارک سرکار والا یا بحضور عالی نائب السلطنت\nما اطلاع خواهد داد انشاء اللہ تعالیٰ و بعض اسباب را بذریعہ پارسل بطور نمونه بحضور\nسرکار والا یا بحضور عالی ما ارسال خواهد نمود. و بعض مراسلات خاص ضروری را بدست\nآدم خود بجهت شما ارسال خواهد نمود۔ لہذا برای شما امر و ارشاد می شود که مراسلات\nو یا پارسل ہائے مرسولہ عزتمند موصوف را بلا معطلی روانہ دارالسلطنت نمایند۔\nو فرامین ای عزتمند موصوف فرستاده شود آنها را بذریعہ ڈاک انگریزی ارسال\nبدارید و درین باب انشا اللہ تعالیٰ تاکید بدانید فقط یوم شنبه ۲۵ ماہ رجب المرجب\n۱۳۲۴ ھ۔\n\nنصر اللہ نائب السلطنت۔"}
{"book": "adl0233", "page": 52, "text": "۳۹\n\nنقل اشتهار اعلی حضرت سراج الملۃ والدین خلد اللہ ملکہ\nجو ہندوستان کی تشریف آوری کے متعلق مشتہر کیا گیا\n\nنشان دولت قوی شوکت خدا داد افغانستان\n\nبر ضمایر اخلاص مظاہر معتبرین و منصب داران و صاحبان منصبان نظامی و ملکی و خوانین\nو جمیع رعایای دولت خداداد افغانستان پوشیده و مخفی نماناد چون سرکار و آلا\nما شما مردم افغانستان را تخم شریک دین شریک دولت شریک دانسته و میدانیم و\nنمیخواهیم که در هیچ امور ملکی و ملتی شمایان نا واقف بوده باشید چنانچه در سنه\nگذشته میلان سل ۱۳۲۳ هجری که دوست محبت نشان سرلویس ڈین با جمعیتی از\nطرف دولت هم عهد شما برای استحکام عهد نامه سابقه شما بحضور انور والای\nما حاضر شده و استحکام مذکور را بعنوان سابق از طرفین محکم نمودیم و از برای استحضار خاطر"}
{"book": "adl0233", "page": 53, "text": "شمایان بطریق اختصار اطلاع داده بودیم که جمیع شما اقوام از فقره مذکوره آگاه خواهید بود حال چون از راه اتحاد و هم عهدی دولتی از طرف دولت هم عهد شما که دولت بهیه برطانیه باشد خط و مراسله بقسم دعوت دوستانه و مهمانی و سیر و شکار علاقه ہند برین مضمون رسیده که چون عهد نامه طرفین در سال گذشته تمام شده و استحکام پذیرفته هرگاه از راه اتحاد دوستی و دولتی و هم عهدی تشریف آور باین علاقه شده بعد از ملاقات دوستانه و سیاحت هندوستان و شکار بازگشت مراجعت در علاقه خودها خواهد نمودید- لہذا چون قبولی چنین دعوت و ادائی آن از طرف دولت و ملت ضروری باشد لہذا دعوت شان را رو نموده قبول فرمودیم و وعده نمودیم که انشا الله خدا بخواہد در غره ماه ذیقعدہ الحرام ۱۳۲۴ ہجری از مقام جلال آباد روانہ شدہ چند یوم ادائے آن ضیافت را نموده بخیر باز گشت در مسکن مقام خودها انشاء اللہ تعالیٰ خواهد فرمودیم- لہذا لازم و ضرور دانسته شمایان را ازین دعوت واقف نموده بسیار خاطر جمعی میدهیم که الحمداللہ عهد نامہ شمایان و مطالب دولتی آنچه کہ بودہ در سال گذشته تمام شده این دعوت و قبولی صرف از برائے دوستی می باشد زیاده از خداوند تعالیٰ بہر حال شمایان را مرفه الاحوال خواهانم فقط تحریر یوم سہ شنبہ سلخ ماه جمادی الثانی سنه ۱۳۲۴ ہجری نبوی۔\n\nناظرین سے امید ہے کہ عبارت کے نقص اور چھپائی و غیرہ کی غلطیوں کو معاف فرمائینگے۔ کیونکہ صرف دوروز میں مسودہ لکھ کر کاتب کو دیا گیا اور ایک ہفتہ میں کتاب چھپ کر تیار ہوگئی ۔ فقط  اللهم تمم بالخیر  حاجی محمد خان ساکن خورجہ مؤلف کتاب ہذا ۔"}
{"book": "adl0233", "page": 54, "text": "بسم الله الرحمن الرحیم\nترجمه ذکر شاه اسلام\nالتماس و عذر مولف\nالحمدلله که حضرت پادشاه دین پناه السلطان ظل الله سراج الملة والدین امیرالمومنین حبیب الله خان\nوالی دولت خداداد افغانستان خلدالله تعالی ظلال خلافته مهمان شهنشاه دولت عالیه برطانیه\nگشته ملک هندوستان را از قدوم میمنت لزوم خود رشک ارم گردانیده است و گورنمنت برطانیه\nعالیه به مهمانی آن اعلی حضرت نقد و جنس را فرش خاک ساخته و ضیافت را بحد کمال رسانیده\nاست لہذا خیال بنده همین بود که شخصی قابل و لایق در اخلاق ستوده و اوصاف پسندیده آن\nامیرالمومنین چیزی تالیف نمود و مسلمانان ہند را خوش وقت و مسرور گرداند که تشریف\nآوری امیر المومنین امری معمولی نیست بنده خیر خواه ہر دو دولت عالیه را تا ایندم\nمعلوم نشده است که احدی از تاجداران عالم باین صولت و حشمت مهمان هندوستان\nشده باشد لله الحمد که این فخر اولاً ہندوستان را حاصل شده است لیکن تا ایندم نه\nشنیده ام که احدی از افراد مردمان قابل و لایق اوصاف و اخلاق آنحضرت را تالیف\nنموده شایع کرده باشد لہذا فدوی خاص را همین خیال دامن گیر شد که بر اوصاف\nچنین ذات که بہمہ اوصاف موصوف است و وجود مبارکش نه افغانستان بل سائر\nمسلمانان را نمونه رحمت الهی است لہذا بحکم کل شی یعرف باوصافها به نوشتن حالات آن"}
{"book": "adl0233", "page": 55, "text": "۲\nانحضرت قصد نمودم اگرچه بنده قابل تالیف اوصاف آن عالی صفات نیست و وقت\nهم کمتر است که چنین تصاویر را فراهم نماید که شان و شوکت بارگاه شاهی ازان ظاهر\nشود و نه در قلم مضامینی دارم که اوصاف ذات اقدس را محیط شوند و در تالیف معلوم\nبودن حالات صحیحه امر ضروریست و ایجابات ذهنی را درو دخلی نیست و نه بنده\nبرای این کار اہم آمده بود اگر پیش ازین دانستی همه اسباب مذکوره را به سهولت در\nدارالخلافت کابل فراهم می ساخت لیکن دانسته بودم که احدی از نمک پروردگان\nدولت علیه که در ملک هندوستان هستند و از زبان اردو هم واقعیت کامل میدارند\nدرین کار تساهل نخواهند کرد لیکن امر اتفاقی است که آن نمک پروردہ دولت علیه\nباین طرف توجه نه نمودند پس من نا قابل نا واقف را فراگرفتن انجام این خدمت افتاد\nبغایت متحیر هستم که چگونه اوصاف حمیده آنحضرت را در ضبط تحریر آرم که مضمون نگاری\nرا سلیقه ندارم و آن اوصاف شاہانه را که در اقامت کابل شنیده بودم از حفظ من\nبدر رفته است و چیزی ازان محفوظست نام راویان ایشانرا یاد ندارم و درین زمانه\nهیچ تحریر و تقریر بلا ثبوت اعتباری ندارد پس درین حالت چنین مناسب بود که\nمثل ایشان خموشی کردی و فوائد ذاتی فکر کردی لیکن تعلق طبیعت را که بآن دولت\nعلیه هست چکنم بقول شاعر که گفته است ع\nمحبت است که دل را نمیدهد آرام اوگر نه کیست که آسودگی نمیخواهد\nلهذا از ناظرین خود امید عیب پوشی داشته انچه که مرا معلوم است بزبان ناقص\nخود تحریر مینمایم که وجود شی از عدم آن بهتر است-\n(بنده حاجی محمد حسن)"}
{"book": "adl0233", "page": 56, "text": "دیباچہ مؤلف\n\n۱۹۰۷ء برائے مسلمانان ہندوستان بسامیمون و مبارک است کہ اہل ہند مابین\nبادشاہ اسلام و شہنشاہ خود و انگلستان مودت قلبی و اتحاد ذاتی را عیاناً می بیند نزد اہل بصیرت\nاین امر باعث مسرت بے اندازہ است زیرا کہ ہر یکے از مذہب خود تعلق قلبی میدارد پس\nدر چنین حالت میلان طبیعت مسلمانان بطرف بادشاہ اسلام امرے فطری است\nو همچنین خاصہ طبیعت انسانی این است کہ در سایہ عاطفت کسے کہ پرورش می یابد\nو حیات مستعار را براحت و آرام میگزار و از وجود او تعلق قلبی میدار د و این امر اظہر\nمن الشمس است کہ تاج برطانیہ بہمہ اکناف عالم روشن و منور ستاره عدل و انصاف\nاست بہمہ اہل ہند خصوصاً مسلمانان در ظل عاطفت شہنشاہ برطانیہ براحت و اطمینان\nعمر خود میگزارند بدینوجہ ایشانرا با دولت علیہ برطانیہ مودت و اتحاد قلبی امر لازمی است\nپس ازین معلوم میشود کہ مسلمانان اہل ہند را با ہر دو سلاطین اتحاد خاص و محبت قلبی\nاست و ازین هیچ بر تر است کہ میان ہر دو شاہان اتحاد و یگانیت را عیاناً مشاہدہ میکنند\nو خیال بعض نا عاقبت اندیشان همین است کہ اگر ملیان در تعریف و توصیف امیرالمؤمنین\nچیزے بر ایند یا از ایشان تعلق دارند پس باعث ناراضی دولت علیہ برطانیہ باشد\nنزد ما این خیالات هیچ وقعتی ندارند زیرا کہ این عزت و ترقی افغانستان از امداد و\nتوجہ دولت برطانیہ است پس در نیصورت بسا تعجب است بر عقل آن مدبران کہ چنین\nتعلقات میان ہر دو دولت می بینند و این خیالات فاسدہ را در دل میدارند با اینکه\nدولت برطانیہ ایشانرا جہان خود کردہ است و در اعزاز و اکرامش هیچ امرے فرو\nنگذاشتہ است پس اگر مردمان ہندوستان جہان شہنشاہ خود را عزت و احترام"}
{"book": "adl0233", "page": 57, "text": "۴۴\nکنند و به نظر محبت بیند چگونه ایشان مخالف دولت برطانیہ شمار کرده شوند\nبقول حضرت ضیاء الملته والدین خلد آشیان علیہ الرحمتہ قصد دارم که بیملک ندوستان\nروم و از ویسراے تعلقات دوستانه پیدا کنم تا که بر همه عالم آشکارا شود که امیر\nافغانستان باینکه خود مختار حکمران است خلاف معمول با قلیل جمعیت از ملک خود\nسفر کرده براے ملاقات نائب و پسر ملکہ انگلیشه به هندوستان میرود تا که ازین\nظاهر شود که میان هر دو اقوام چه قدر اتحاد و تفاق است و ہر یکے را بر دیگری اعتبار\nو اعتماد کلی است ازین تردید افواه خواهد شد و ظاهر میشود که میان سلطنت\nافغانستان و انگلستان مودت صادق و اتحاد خالص است و ازین امر صولت\nو عظمت دولت انگلیشه زیادہ میشود و عموماً این امر آشکارا شود که حفاظت و\nاستحکام ہندوستان و افغانستان بر این منحصر است که میان ہر دو دولت\nاتفاق و اتحاد قایم ماند۔ الخ۔\nبعضی از مردمان چنین میگویند که این اتحاد و اتفاق که میان ہر دو دولت قایم است\nچه عجب که آینده منقطع شود پس نزد ما فلفه ایشان مطابق آن ملازم است که برائے\nتیمار داری آقای خود معمور بودی مکالمه هر دو درج ذیل است۔\nآقا۔ درین وقت ناجور هستم ڈاکٹر را بیارید۔\nملازم ۔ چہ عجب کہ ڈاکٹر بخانہ نباشد۔\nآقا۔ میدانم که او بخانه هستند۔\nملازم ۔ اگر بخانه باشند چه عجب که آیند یا نه آیند۔\nآقا۔ یقیناً می آیند۔\nملازم۔ چه عجب که نزد ایشان دوائی نباشد۔\nله تزک عبد الرحمانی جلد دوم صفحه ۱۱۵"}
{"book": "adl0233", "page": 58, "text": "۵\n\n- آقا - دوا هم میدارند -\n- ملازم - چه عجب که دوا اثری نکند -\n- آقا - یقیناً اثری کند -\n- ملازم - چه عجب که جناب را مرض الموت باشد -\n- آقا - میدانم که مرا مرض الموت نیست -\n- ملازم - آخر شما را از دنیا مفارقت ضروری است یا نه اگر هست پس باین امر چه\nفرق است که دُوروز قبل میرند یا دوروز بعد اگر فلسفه و چه عجب ایشان را بفرض\nمحال تسلیم کرده شود پس مایان آن محبت و اتحاد را که از دولت افغانستانی داریم\nبوقت نا اتفاقی ہر دو دولت منقطع خواهیم کرد و اگر بر چه عجب هر عملی که کرده شود\nپس همه امورات دینی و دنیاوی را ترک باید کرد زیرا که در هر کاری امکان عجب\nممکن است لہٰذا از ہر نوع مناسب معلوم میشود که اخلاق حمیده و اوصاف\nستوده آن مہمان عالی را برای ملاحظه ناظرین پیش کرده شوند خالی از دلچسپی\nنباشد فقط"}
{"book": "adl0233", "page": 59, "text": "ذکر شاه اسلام\nاعلی حضرت امیرالمؤمنین خلدالله ملکه سلفاً فرزند رشید حضرت ضیاء الملة والدین امیرعبدالرحمن خان\nخلدآشیان علیه الرحمة و حکماً نبیره احمد شاه درانی و تاریخاً نوه سلطان محمود غزنوی هستند.\nولادت حضرت امیرالمؤمنین خلدالله ملکه دوشنبه ۲۸ ساله شده است حالا عمر مبارکش سی\nو پنج ساله است تعلیم و تربیت در سایه عاطفت حضرت امیرالمؤمنین ضیاء الملة والدین\nخلدآشیان علیه الرحمة یافته که بعقل و فراستش همه عالم معترف اند بقول مؤلف تزک\nعبدالرحمانی نزد من در ثبوت این امر که امیرعبدالرحمن خان از لایق و بزرگ ترین اشخاص\nزمانه هستند ضرورت تضیع اوقات نیست زیرا که آن همه مدیران زمانه که با علی حضر\nشرف باریابی حاصل کرده اند معترف به بزرگی و مدبری ایشان شده اند و حق امنیت\nکه آن کامیابی ها که ایشان را بزمانه خود حاصل شده است نظیری ندارد زیرا که ملک\nافغانستان پیشتر خطه ویران و پر از اقوام وحوش بود لیکن آن اعلی حضرت علیه الرحمة از\nقابلیت و لیاقت خداداد خود ملک افغانستان را منبع صنعت و حرفت\nو مرکز علوم جدیده ساخته و اقوام افغانیان را از زیور تهذیب و اخلاق و مدبری\nو دانش مزین کرده و سلطنت را سلطنت اسلامی ساخت - الخ\nفی الحقیقت خدای عزوجل در وجود مبارکش اعلی قابلیت از امور دینی و دنیاوی\nآفریده است از اینجا مختصراً حالات آن جلالت مآب خلدآشیان امیرعبدالرحمن خان\nبرای دلچسپی ناظرین و برای اینکه ازین اندازه مدبری و جهانداری اعلی حضرت امیرالمؤمنین\nامیر حبیب الله خان خلدالله ملکه که بسبب تعلیم و تربیت اعلی حضرت خلدآشیان\nایشانرا حاصل شده است بر همه عالم ظاهر گردد."}
{"book": "adl0233", "page": 60, "text": "۷\nمختصر از حالات خلد آشیان\n\nاولاً آن اشعاری چند در وصف اعلیٰ حضرت خلد آشیان که از تصنیف یکی از اهل الله\nهستند تحریر میکنم:-\n\nآمده سروری از دودۀ عالی افغان\nقوم ابدال شرف یافت از آن قطب زمان\n\nآن ضیا ملۃ دین زیب سریر کابل\nحامی دین متین نائب سردار رسل\n\nظل یزدان بزمین خسرو اهل ایمان\nمظہر رحمت حق ماہر شرع و عرفان\n\nاندازۀ جمعیت و غیرت اسلامی آن اعلیٰ حضرت علیه الرحمة اکثر از صفحات تزک امیری ظاهر میشود\nبنده در اینجا برائے ملاحظه ناظرین عبارتی از تزک عبد الرحمٰنی که از قلم زبان معجز بیان اعلیٰ\nحضرت که به تحریر آمده است نقل میکنم:- مطلقاً مایان را از جفاکشی تکلیف نمی رسد بلکه\nبا الفتی دارم و هرگز از و خسته و رنجوری شوم زیرا که مارا از محنت و مشقت بی رغبتی است\nو درین خلاف نیست که همۀ افراد بنی آدم نوعی از انواع الوالخرمی میدانند والوالخرمی ما\nهمین است که از محنت و مشقت رو نگردانم و هر کاری که میکنم آن بغرض تکمیل انتظام سلطنت\nمیباشد:- و این همه ذوق و شوق محنت و مشقت من جانب خداوندی است\nو اعلیٰ ترین آرزوی حیات من همین است که آن افراد نوع انسان که خداوندی تعا\nمن بنده را بر جان و مال ایشان حاکم گردانیده است در نگرانی و حفاظت ایشان بدل و\nجان کوشان باشم و از منکرات و منہیات ایشانرا باز دارم رسول اکرم علیہ الصلوة\nو السّلام ارشادی فرمایند اذا اراد الله شیاً الخ و در علم باری تعالیٰ این بود که افغانستان\nرا از آفات بیرونی و اندرونی نجات دهد بدین وجه این حقیر را به چنین کاری مامور ساخته\nبر افغانستان حاکم گردانیده است و این از تائید رب العزت است که من بخیال"}
{"book": "adl0233", "page": 61, "text": "رفاہ عام همه دم مستغرق میمانم و آن رب العزت بر دل من افگنده که من برای\nترقی اهل افغانستان کوشان باشم و در ترقی مذهب رسول اکرم علیه الصلوة والسلام\nاز جان و مال خود دریغ نکنم الخ۔\nبنده در ثبوت تقدس و بلند مرتبه آن اعلیحضرت ظل سبحانی علیه الرحمة واقعه خود نقل\nمیکنم در اثناء آن مظهر فیوض یزدانی من بنده را بحضور خود طلب نمود بموجب\nامر عالی در حضور ظل سبحانی قصد حاضری کردم لیکن این امر را برای وا بازی\nیکی از اهل الله که همه علماء و مشائخ بعلم وبفضل ایشان معترف بودند منحصر داشتم پس\nبخدمت ایشان حاضر شدم و واقعه مذکوره عرض نمودم ارشاد فرمود که فردا جواب میدهم\nلهذا بروز دیگر بنده بعد نماز فجر بخدمت ایشان حاضر شدم فرمود که امشب مرا معلوم\nشده است که همه عالم از نور حضرت امیر المومنین ضیاء الملة والدین روشن و منور گشته است\nبرو که از قدم بوسی آن اعلیٰ حضرت شما را ضفتی حاصل گردد هر آئینه این کلمات را از لسان\nمبارکش شنید خاموش ماندم زیرا که خطرات ناقصه ازین کلمات در دل پیدا گشته بود لیکن\nآنحضرت قدسی صفت ارشاد فرمودند آیا درین امر شک و شبهه داری پس دست\nبسته عرض نمودم که مرا معذور دارید زیرا که پیدا شدن خطرات امری اختیاری نیست\nارشاد فرمود مضائقه نیست هر چه در دل داری بگو عرض کردم که سلسله نبوت بر\nحضرت خاتم المرسلین محمد مصطفیٰ علیہ الصلوٰة والسلام ختم شده است و هر مراتب بزرگی\nدر تحت نبوت هستند و هر آئینه احوال انبیا نیست که در وقت واحد و زمانه واحد متعدد\nشده اند پس بسبب متعدد وجود در نور و فیوض ایشان تفریقی لازم می آید و این\nشان مخصوص بسرور کونین علیہ الصلوٰة والسلام است که همه عالم از نور مبارکش\nروشن و منور هست و در و تفریقی نیست بموجب ارشاد جناب باری عزاسمه و ما\nارسلناک الا رحمت اللعالمین پس بچه طور تسلیم کنم که همه عالم از نور امیر المومنین امیر"}
{"book": "adl0233", "page": 62, "text": "عبدالرحمن خان منور گشته است زیرا که حضرت امیرالمومنین نبی مرسل نیستند پل شاد\nکرد که اول این خطره در دل من پیدا شده بود لیکن از فکر و غور کردن زائل گشت زیرا که از\nحدیث بنوی ظاهر میشود سیکون من بعدی زمانا من یحییٰ سنته واحداً الخ پس این زمانه\nهمین است و مخبر صادق خبر او داده است پس چقدر بلند مرتبه باشد آن شخص که به\nشریعت نبوی علیه السلام از او زنده و جاری شده باشد و حق انیست که مرتبه این چنین\nاشخاص غیر از خدائے رب العزت کسے نمیداند علاوه ازین معنی تفریق همین است چنانکه\nتو گفته بودی که اگر در عالم دو وجود متقابل باشند پس درمیان نور هر واحد تفریقی لازم آید\nمثلاً اگر در عالم دو آفتاب در یک وقت موجود باشند لازمی است که میان نور هر\nواحد تفریقی پیدا شود و اگر وجود دیگر مقابل نباشد پس در همه عالم فیض نور آفتاب\nیکسان باشد پس از نظر غور و فکر به بینید که در همه عالم احدی از پادشاهان هست\nکه در مملکت او احکام شریعت نبوی علیه السّلام بتمامه جاری و نافذ باشند الا این فخر\nحضرت امیرالمومنین ضیاء الملة والدین را من جانب خدائے رب العزت حاصل\nشده است پس باید که این خطرات را در دل خود جاگزین نکنید پس بنده را به شنیدن\nاین کلمات اطمینان کلی حاصل گشت\nو ازین اندازه می شود که چقدر در دل امیرالمومنین عظمت و هیبت خداوند تعالیٰ\nو پابندی احکام شریعت و انصاف پسندی بودند و بنده در سنه ۱۳۱۹ بغرض پابوسی عالی\nحضرت خلدآشیان حاضر شد و بدولت خانه عالی جناب فیض مجسم مرزا محمد حسین خان صاحب\nمستوفی الممالک فروکش از جانب دولت گردانیده شدم روزی در اثنائی گفتگو\nمحمد یوسف خان برادر مستوفی الممالک فرمود که خلق و الطاف خسروانہ ضیاء الملة والدین\nدر دل گرفته اگر حقیقت حال غضب شاہی و صولت امیری را بیابی بسیار پریشانی دامنگیر\nخواهد شد دریا از هیبت او خشک می شود زہرۂ شیر را غضب او تحلیل مینماید بهرگونه"}
{"book": "adl0233", "page": 63, "text": "از هول او آگاهی داد و گفت که این میشود و آن میشود این بنده خاموش میشنود و تا\nراه ضبط کردن ندانستم دامن صبر راگرفتن نتوانستم مجبور بمصداق قول شاعر\nشیخ از محفل رندان که همین داشت سری\nآمدی پند همین داد که بدخوی گری\nآخرالامر بدین گونه شد از در بدری\nپابدی دگری دست بدی دگری\nدر زبان باز کردم و سخن آغاز بنده که هزار بار به تجربه آورده بود و در پریشانیهای\nگوناگون سر نهاده بود از عادت مجبور و در خیال محصور مقوله عام است که سخن راست\nاز زبان دیوانه بر می آید یا از دهان مستانه با وجود تجربه جرأت عرض نمودم که هرچه از زبان\nجناب سر می زند این همه از صفات غضبیه باریتعالی است که بحر خشک شود و دوزخ و\nجنت از غضب او تعالی نام و نشان از صفحه هستی محو کند آسمان پاره گردد زمین\nفرورود انسان که ضعیف البنیان و محتاج است همچنین صولت و هیبت از اوصاف\nآن در بیان آوردن نازیبا است خانصاحب موصوف چین بجبین شده فرمود همچنان\nکه از زبان ما گفته شد راست است بنده هم بهمون طریقی که عادی بودم زبان عرض\nکشودم که اگر کلام حضرت راست است بحر و دریا را خشک شدن یکسو نهیم یک پیاله آب\nرا روبروی آن اعلیحضرت جا دهم اعلیحضرت از تمامی قوت غضبیه و توپ و تفنگ\nسامان حربیه با فوج بسیار پیاده سوار چندان مهیا شود توجه بفرمایند اگر بآثار غضبیه\nیک قطره از ان ربایند جناب روئی مرا سیاه کرده و طوق پا پوش در گلو انداخته بپشت\nخر سوار کرده بهر کوچه و بازار تشهیر نمایند و اگر خلاف این سر زند جناب هم سزای خود را\nبهمین منوال قبول فرمایند مستوفی الممالک صاحب هم سخن ما یاران بتبسم داد میداد\nآخرالامر این کلام برفع و دفعه رو نهاد زان بعد بنده حسب عادت شرف حضوری دربار\nشاهی حاصل نمود و عزت هم طعامی اعلیحضرت خلد آشیان میرسند خلافت سریر آرا\nمی بودند و مستوفی صاحب و عالی جناب احمد شاه خان صاحب ملک التجار زیر سرپنایی"}
{"book": "adl0233", "page": 64, "text": "۱۱\n\nبودند اعلیٰحضرت خلد آشیان که طبع ظریفانه میداشتند سخنهای زنگارنگ را بگوش حق\nنیوش پایے افراشتند عالیجناب مستوفی الممالک فرصت انگاشته و موقع وقت را\nپنداشته و قصه ما و برادر خود را که با هم گذشته بود آغاز کرد و در قصه ہا نه و اعلیٰجناب\nخلد آشیان به توجه و غورش می پرداخت و خاطر مبارکش را آن کلام پر اثر مے ساخت\nحتیٰ که مستوفی صاحب کلام خود را باتمام رسانید و اعلیٰحضرت را آب دیده گردانید بعد\nازان از زبان فیض ترجمان اعلیٰحضرت این کلام جاری شد هر کس که در نظر و قلب\nاو یکذره عظمت و ہیبته خدائے عزوجل جا میگزیند ہرگز در نظر و قلب او از شان کسے عظیم وجلیل القدر\nہیبت نمی نشیند چه جائیکه انسان ضعیف البنیان که از یک مشت خاک و یک قطره نا پاک\nآفریده شده\n\nو اعلیٰحضرت خلد آشیان آنچنان قیافه صحیح میداشت که کسانرا خرق عادات او در شبه مے\nانداخت چنانچه در تجربه من بنده آمده است این احقر از اعلیٰحضرت خلد آشیان علیہ\nالرحمة والغفران بزبان اردو عرض مے نمود و آنجناب بفارسی ارشاد مے فرمودے\nمن بنده قابلیت زبان اردو اعلیٰحضرت اندازه کردن نمے توانستم بدین جہت\nانچه که ضروری عرض مے داشتم بفارسی مے نگاشتم روزے این عریضه که از دارالایمان\nافغانستان برائے حصول علم صنعت و حرفت چند کسانرا که قابل و لایق این باشند\nدر ممالک یورپ فرستاده شوند اگر در رائے فیض انجلائے والا مناسب آید بهتر است\nبزبان فارسی نوشته حاضر خدمت فیض اقدس شدم اعلیٰحضرت خلد آشیان بکمال شفقت\nو عطوفت خسروانه این احقر را رو بروئے سر پر مبارک بر قالین اشارت فرمود چنانچه\nاین بنده مودب جائے خود اختیار کرد۔ اعلیٰحضرت یکے از اراکین حکمت خود بمعاملتی\nکلام میداشتند که این بنده محل عرض یافته لفافه از جیب بیرون نہاد و اعلیٰحضرت\nبگوشہ چشم قبول جا داده بدیگر کارہا پرداختند ۔ من آن لفافه را بجیب باز گرفتم بـعد"}
{"book": "adl0233", "page": 65, "text": "۱۲\nساعتی اعلیٰ حضرت ارشاد فرمودند که اگر کسے از اهل هندوستان این خیال دارد که بغرض\nتعلیم صنعت وحرفت کسانرا یورپ باید فرستاد این خیال برائے اهالیان هند مناسب\nاست نه که افغانیان را زیرا که هندوستان از احکام شرعی آزاد است وافغانیان\nپابند احکام شریعت هستند اینجا از شراب و زنا و جمیع ممنوعات شریعت احتراز نمودن\nاست و در هندوستان از همه آزاد بودن اگر کسے از افغانستان در ممالک زاد فرستاده\nشود همه تقویٰ و پرهیز گاری برباد دهد هر که از او مشرب میشود همه اخلاق وعادات\nقدسیه را بر باد میدهد بدین جهت بهتر است که اهل یورپ در مملکت ما در آیند -\nمن این کلام را شنیده متحیر شدم که اعلیٰ حضرت از احوال اندرون لفافه چگونه آگاهی یافتند\nپس حیرت مرا دریافته ارشاد فرمودند که نزد من در میان ولی وعقلمند همین قدر فرق\nاست انچه در میان ٹیلیگراف وٹیلیفون فرق است بذریعہ ٹیلیفون انسان را در فهمیدن\nسخن بعقل وغور ضرورت نے افتد همچنانکه گفته شود بگوش مے آید لیکن دریافت\nکردن سخن بذریعہ ٹیلیگراف درین بعقل وغور وعلم ضرورت مے افتد یعنے اصطلاحات ٹیلیگر\nرا علم حاصل کرده و دست وکوب اور اصحیح دریافتن ضروریست همچنین ولی اللہ را\nبذریعہ الہام وغیرہ معلوم میشود که چنین گذشته شد و چنان خواهد گزشت وعقلمند از\nحالات و رفتار زمانہ مےشناسد کہ آیندہ چنین پیش خواہد آمد-\nہمہ وجوہات مذکورہ ظاہر است هر گاه که آنحضهٔ زندگانی کہ برائے تعلیم وتربیت مخصوص\nاست بحضوری چنین عقلمند و مدبر حمیده صفات شاه اسلام خلد آشیان را بوجود خود\nقدر تاموجود میداشت صرف شدہ باشد آن همہ اوصاف جمیلہ در وجود مبارک سراج الملۃ\nوالدین خلد اللہ ملکہ بالضرور پیدا شدہ باشند زیرا که طبع انسان خاصتہ چنین واقع شده\nاست کہ عادت ہر گاہے کہ بضرورت اختیار میکند رفتہ رفتہ آن عادت ہم طبیعت\nثانیہ میشود بقول سعدی علیہ الرحمہ والغفران -"}
{"book": "adl0233", "page": 66, "text": "۱۳\n\nگلی خوشبوی در حمام روزی\nرسید از دست محبوبی بدستم\nبدو گفتم که مشکی یا عبیری\nکه از بوی دلاویز تو مستم\nبگفتا من گلی ناچیز بودم\nولیکن مدتی با گل نشستم\nجمال ہمنشین در من اثر کرد\nوگرنہ من همان خاکم که هستم\n\nحضرت سراج الملتہ والدین خلد اللہ ملکہ بہ سی سال کہ در ای عقلاء هند حصّہ بیش قیمت\nتمامی عمر و منتہای زمانہ تعلیم و تربیت است زیر سایہ و نگرانی اعلیٰ حضرت خلدآشیان\nبسر کردہ و نزد دانشمندان بعد سی سال بعادات و اطوار انسان تغییر و تبدل\nدشوار بلکہ از ناممکنات است۔ گفتہ می آید کہ بعمر بیست ۔ و بیست و پنج۔ و سی سال\nپسر پسر عاقل۔ پسر کامل۔ شد انچہ شدنی است یعنی خصائل انسان نیک و بد\nانچہ کہ اختیار میکند ہمہ اندر سی سال طبیعت ثانیہ او میشوند کہ تغییر در ان ممکن نیست\nاز امثال است۔ کہ جبل گردد و جبلت نگردد۔ اعلیٰ حضرت خلدآشیان عنان حکومت خود را\nدر حیات خود بدست حضرت سراج الملتہ والدین خلد اللہ ملکہ عطا فرمودہ بودند چنانچہ\nخود رقم فرمودہ اند کہ حبیب اللہ خان از بزرگ ترین پسران ما است آن ہمہ کار کہ من\nیا امیران افغانستان پیشتر بدست خود میداشتند حالا امیر حبیب اللہ خان بکار می آرند\nصرف بعض محکمہ جات و سررشتہ جات چنانچہ صیغہ خارجیہ است کہ انتظام او من بدست\nخود میدارم بسپردگی امیر حبیب اللہ خان نیستند حبیب اللہ خان ہمین دستورالعمل می آرند\nکہ بوقت ده ساعت صبح در بار میکنند۔ و بوقت سہ یا چہار ساعت بوقت عصر برخاست\nمیکنند۔ بروز دوشنبہ و پنجشنبہ سکرٹڑی دربار آن ہمہ درخواستہا و خطوط کہ بڈاک\nمیرسند یا بذریعہ قاصد از ہرات و قندہار و بلخ و غزنی و جلال آباد و ہندوستان و\nاز دیگر مقامات کہ موصول می شوند رو بروی او میخوانند برای محکمہ جات مختلف\n\nل۱ تزک عبدالرحمانی جلد دوم صفحہ ۹۵"}
{"book": "adl0233", "page": 67, "text": "حکمہائے اخراجات بنام خزانہ جاری میشوند و بنام گورنران و اہلکاران فوجی و ملکی و مهتمان\nکارخانه جات و میگزین و محکمه جات عمارت و مال وغیرہ ہر پروژہا احکام صادر میشوند و\nبنام حکام متعلق او ارسال میکند سکرٹری مذکور به جوابات درخواستہائے\nو دیگر کاغذات وغیرہ مہر حبیب اللہ خان ثبت کناینده بذریعه ڈاک او را روانه\nمیکند بعد ختم این همه کار ہا تا قوت آرام دیگر کارہا کہ میرسند اور اہم با انجام میرساند\nصرف برائے ہو اخوری و سواری اسپ فرصت قلیل نگا ہداره قد قبل از خواب\nبدر بار ما برائے ساعتی حاضر میشوند و بشرط ضرورت وقت صباح ہم اگر من\nبیدار میشوم بروز سه شنبه در بار فوج هم میکند و به همراه تمامی افسران فوج طعام\nمیخورند و برائے فوج سپاہی نوہم مقرری سازند و همه محمالات فوج به ایشان\nتعلق میداند و تصفیه جرائم و منازعات فوجی هم بدست شان هستند. بروز\nچهار شنبه در بار حکام ملکی موجوده کابل میشود آنچه مقدمات ملکی در ان وقت\nپیش میشوند آنرا تصفیه میدهند - بروز شنبه مقدمات فوجداری فیصل میکنند\nو مجرمان را سزائے قید یار ہائی میدہند و انچہ کہ از کوتوال شہر یا بذریعہ\nدیگر مقدمات میرسند و اپیلہائے وغیرہ پیش کرده میشوند.\nبروز یک شنبه همه کارخانه جات و مختلف میگزین ہائے کابل را معائنہ میکنند\nو عرائض اہل حرفه که میرسند مطابق لیاقت او شانرا ترقی پنشن یا رخصت\nو غیره میدهند - جمعه که روز تعطیل و راحت است او را به همراه ما میگزارند یا\nدر شکار ۔ و نماز جمعه را در مسجد میگزارند و پیش مادران و خویشان عزه و اقارب\nخود را حاضر میدارند. الخ\nلیکن با ضابطه تخت نشینی اعلیٰ حضرت بعد از وفات اعلیٰ حضرت ضیاء الملة والدين\nشده است - وفات حسرت ناک شاہ اسلام دلبہائے اسلامیان را بجنبانید"}
{"book": "adl0233", "page": 68, "text": "۱۵\nونصف الم ہائے تمام قلمرو گورنمنٹ عالیہ برطانیہ سرنگون گردانیده صدمات مسلمانی\nجہان و رنج برطانیہ عظمی را ذات اعلیحضرت امیر المومنین سراج الملتہ والدین\nخلد اللہ ملکہ وسلطنتہ واقبالہ را خدا وند تعالیٰ بنعم البدل زیب سریر دولت\nخدا داد افغانستان فرمود=\nاشعار دعائیہ\nاے خداوند دو عالم تا قیام این جہان\nتادمی باشد درین عالم بقای مردمان\nتادمی در آب سیلانی بود\nتا دمی این گریہ شبنم بود\nخرمی این شاہ ما را کن عطا\nباد در دولت ترقی اے خدا\nاین سراج دین ما را ساز بدر\nبا ترقی روز شب افزاے قدر\nحب نصر اللہ نائب سلطنت\nتا قیامت این بماند در دلت\nنور چشم شاہ معین السلطنت\nتا ابد روشن بود در مملکت\nباضابطہ تخت نشینی اعلیحضرت\nصاحب قران اسکندر مکان مرکز دائرہ امن و امان حضرت امیرالمومنین سراج الملتہ\nوالدین خلد اللہ ظلال خلافتہ الزاہرہ یکم اکتوبر در بر سریر دولت خدا داد\nافغانستان متمکن شدند و ہمون وقت بموجب ارشاد عز وجل ان الله یامربالعلم\nوالاحسان بجانب عدل و انصاف توجہ نمودند قطعه\nشکر خدا کہ شام امید زمانہ را\nصبح طرب ز مطلع عز و طرب دمید"}
{"book": "adl0233", "page": 69, "text": "١٦\n\nهر ناوک دعا که کشودند اهل راز | از بازوی نیاز همه بر هدف رسید\n\nلیکن بضابطه تخت نشینی آن امیرالمؤمنین سراج الملة والدین را همه اصاغر\nو اکابر و علما و افغان و گورنمنت هندوستان مارچ در سنه ۱۹۰۱ء بجان و دل\nتسلیم کردند و برضا و رغبت اظهار مهر و وفا نمودند بعد گرفتن عنان حکومت\nبرادر خورد را (یعنے حضرت امیر نصر الله خان) ولیعهد دولت و نائب سلطنت\nخود ساختند که صیت مکارم اخلاق سنیه و اوصاف رضیه مرضیه در اطراف\nآفاق شایع گشته و باستماع اقاصی و ادنی رسیده - و از جبین مبارک آن ذات\nملکی صفات آثار و اطوار سعادت ظاهر و باهر است و وجود مبارکش برای\nافغانستان و مسلمانان عالم نمونه رحمت الهی است و از ذات آن والا صفات\nاعلیحضرت امیرالمؤمنین و همه اهل افغانستان را چنین مودت و محبّت\nاست که از احاطه قلم بیرون است همه مسافران و سیاحان که از دور و دراز\nمی آیند بعد تقبیل انامل دریا فواصل از اوامیده اش بے گرویده میشوند\nو همیشه دعا ترقی حیات و دولت میدهند. دگر شهزاده عالمیان و نقاوه\nزمره آدمیان امیر عنایت الله خان صاحب معین السلطنت بزرگ ترین\nفرزند اعلیحضرت خلد الله ملکه و ولیعهد نائب السلطنت هستند بے نگذاشت\nکه اهل هند از شرف پابوسی آن معین السلطنت تجربه خلق و قابلیت ایشانرا\nمشاهده کرده اند.\n\nصفات ذات شاہانه\n\nاعلیحضرت سراج الملة والدین خلد الله ملکه و اقباله بنهایت مرد شجیع و رحیم الطبع"}
{"book": "adl0233", "page": 70, "text": "۱۷\nو منصف مزاج و خنده پیشانی و بیدار مغز و مستعد هستند لہذا در ثبوت هر صفتی از اوصاف\nمذکوره یک یک واقعه پیش کش ناظرین میکنم\nشجاعت\nروزی در جلال آباد بوقت سر کردن بندوق لولش شق شده انگشتان مبارک شان صدمه\nسخت رسید تا که انکه نوبت قطع و برید افتاد داکتری که حضور وایسرائی سابق برای\nمعالجه آن اعلیحضرت فرستاده بود بر وقت عمل جراحی ادویه بیهوشی را پیش نهاد\nاعلیحضرت از استعمال ادویه بیهوشی انکار نمودند و دست مبارک را بطرف او\nدراز کردند و فرمودند که در کار خود مشغول شو و بدست دگر اخبار گرفته ملاحظه فرمودن\nگرفت ۱؎ جناب مرزا عبدالرشید خان صاحب که دست مبارک شان گرفته بود جهت\nبریدن انگشت اعلیحضرت لرزه بر اندام مرزا صاحب افتاد اعلیحضرت\nبر حالش تبسم کردند و فرمودند که مرزا دستت چرا می لرزد مرزا صاحب چشم پر آب\nشدند هندا معذور داشته علیحده نشستند و داکتر هر دو انگشت صدمه رسیده\nرا برید و بسهولت کار خود را با نجام رسانید و درین عرصه اعلیحضرت چنین بدیدن\nاخبار مشغول بودند که ازین حادثه چین برجبین شان نیافتاد داکتر شجاعت\nو استقلال امیر المومنین را دیده متحیر گشت و گفت که از نظر من تا ایندم\nکسی شجاع و دلیر مثل امیر المومنین نگذشته است که انگشتان بریده\nو هیچ اثری تغیر و تبدل بر خیال ظاهر نشود۔\n\n۱؎ با من این واقعه را عالیجناب مرزا عبدالرشید خان صاحب بیان فرمودند۔"}
{"book": "adl0233", "page": 71, "text": "۱۸\n\nرحم دلی امیر المومنین\n\n۱شفقت بر عامه رعایا و مرحمت و رفق بر کافه برایا بر ملوک عظیم الشان و سلاطین رفیع\nالمکان لازم است چه که زیر دستان ودایع حضرت آفریدگار عز و جل هستند روزی\nامیر المومنین بعزم شکار بصحرا رفته بودند بدست مبارک دور بینی گرفته نظاره صحرای\nمرغ زار کرده بودند که ناگاه نظر کیمیا اثر بر قواره رسید که در و مرد ضعیف و ناتوانی\nعلفی برای جانوران خود همیکوفت امیر المومنین مرکب بتیز رفتار سوار شده\nخود را نزد آن ضعیف و ناتوان رسانیدند - و از کمال شفقت و مرحمت خسروانه\nفرمودند که درین حالت ضعیفی همین قدر زحمتی بر خود چرا گرفته مرد ضعیف دست\nبسته بعرض حاشیه بوسان عالی رسانید که فرزندی دارم سیکین او در افواج شاهی\nخدمتی را بانجام میدهد - امیر المومنین ازین سخن متاثر شده آنرا بر فرودگاه خود\nآوردند و همراه خودتان در تناول طعام شریک گردانیدند و فرزند او را طلبیده بر\nخدمت آن ضعیف مامور ساختند و دو هزار روپیه از جیب خاص مرحمت\nفرموده رخصت کردند قطعه\nببخشای ببخشائید بر تو\nدر از غیب بکشانید بر تو\nاگر رحمت ز حق داری تمنا\nتو هم بر دیگری رحمی بفرما\n\n۱ بنده درین ایام بکابل موجود بودم اولاً این قصه را از عزیز القدر عبد الکریم خان\nپسر عالیجاه عبدالغفور خان مرحوم نبیره عالیجناب حبیب الله خان مستوفی الممالک\nمرحوم با من گفته بود بعد از ان دیگری هم تصدیق کردن-"}
{"book": "adl0233", "page": 72, "text": "۱۹\n\nعدل و انصاف حضرت امیرالمومنین\n\nثبوت عدالت و انصاف حضرت امیرالمومنین بحکایتی احتیاج ندارد زیرا که چنین\nامور شب و روز پیش می آیند که شمارش دشوار است اما طریقه را که فریاد مظلوم\nبگوش مبارک شان بچه طور میرسد درج میکنم تا آنکه در قلوب ناظرین عیاناً ظاهر گردد که\nچنین قاعده کلیه بستن که همه مظلوم دستم رسیده بغیر توسط احدی اظهار مدعا بتوان\nکرد و بعد معلوم شدن این قاعده کلیه بهمه باشندگان هندوستان معلوم\nگردد که بعضی اہلکاران دولت افغانستان چنین مشهور کرده اند و بدرجه یقین\nرسانیده اند که بغیر توسط و وسیلہ مایان احدی عرایضات و شکایات کے\nو خطوط و غیره وغیره از امور ضروریه بحضور امیرالمومنین نمی رسند زیرا که ڈاک\nخانه پشاور چنین خطوط و عرایضات را چاک میکنند یا برای ملاحظه نزد اہلکاران\nدولت العالیه می فرستادند بعد ملاحظه آن اہلکاران اکثر را چاک میکنند و بعضی را\nبحضور امیرالمومنین می فرستند این همه وجوه غلط است کسی را مجالی نیست\nکه خطوط یا عرایض دادخواه که باسم مبارک حضرت امیرالمومنین باشند چاک\nکرده بر و مطلع شوند یا ضائع کنند و مردمان که این اخبار را مشهور کرده اند ایشان\nمثل آن بزرگان هستند که گفته اند که بغیر خط مایان ہیچ جای در جنّت یافتی نمیشود\nو خطی بنام جبریل علیہ السّلام اجرت از ورثا ء میت گرفته می نویسند که این میت بهمن\nخط در جنت ببرند ۔ پس من بنده مودبانه بخدمت مظلومان و ستم رسیدگان مشوره\nمیدهم که اگر در چنگال کسی اہلکاران یا مردمان رعایہ یا اجنٹ دولت العالیہ افغانستان\nگرفته شوند یا اندیشہ گرفتار شدن باشد بقاعده ذیل از دولت خداداد افغانستان"}
{"book": "adl0233", "page": 73, "text": "۲۰\n\nچاره جوئی میتوان کرد۔\n\nقاعده\n\nاشتهاری منجانب حضرت امیرالمؤمنین برای اهل افغانستان ساکنان\nممالک غیر طبع کرده شایع گشته است که اگر ایشانرا از رعایه یا ملازم وغیرہ دولت\nافغانستان نقصانی یا ظلمی رسیده باشد پس اطلاع آنه بغرض انصاف\nبقاعده مندرجه اشتهار دولت العالیه را اطلاع دهند (نام این اشتهار عریضه خریداری\nاست) و این بطریقه سرکاری مثل استامپ بقیمت یک عباسی (یعنے\nنصف روپیه کابلی که برابر چهار آنه دولت العالیه برطانیه است) یافته میشود\nپس یک طرف این اشتهار تمام قواعد و ضوابط نوشتن عرايض و ارسال\nنمودن عرايض و انتهای مدت جواب وغیرہ وغیرہ از امور ضروریه بزبان\nفارسی درج اند و پشت همین اشتهار سائل و دادخواه با شد که جمیع اغراض و درخواست\nہائے خود را تحریر کند و ٹکٹ دہ روپیہ کابلی که برابر پنچرد پیسه دولت العالیه برطانیه\nاست چسپان کرده در لفافه انداخته بذریعه ڈانک بحضور حضرت امیرالمؤمنین\nیا بحضور نایب السلطنت صاحب یا بحضور معین السلطنت صاحب فرستاده\nکنند پس همه درخواست ها درج رجستر شده بحضور امیرالمؤمنین پیش کش میشوند\nبعد ملاحظه اعلیٰ حضرت جواب معقول و مدلل نوشته بدستخط یا مہر اعلیٰ حضرت\nمزین شده اندر مدت چہل یوم نزد سائل فرستاده میشود اگر بیرون جات\nعرايض که پیش کش اعلیٰ حضرت کرده باشند پس محصول ڈانک بذمه سائل\nاست اگر سائل دعویٰ خود را ثابت کند پس علاوہ آن سزائی کہ برائے مجرم از"}
{"book": "adl0233", "page": 74, "text": "۲۱\nقانون دولت العالیه مقرر است محصول تکٹ و غیره از مجرم گرفته نزد مدعی\nفرستاده میشود۔\nخنده پیشانی اعلیٰ حضرت امیر المومنین\nاز روئے مبارک حضرت امیرالمومنین سراج الملتہ والدین در هر آن انوار فیض\nآثار چنان ظاهر میشود که از آفتاب عالم تاب فیضان نور همه دم بر همه عالم میشود\nجولای در ۱۳۲۶ م من بنده را بحضور بارگاه سلطان ظل الله اتفاق حاضری افتاد\nشان وشوکت بارگاه حضرت امیرالمومنین و زرق وبرق پوشش سرداران افغانسان\nو چهره پرو جاهت وشاندار ولمه شمشیر آبدار ایشان این هم چنین اسبابے اند کہ\nبر دل مردمان شجاع و دلیر بغیر اثر کرده نمی ماند کسے را کہ اتفاق حاضری بارگاه\nعالی می افتد قبل از پیش شدن متردد و خایف میشود و در دل خود میگوید که دیده\nباید چه دیده می آید لحظه حضرت چه احکام جاری و نافذ فرمایند خدا علیم و دانا\nاست که چه پرسند و از زبان کمترین مان یان چه برمی آید۔ لیکن وقتیکہ\nنظر بذات مبارک شان می افتد پس خنده پیشانی آن امیرالمومنین این\nهمہ خیالاتے کہ در دل بسبب مخوت و دهشت می آیند همه وقت\nبدر می روند چنانکه نور آفتاب ظلمت و تاریکی را و خوشی و خرمی\nالام و احتمام را بر طرف می سازد۔"}
{"book": "adl0233", "page": 75, "text": "۲۲\nخلق اعلی حضرت امیر المومنین\nمن ندیدم در جهان جستجو\nهیچ اهلیت به از خلق نکو\nنزد همه اصاغر و اکابر مشتهر است که السلطان ظل الله امیر المومنین سراج الملة والدین خلد الله ملکه هم چنان کافه رعایا را دوست میدارند که پدر فرزند را و هر چه بر خود نه پسندند بر ایشان هم نه پسندند و نیز جان مال خود را از وی دریغ ندارند بلکه از شفقت و خلق عام و مرحمت مالا کلام رعیت را از مرتبه رعیتی بدرجه دوستی رسانیده اند لہذا جمیع مسلمانان را باید که برای ذات اقدس شاهانه دائماً دست بدعا باشند ايدالله نوال عاطفته و رافته بین الانام الی ساعة القیام ۔ من بنده اقل مرتبه بحضور اقدس پیش شدم و سلام مسنون و دعای ترقی حیات و دولت عرض نمودم پس از الطاف خسروانه به لهجه خوش جواب سلام دادند بلکہ بر این اکتفا نه فرمودند و از زبان معجز بیان همچو من بنده را مزاج پرسی کردند و فرمودند که عزیز و مهمان من ہستی مایان اهل هندوستانرا دیده خوشوقت و مسرور میشویم خلد الله تعالیٰ ملکہ و اجری فی بحار السلطنة فلکه‌ -\n\nبیدار مغزی اعلی حضرت امیر المومنین\nاز اوصاف و حالات گذشته حضرت امیر المومنین بر جملہ ناظرین ظاہر میشود که خداوند تعالیٰ در ذات شان حسن تدبیر و لیاقت جهانداری و بیدار مغزی بدرجہ کمال"}
{"book": "adl0233", "page": 76, "text": "۲۳\n\nعطا فرموده است هر کسی که از حالات دارالخلافت کابل قدری آگاهی می\nدارد اندازه این امر میتوان کرد که پیشتر افغانستان ملک غیر آئین بو د مگر بیدار\nمغزی آن اعلیٰحضرت از جمله علوم جدیده وفنون صنعت وحرفت قوم افاغنه\nماهر شدند مملکت شان از کالج ها و شفاخانها و مهمان سرائی و صفائی رابہا\nوترقی کارخانجات صنعت وحرفت اراسته و پیراسته است و روز افزون\nرو بترقی می نماید و این همه امور بر لیاقت خداداد و مدبری حضرت امیر المومنین\nشہادت میدہند-\n\nعلو همتی اعلیٰحضرت امیرالمومنین\n\nحق سبحانه تعالیٰ ذات امیرالمومنین را بظغرای ان الله یحب معالی الامور\nبے مزین کرده است که احتیاج بیانی ندارد اعلیٰ حضرت المومنین در شب روز\nکمتر استراحت میگیرند و همه دم در امورات ضروری سلطنت و انتظام مملکت متغرق\nمیباشند با وجود این همه امورات ضروریه نماز را که فریضه خداوندی است با وقات\nمقرره ادا میکنند- روزی عالیجناب مرزا عبدالرشید خان صاحب بمن گفته\nبودند که من بنده همه اوقات خود را بهمرکابی حضرت امیرالمومنین میگزارم و\nگاہی ندیده ام که احدی از نماز فریضہ فوت کرده باشند وقتی در چنین مرضی\nگرفتار شده بودند که حس و حرکت بدشواری میکردند تا هم درین حالت نماز\nفوت نشد و همین طور پابند صیام هستند که در سفر و حضر انرا ترک نمیکنند غرضکه\nهمه امورات شرعیہ فرضیه ومسنونه را بغایت اہتمام و خوش اسلوبی\nادامی نمایند-"}
{"book": "adl0233", "page": 77, "text": "۲۴\nو این امر بر عالی ہمتی شان دلالت میکند کہ از سفر سخت و دشوار رنجور نمی شوند\nچنانچہ واقعہ کہ من او را مشاہدہ کردم انیست کہ بندہ در جولای سنہ ۱۹۰ عیسوی\nبدارالخلافت کابل رسیدم و در آن زمان اعلیٰ حضرت امیرالمومنین بکبل سراج\nتشریف میداشتند روزی این بندہ بمقصد ملاقات عالی جناب خلق مجسم\nفخر افغانستان کرنیل حبیب اللہ خان نائب عسس حاضر شدم اتفاقاً یکے\nاز غلام بچہا حاضر شدہ عرض کرد کہ اعلیٰ حضرت امیرالمومنین فردا نماز جمعہ\nبمسجد جامع در دارالخلافت کابل ادا مینمایند پس بوقت شام بروز پنجشنبہ کہ ناگاہ\nصدای اتواپ شنیدم پس از تحقیق کردن معلوم شد کہ حضرت امیرالمومنین\nسراج الملة والدین معہ الخیر والعافیت بسواری اسپ تیز رفتار سفر پنجاہ وپنج\nمیل طے کردہ بدارالخلافہ رسیدہ اند لہٰذا برای سلامی شان این اتواپ\nسر کردہ اند پس ازین زیادہ چہ مستعدی شد کہ سفر پنجاہ و پنج میل را بر\nاسپ طے کردند ای خدا وند رب العالمین و اے ارحم الراحمین ذات\nملکی صفات چنین بادشاه عادل با انصاف را کہ برای محافظت و دایع خود\nافریدہ است بر کافہ مسلمانان جهان تادیر قایم و دایم دارا و و از اثر ناقص\nآن حضرات که (از صفات ذمیمہ کہ بسبب غلبہ قوت بہیمہ خود) بلہو و لعب مشغول\nدارند محفوظ دارا و بقول شاعر زندہ نہ ماند آنکہ نہ جوید فلاح او= و ہر آن از لطف\n\n[Footnote]\nاے خان صاحب موصوف نہایت قابل ولایق انداز زبان ترکی و عربی و فارسی و انگریزی\nوغیرہ مہارت کلی دارند و منجانب سلطان المعظم خلد اللہ ملکہ بیست و پنج سال بعہدہ\nجلسلیہ ممتاز بودند ایشان بسیار خلیق و مسافر نواز ہست اند و حق این است کہ همچنین\nاشخاص باعث افتخار دولت ونیک نامی می باشند"}
{"book": "adl0233", "page": 78, "text": "۲۵\n\nعام وکرم مالاکلام بهروربفرما و بی ثباتی عالم فانی و بقائے عالم جاویدانی\nرا در دلش انما بفرما وای سامع الدعوات دعائے است از ما و از جمله\nمسلمانان که این پادشاه ما که بنده فرمان بردار تست از همه آفات دینی\nو دنیاوی محفوظ داراد-\n\nخاتمه\n\nوجود اعلیٰ حضرت سراج الملتہ والدین امیر المومنین خلدالله ملکه و اقباله\nاز برکات آسمانی و افضال یزدانی است.\n(۱) سلطنت را بخلافت و امامت اسلامی مبدل کرد- و درین شکی\nنیست که بعد از قرون ثلثه وجود خلافت درین زمان خیر توام مشهود\nگشته و انقراض دول اسلامیه از شامت سلطنت بود زیرا که خزانه\nو سپاه همش از آن شخصی واحد میباشد. قوم را با وجهد ردی نباشد\nمگر بهمان قدر که منافع افراد قوم با و تعلق دارد دیگر آنکه بموت آن\nسلطان سلطنت می میرد و بحیاتش زنده می باشد برائے\nاین معنی اعدائے جانستان در پئے جان سلطان میباشند و برائے\nاعدام سلطنت و اعدام سلطان منتظر موقع میباشند در نیصورت"}
{"book": "adl0233", "page": 79, "text": "۲۶\nسلطان در پی تحفظ جان خود چه مشقت ها میکشد و از اوج ازادی\nانسانیت بحضیض قید حیوانیت می افتد. و هرگاه که اعدا می دانند\nکه یک یک از افراد قوم سلطان است و بانتخاب قوم این شخص\nبکرسی مملکت نشسته است اعدام این را بیکاری دانسته در پی\nجان او می باشند. دیگر اینکه انسان تا وقتیکه بقید انسانیت است\nاز خطاکاری و ابتلای لذات و شهوات و غفلت کاری از مهام\nسلطنت مامون نیست گاهی خزانه سلطنت بلولیان می بخشد\nو گاهی بمدح سرای شعرا عطیه جزیله عطا می فرماید و گاهی در\nتعیش و اسباب تنعم خود خزانه خالی میکند پس درینصورت\nلا محاله سپاه جان نثار و مردان کاردان و اموزگار را رنجی و حسد\nو تنفری پیدا میشود و همدردی بسلطنت مبذول نمی نمایند و بکسی\nدیگر که منافع خود از و متوقع می شمارند در گرایند و خصوصاً در آن زمان\nکه دشمنی صعب رو مینماید اظهار خیانت میکنند. دیگر اینکه طائفه علما و صلحا\nکه افراد قوم زیر حکم ایشان میباشند ازین سلطان از بیهودگی های او\nاعراض نموده قوم را در اعانت او تحریک نمی نمایند بلکه بعض اوقات\nوجود این سلطان را موجب خسران و ضعف اسلام تصوریده بر خلاف\nاو فتوی میدهند پس در دولت انقلاب عظیم پیدا می شود لہذا این\nفسادات را ملحوظ فرموده بنای دولت اسلامیه بر پای خلافت"}
{"book": "adl0233", "page": 80, "text": "۲۷\nاستوار کرده اند وخلیفه وقت بجز آن کفافی که از قوم باو معین شده\nبود بر یک پول سلطنت بغیر مرضی قوم اقتدار نداشت وجمله قوم سلطنت\nرا سلطنت خود پنداشته و فوائد ومضار دولت را فوائد ومضار خود\nتصوریده باعانت دولت بجان و دل میکوشند و ازین سبب در زمانه\nخلفاء پرچم اسلام از مغرب تا مشرق می جنبید و ازینجا دول یورپیه\nدر تمامی مملکت سلطنت جمہوریه پیدا کرده اند تا که جمله افراد قوم در\nدرجه مساوات بوده باهتمام کارهای دولت به پردازند. اعلیحضرت\nامیر المومنین سراج الملته و الدین خلد الله ملکه اوّل آن سلاطین\nاند که شخصیت را بجمهوریت متغیر کرده اند. ازین سبب بوقت جلوس\nبر سریر مملکت افغانستان هیچ قتال وحرب واقع نشد. و علماء\nو صلحا و سرداران قوم که هر یک بجای خود سرغنه جماعت کثیر\nاند بحسن ارادت و اخلاص نیت بر دست اعلیٰ حضرت امیرالمؤمنین\nسراج الملته والدین بیعت کردند. حالا سلطنت کابل همان سلطنت\nنیست که پیش ازین بود هر طائفه و هر گروه بدل معین دولت است\nوزیر رایت دولت قتال و حرب را باعث عصمت ننگ و ناموس\nدینی و دنیاوی خود می پندارند و ازین سبب اعلیٰ حضرت\nامیر المومنین را فرصت داد که بخطره بمهمانی سلطنت انگلیشیه\nتشریف شریف ارزانی فرموده لطف سیر سیاحت و ملاحظه اتقان"}
{"book": "adl0233", "page": 81, "text": "۲۸\nو احکام سلطنت غیر میفرمایند و ازین شجره بسیاری از بسیار فوائد\nجلیله همراه خود بدولت خدا داد خواهند برد =\n(۲) اعلیحضرت امیر المؤمنین همچون دول متمدنه زمام امور عظام بر قواعد\nنظم دول به هر یک شخص قابل تفویض فرموده اند و زمام همه بدست\nخود میدارند =\n(۳) اعلی حضرت امیر المؤمنین در استحکام این خلافت شب و روز\nکوشان اند و برای استحکام خلافت طائفه انام از خواص و عوام محتاج\nبعلم اند که کم از کم حقوق شخصی و حقوق دولت و فرایض خلافت را\nو فوائد استحکام دولت را کما ینبغی فهم نمایند و طائفه خاصه در صنایع و\nو اختراع امور عجیبه که درین زمان استحکام دول در حرب و ضرب\nو در زمانه امن ترقی تجارت و مالیت بآنها مربوط است مهارت تامه\nبدست آرند و نیز اراکین مجلس شوری از طوائف اہل علم و خیر اندیشان\nمیر آیند و شب و روز هر یک در استحکام و ترقی دولت افکار مفیده\nرا بدل راه میدهد و در مملکت آثار تمدن و سروت پدید آید که فتنه\nو رهزنی و با همی حرب و ضرب یکلخت دور افتد و جمیعت دست پدید آید\nو هم برای استحکام این معنی وکلا رو سفر ار دیندار خیر اندیش که\nاز السنه اجنبیه هم بهره وافر داشته باشند بدول دیگر ارتباط مستحکم\nساخت از فوائد و صنائع دیگران بهره وافر بر دارند ۔ و از خدای"}
{"book": "adl0233", "page": 82, "text": "۲۹\n\nجهان دعا است که در چند ایام این دولت بر دول ترقی یافته\nدر تمدن قدم سبقت پیش خواهد نهاد زیرا که وجود همچنین پادشاه\nبرای ملک رحمتی است از خدای عالم\n\nالتماس بخدمت ناظرین والا تمکین\n\nمختصرأ حالات دربار امیر المومنین وحالات دارالخلافت کابل\nو عظمت و بزرگی رعایای افغانستان و حالات عمارات شاهی\nو باغات انها و حالات راه کابل پشاور که تعلق آنها بدولت خداداد\nافغانستان است و توصیف عالی جناب فیض مآب خیر خواه\nدولت خدا داد افغانستان غلام حیدر خان صاحب سر رشته دار\nڈاک خانه اسلامیه پشاور و تعریف جناب حضرت مولانا مولوی\nنجف علی صاحب انسپکٹر مدرسه اسلامیه حبیبیه و غیره و غیره\nآن کتاب که بزبان اردو چاپ شده شائع گشته است مندرج\nاند و درین ترجمه کتاب بسبب آنکه گنجایش وقت نیافتم که آن\nهمه مضامین را که در اصل کتاب اردو موجود اند نقل کنم زیرا که"}
{"book": "adl0233", "page": 83, "text": "اعلیٰ حضرت امیرالمومنین سراج الملة والدین خلداللہ ملکہ\nو اقباله بتاریخ ۳ جنوری ۶۹۰اء رونق افروز هندوستان میشوند\nو مقصود تالیف کتاب این است که پیش از تشریف آوری شان\nاین کتاب را تقسیم کنم تا که اهل هندوستان از اوصاف حمیدهٔ شان\nو شوکت شاہی اعلیٰ حضرت امیر المومنین و از دیگر حالات\nواقف شوند ـ از ناظرین خواستگار معافی هستم که ما را بسبب\nقلت وقت گنجایش تالیف این کتاب را نبود ترجمه اش کجا\nچنانچه در شروع کتاب خود من بنده این همہ امور پیش کش\nناظرین کرده ام لہٰذا ہر کسے را کہ اشتیاق دیدن جملہ حالات\nمذکوره باشد پس اصل کتاب را که بزبان اردو چاپ شده\nاست و ہمراه این ترجمه هست ملاحظہ بفرمایند ـ علاوه ازین\nاہل افغانستان را چندان ضرورت دانستن آن حالات نیست زیرا\nازین همہ امور آن جملہ حضرات بخوبی واقف هستند لہٰذا\nاز ناظرین کتاب ہٰذا امید عفو داشته بدعاء ترقی دولت خداداد\nافغانستان و شاہ اسلام ختم میکنم ـ شعر ـ\nالہی در جہا باشی با قبال  جوان بخت و جوان دولت جوان سال\nالہم تمم بالخیر فقط وعاگو شاہ اسلام حاجی محمد خان ساکن خورجہ"}
{"book": "adl0233", "page": 84, "text": "[BLANK PAGE]"}
{"book": "adl0233", "page": 85, "text": "[BLANK PAGE]"}
{"book": "adl0233", "page": 86, "text": "[BLANK PAGE]"}
{"book": "adl0233", "page": 87, "text": "[BLANK PAGE]"}
{"book": "adl0233", "page": 88, "text": "[BLANK PAGE]"}
{"book": "adl0233", "page": 89, "text": "٨ دلو ١٣٢۴ برای امروز گل محمد قیمت یک [؟] در سر سراج\nکه ٧٠ هزار افغانی بود\nبرای گل محمد خان نقد داده شد ۶ شش هزار افغانی"}
{"book": "adl0233", "page": 90, "text": "[BLANK PAGE]"}
{"book": "adl0233", "page": 91, "text": "[BLANK PAGE]"}
{"book": "adl0233", "page": 92, "text": "[BLANK PAGE]"}
{"book": "adl0233", "page": 93, "text": "[BLANK PAGE]"}
