{"book": "adl0111", "page": 1, "text": "تردید\n(شایعات باطله شاه مخلوع)\n(عریضه ٥ - لویه جرگه ١٣٠٤)\nمعرفی اعضاء وشرکاء وناقلین سوء و\nعکس های متعلقه آن"}
{"book": "adl0111", "page": 2, "text": "هو العلیم\nتردید\n(شایعات باطلۀ شاه مخلوع)\n(عین فیصلۀ ٥ لویه جرگۀ ١٣٠٩)\nافغانستان\nمعرفی اعضاء و شرکا و سامعین موقره\nعکس های متعلقۀ آن\n\nشاه مخلوع کی باطله اشاعت کی تردید مع لویه جرگه\nکا فیصله عکس اور اسکی اعضاء و عموم\nحاضرین کی معرفی اور اسکی\nمتعلقه عکس\n\nمورخه ١ اول حمل ١٣١٠"}
{"book": "adl0111", "page": 3, "text": "[BLANK PAGE]"}
{"book": "adl0111", "page": 4, "text": "بسم الله الرحمن الرحیم\nتردید شایعات باطله\nامان الله خان\nامان الله خان درین روزها اعلانی شایع کرده و\nبعض اعتراضاتی را که تا هنوز از مطبوعات وطن\nخارج نشده وسهو و خطای نظریات و عملیات\nخودش نامیده میشود، تردید میکند و قهر حقیقی\nلویه جرگه را که در آتی عیناً شایع میشود جواب نداده\nسرسری میگذرد، بر شخص نامور و ذات حمید صفات\nنادر شاه که مجسمه دیانت و اخلاق است تعرض\nو هرزه سرائی میکند، ما بدون مبالغه و مداهنه میتوانیم\nبگوئیم. امروز نادر شاه افغان در دنیای بشریت\nصفات ستوده و پسندیده دارد که بجز امان الله خان\nوحبیب الله دزد هیچکس صفات این قهرمان ملت نجیب\n\nامان الله خان کی باطله\nاشاعت کی تردید\nحال ہی میں امان اللہ خان نے ایک اعلان شائع کیا ہے\nاور اس میں وہ بعض اعتراضات کی تردید کرتا ہے\nجن پر ابھی تک ہماری داخلی مطبوعات نے قلم نہیں اٹھایا\nبلکہ وہ اسکے اپنے اعمال اور نظریات ہیں جنکو ہم اسکی\nسہو و خطا قرار دیتے ہیں۔ امان اللہ خان لویه جرگه\n(شوری کبیر) کے حقیقی اور ٹھوس اعتراض کا جواب نہیں دیتا\nاور سرسری گذر جاتا ہے آئندہ اسکی بعینہ اشاعت کر دی جائینگی\nمحمّد نادر شاہ کی نامور شخصیت اور ذات حمیدہ صفات پر جو دیانت\nاور مکارم اخلاق کا پتلا ہے نہایت لغو اور بے شرما تعرض\nہم مبالغہ یا در شاہ کے بغیر کہ سکتے ہیں کہ آج عالم انسانیت میں افغانوں کے\nنجیب ملت کے اس می آور فرمانروا محمد نادر شاہ افغان میں پسندید صفات"}
{"book": "adl0111", "page": 5, "text": "۲\nاغفال را انکار کرده نتوانسته است امان الله خان اور ستوده خصائل موجود ہیں کہ کوئی فریب بھی گران اللہ خان\nدر اعلان خود مینویسد که : ڈا کو حبیب اللہ کے سوا ان محامد و محاسن بیگانہ ہیں کہ امان الله خان\nاپنے اعلان میں قمطر از ہے کہ :۔\n\" فتوحات نادر شاہ ازین بود \" نادر شاہ کے موقع وظفر کا سہرا صرف اسوجہ ہے کہ\nکه در ظاهر بنام امان الله خدمت میکرد اپنے ملک کے میلان کو دیکر کہ وہ امان اللہ کی طرف دار ہے\nو ملت را طرفدار امان الله دیده اعلان ظاہراً یہ اعلان کیاکہ وہ امان اللہ کعالم ورحمت پیرس کی\nکرده بود که برای قیام دوباره سلطنت سلطنت اور اسکے تخت و تاج کو دوبارہ بحال کرنے\nامان الله جهد میکند، ازین رو ملت همراه کیلئے جدوجہد کر رہا ہے۔ یہ سب جو ملت نادر شاہ\nو همدست نادرشاه شد و نادرشاه بخودا ساتھ دیا اور نادر شاہ نے کو شکست دینے اور اسکے غلبے کو\nشکست داده محو ساخت \" فنا کرنے میں کامیاب ہو سکا\"\n(جواب) (جواب)\n{امان الله خان بطرف افغانستا} ملت افغانستان امان الله خان کو قت\n{منفور است . } نفرت کی نگاہ دیکھتی ہے {\nما بر عقل و دانش امان الله خان خیلی افسوس میکنیم ہم امان اللہ کی عقل و دانش پر جسقدر افسوس ملیں تو ھوکریں\nو میگوئیم ، ملت افغانستان بار دیگر برعقل و دانش کم ہے اور ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ افغانستان کی\nامان الله خان فریب نمی خورد هنوز صحائف جرا زخم خورده ملت امان اللہ خان کی فریب کاریوں اور\nو کتب تازه ترین دنیا از میان مفقود نگردیده عام عیاریوں کا بار دگرشکار نہیں بن سکتی ۔ دنیا کے نبالرات\nن\nاز احوال روز مره جنگ ملت دامان اور کام بیبوقی جن کے صفحات پر جلی حروف میں سرخیاں لکھی جاتی تھیں ار اناسنا\nپرنٹیڈ یپ پریس (۲۵۰۰) (ستمبر نمبر )"}
{"book": "adl0111", "page": 6, "text": "۳\n\nتنفر اهالی افغانستان از امان الله بـاندازه نبوده که\nشخص نادرشاه در موقع ورود بخاک افغان حرفی\nاز امان الله خان بزبان آورد و میتوانست در کابل\nخلع امان الله و فرار او بقندهار و بعد از شکست غزنی\nفرارش به ایتالیا همه‌یک منظره دلبریابی ملت\nو امان الله را بدنیا ظاهر ساخت ! فرد فرد ملت\nمیداند که طول ایام مجادلات سمت جنوبی و صفحاتی\nمحض ازین بود، که ملت نسبت به نادرشاه اشتباه\nداشت، که مبادا خدمات نادرشاه منسوب به\nامان الله شود تعجب است، چنین یک دروغ سیاه\nچه طور از قلم امان الله برآمده توانست، اگر امان الله\nمحبوب ملت بود، انقلاب کبیر افغانستان چرا\nبمیان آمد؟ خاندان افغانستمان بآتش انقلاب\nسوخت؟\nامان الله میگوید :-\nبنابر اینکه نادرشاه وعده فرمود\nبود که نه خود و نه خاندان نادری اراده\n\nکے خونین انقلاب پر نادرترین کتابیں ابھی روۓ زمین پر\nگم نہیں ہوئیں اور سارا جہان ملت اور امان کی باہمی کشمکش\nاور ہولناک جنگ کے روزمرہ واقعات کما حقہ آگاہ ہے۔\nافغانستان کے باشندوں کے دل و دماغ میں امان اللہ سے\nاس حد تک نفرت کراہیت جاگزین ہوچکی تھی کہ محمد نادر\nشاہ افغان جسوقت افغانستان کی خاک میں وارد ہوتا ہے\nامان اللہ کی حمایت اور طرفداری کا دم بھرنا تو درکنار اسکا\nنام بھی زبان پر نہیں لاسکتا۔\nامان اللہ کا کابل میں تخت سے دستبردار ہونا اور پھر قندھار کو\nفرار کرنا اور پھر غزنی کی شکست کے بعد دل ہار دینا اور نیست نابود\nہوجانا اور پھر ایسا سر پر پاؤں رکھکر بھاگنا کہ سیدھے\nاٹلی ہی میں جاکردم لیا ایسے جالب توجہ واقعات اور پرلطف\nحقایق ہیں کہ ملت اور امان اللہ کے باہمی تعلقات کی\nتار وپود کو دنیا کے سامنے بکھیرکر رکھدیتے ہیں۔\nملت کا ہر فرد اس کھلے راز سے اچھی طرح واقف ہے\nکہ سمت جنوبی اور مغول کے محاربات کا اتنی مدت تک\nطول کھینچنا صرف اسوجہ سے تھا کہ ملت کو محمد نادر\nشاہ افغان کی نسبت یہ شبہ اور بدگمانی تھی کہ وہ امان اللہ\nکے تخت و تاج کی حمایت میں جان لڑارہا ہے۔ ہمیں تعجب ہے کہ\nامان اللہ کو ایسے صریح جھوٹ لکھنے کی کیسے جرات ہوئی ؟\nکیا اسکے قلم نے میدانِ قرطاس پر غوطہ زنی کھانی ہوگی ؟ اگر\nامان اللہ کو یہ مغالطہ ہو کہ ملت اسکو چاہتی تھی اس پر\nہزار جان سے فریفتہ و شیفتہ تھی تو افغانستان\nمیں اتنا عظیم انقلاب کیوں برپا ہوا ؟\nافغانستان کا خان و مان کیوں اس انقلاب کی\nشعلہ زن آتش سے جل کر راکھ ہوگیا؟\n(امان اللہ کہتا ہے):-\n\"چونکہ نادر شاہ نے وعدہ کیا تھا کہ نہ وہ خود\nاور نہ ہی اسکا خاندان پادشاہی کی"}
{"book": "adl0111", "page": 7, "text": "سلطنت دارند، ملت بنادرشاه خواہش رکھتا ہے تب ملت نے نادرشاہ کی\nامداد کرد و به امرا و با سقاوه ظل محانه امداد پر کمر باندھی اور اسکے حکم سے سقے کے ساتھ\nشد بالآخر نادرشاه وعده خود را لڑائی شروع کردی۔ لیکن آخر کار نادر شاہ نے\nایفا نکرد \" اپنے وعدے کو وفا نہ کیا “\n(جواب) (جواب)\nاعمال شنیعه امان الله خان در امان اللہ خان کی سیا کاریوں او اعمال\nافغانستان آتش افروخت شنیعہ نے افغانستان میں آگ سلگائی\nراست است که از طرف اعلحضرت محمد نادرشاه یہ حقیقت ہے کہ جبوقت لوگ اعلیحضرت غازی\nمحمد نادر شاہ افغان کو مجبور کرتے تھے کہ وہ اپنی پادشاہی کا در اوقاتیکه او را مجبور میکردند که اعلان پادشاهی اعلان کردیں انہوں نے صاف انکار کر دیا ، اور\nمحمد نادر شاہ افغان ہمیشہ یہی اظہار فرماتے رہے کند ، محمد نادرشاه اظهار میفرمود که من برای کہ نہ تو مجھے پادشاہی کی ہوس ہے اور نہ میں\nاسکے لئے آیا ہوں بلکہ میں اور میرا خاندان یہ چاہتا ہے پادشاهی افغانستان نیامده ام بلکه من خاندانم کہ ہم اپنے پیارے وطن افغانستان کی خدمت بجا\nلائیں اور آرزو رکھتے ہیں کہ ملک کو سقے کی نگو شت میخواهیم خدمت افغانستانر ایجا آریم و وحشت سقاوا داستیلا سے پاک کریں اور اپنے برادران وطن کو\nاسکے پنجہ ظلم و بربریت سے نجات دلائیں اور پھر دور کرده با نتخاب تمامی اہالی افغانستان پادشا سب افغانستان کے باشندوں کے انتخاب اور\nاتفاق آرا سے ایک پادشاہ مقرر کریں “ افغانستان را تعیین کنیم \" اگر امان الله خان ازین اعلان پس اگر امان اللہ خان نے الغازی محمد نادر شاہ افغان\nکے اس بے لوث اعلان اور بیغرض اظہار سے و اظهار نادر شاه اینطور فهمیده بود که بعد از امحای یہ نتیجہ نکالا ہے کہ سقے کے غلبے اور حکومت کے استیصا\nو امحا کے بعد ملت افاغنہ کے انتخاب کا قرعہ امان اللہ حکومت سقوی منتخب ملت امان الله خواهد بود ، کے نام پر پڑیگا تو یہ کہنا بیجانہ ہو گا کہ امان اللہ\nاپنے تمام ہوش و حواس کو کھو بیٹھا ہے کیونکہ پس جای تعجب نیست که بگویم امان الله تمام عقل و نکرود اب اسکو اتنا بھی شعور نہیں رہا کہ یقینی رائے میں"}
{"book": "adl0111", "page": 8, "text": "باخته است اینقدر هم نمیداند ، که در موقعیکه پادشاه\nافغانستان بود ، سقوزاده را بر او ترجیح دادند\nو او را از مملکت خارج کردند، چه طور میشود که بعد از\nسقو او را دوباره انتخاب کنند ، آیا امان الله\nتا امروز معنی این انقلاب را هم نفهمیده که یک ملت\nباین بزرگی بجان و مان خود بی سبب آتش میزند\nو هیچ نقطه نظری نداشته یکدفعه برای نفی امان الله\nافغانستانرا سرد چار آتش سوزان میسازد، و با\nامان الله را انتخاب میکند ، حال آنکه این ملت\nانقلاب کبیر افغانستان را سنجیده و دیده و دانسته\nبروی کار کرد ، تا از پنجه بی دیانتی و قبایح اخلاقی\nو سوء اداره نجات یابد ، امان الله خان هر چه\nمیخواهد بگوید ، اما حق ندارد ملت ما را یک ملت\nبی اراده به دنیا معرفی کند !\n( اسرار چهره ها برها میقده )\nاگر امان الله ما را بهر زه پرا خود مجبور ساخت ، ممکن است\nتمام مسائل اخلاقی او را که با ستناد و فوتوگرافی های\n\nافغانستان کا مطلق العنان بادشاه تھا اور\nاسکا طوطی بول رہا تھا ملت نے سقہ زادہ کو\nاس پر ترجیح دی اور اسکو اپنے ملک سے\nنکال باہر پھینک دیا ۔ پس اب یہ کیسے\nممکن ہو سکتا ہے کہ سقے کے بعد پھر اسکو\nدوبارہ انتخاب کریں ؟ کیا امان اللہ نے\nاس خانمان سوز انقلاب کے معانی پر\nابھی تک غور نہیں کیا کہ ایک اتنی بڑی ملت\nاپنی جان و مال کو بے سبب ہلاکت کے\nگڑھے میں کیسے دھکیل سکتی ہے اور اپنے\nگھر بار اور املاک عزیز کو بے دلیل کس طرح نذر\nآتش کر سکتی ہے ؟ اور کسے ہو سکتا ہے کہ اسکا\nکوئی نقطۂ نظر ہی نہ تھا ؟ بھلا ایک طرف تو وہ\nامان اللہ کو افغانستان سے نکالنے کیلئے آگ میں\nپڑتی ہے اور دوسری طرف اسی امان اللہ کو\nانتخاب کر کے سلطنت کی باگ ڈور اسکے\nہاتھ میں دے دیتی ہے حالانکہ اس ملت نے\nانقلاب کبیر افغانستان کے نتائج کو اچھی طرح\nسوچ لیا تھا اور دیدہ و دانستہ اسلئے تلخ\nتجربے کے لئے آمادہ ہوئی تھی ، اس کی محرک\nیہ بات تھی کہ بددیانتی ، بدچلنی اور بدانتظامی\nکے تسلط اور برے اثر سے نجات پائے ۔\nامان اللہ خان کے دل میں جو کچھ آئے\nکہ لے ، لیکن اس کو کوئی حق حاصل\nنہیں کہ دنیا میں ہماری ملت کا تعارف\nاسطرح کرائے کہ ملت افغانستان ایک بے ارادہ\nملت ہے اور اسکو برے بھلے کی کوئی تمیز نہیں۔\n( امان اللہی دربار کے اسرار )\nاگر امان اللہ نے اپنی یاوہ گوئی اور ہرزہ سرائی سے\nہمیں افشائے راز پر مجبور کیا ، ممکن ہے کہ ہم اس کے"}
{"book": "adl0111", "page": 9, "text": "که تا هنوز چشم بشریدن آنطور اعمال خلاف تقاضای\nبشری شنا نشده شایع کنیم، و پیش نظر دنیا بگذاریم\nکه آیا دارای چنین دیانت و اخلاق، قابل پادشاهی\nنوع بشر است؟ ملت مسلمان افغان حق بجا نیست\nکه او را از خطه افغانستان خارج کند؟ می کنیم\nهنوز هم نادر شاه مانع افشای اینگونه رازها میباشند\nورنه نشر اسرار در بار امان الله از اسرار جمیع\nدر بارهائیکه تا امروز نوشته شده قبیح تر است.\nحکومت نادری منتخب\nعموم ملت است\nآیا اعلیحضرت نادر شاه وقتیکه در کابل پادشاه\nانتخاب شد، سمت مشرقی، جنوبی، قندهار، هرا\nمزار شریف، قطغن و بدخشان، میمنه و فراه\nکه هنوز در دست نادر شاه نبودند، و عسکر و افسر\nنادر شاه در تمام افغانستان حکمفرما نبود چه طور\nبه مهربانی خدا بیعت فرستادند، و چگونه جنگ\nو جدال داخلی افغانستان بفضل خدا بمجرد اعلان\n\nاخلاقی مسائل کو شایع کریں، انکی تصدیق میں پوری\nپوری شہادتیں بہم پہنچا سکے اور ایسے فوٹو دکھائے\nکہ انسان کی آنکھ نے ابھی تک ایسے حیا سوز افعال\nاور خلاف فطرت اعمال نہیں دیکھے ۔ اور دنیا کے\nسامنے پیش کر کے اس کو غورو تبصرہ کیلئے کہ آیا وہ\nذمہ دار شخص جسکی دیانت اور اخلاق کا یہ حال ہو\nبنی نوع بشر پر حکمرانی اور سلطنت کرنے کی صلاحیت\nواہلیت رکھتا ہے؟ آیا افغانوں کی مسلمان ملت\nحق بجانب نہ تھی کہ اس کو افغانستان کی خاک\nپاک سے باہر نکال دیں؟ لیکن کیا کریں کہ اب بھی\nالغازی محمد نادر شاہ افغان ہمیں صبر کی تلقین\nکرتا ہے اور ایسے رازوں کے طشت از بام\nکرنے سے منع فرماتا ہے ۔ ورنہ انکے نشر سے صاف\nظاہر ہو جائیگا کہ امان اللہ کے دربار کے اسرار سب\nدنیا کے درباروں کے اسراروں سے جو آجتک حیطہ تحریر\nمیں آتے ہیں کریہہ تر اور قبیح تر ہیں ۔\nعموم ملت نے محمد نادر شاہ افغان کو\nبرضا ورغبت اپنا پادشاہ مقرر کیا ہے\nکیا دنیا کو معلوم نہیں کہ جس وقت اعلیحضرت غازی\nمحمد نادر شاہ افغان اتفاق آرا سے منتخب ہو کر مسند\nشاہی پر متمکن ہوئے فوراً سمت مشرقی، سمت جنوبی،\nقندھار، ہرات، مزار شریف، قطغن و بدخشان\nمیمنہ و فراه وغیرہ نے کہ جن پر ابھی محمد نادر شاہ افغان\nکا تسلط و اقتدار قائم نہیں ہوا تھا اور اعلیحضرت\nممدوح کی فوج اور حکام و عمال تمام افغانستان کے\nمتفرق نقاط میں حکمفرما نہیں تھے کس طرح اللہ کے\nلطف و کرم سے اپنی اپنی بیعتیں بھیجنے میں مبادرہ کی؟\nاور محمد نادر شاہ افغان کی ہر دلعزیز شخصیت کی خوشخبری\nکے اعلان کے ساتھ ہی خدا کے فضل احسان سے\nافغانستان کی خانہ جنگی کیسے دفعہ معدوم ہو گئی؟\nاور ساری مملکت میں جبر واکراہ کے بغیر خود بخود من"}
{"book": "adl0111", "page": 10, "text": "پادشاهی، نادرشاه ساکت شده، واقعیت\nخود بخود قائم گردید . مگر این مسلئه دلیل نیست\nکه پادشاهی نادرشاه منتخب تمام افغانان\nاست. اگر بفضل خدا انتخاب نادرشاه\nبه پادشاهی افغانستان وسیلهٔ رفع انقلاب\nنشد، کدام چیز بود ؟ که افغانستان را از انقلاب\nو خانه جنگی نجات داد، در آنوقت زور سر نیزه\nو برچه کجا بود ؟ این مسلئه چیز مخفی نیست ،\nپیش دنیا از آفتاب روشن تر است اعلیحضرتی\nنادرشاه بحضور تمام اکابر ملت و وکلا مٹی\nکه در مقابلهٔ سقوی حاضر شده بودند و هم تمام\nنمایندگان دول سفیر کبیر ترکیه ومستشار سفارت\nروسیه و اعضا سفارت فرانسه وایران در\nسلامخانه از قبول پادشاهی بار بار استنکاف\nفرمودند، لیکن اصرار اهالی و مشورهٔ نمایندگان\nدول متحابّه اعلیحضرت (نادرشاه) را به قبول\nپادشاهی افغانستان وادار ساخت .\n\nقائم ہو گیا ، کیا یہ امر واقعہ اس بات کی دلیل نہیں ہے\nکہ محمد نادر شاہ افغان کے انتخاب بادشاہی پر تمام\nافغانستان متفق اللسان تھا ؟ اگر خدا کے فضل سے\nمحمد نادر شاہ افغان کی مرغوب ذات جسکو نفا نستانکی\nبادشاہی کیلئے منتخب کیا گیا انقلاب کے رفع کرنیکا\nذریعہ نہیں بنی تو اور کونسی دوسری چیز تھی در دہ تونسی\nطاقت تھی جس نے ایک آن میں افغانستان کو انقلاب\nاور باہمی قتل و قتال سے نجات دلوائی ؟ اس سلسلہ میں\nکے وقت میں تو لشکر کی کثرت تھی اور نہ تلوار کی تیزی تھا\nاور سنگین کی نوک یا نیزے کی انی کام کر رہی تھی۔ حقیقت\nایسی نہیں جو پردۂ اخفا میں بلکہ آفتاب سے بھی روشن تر ہے۔\nاعلیحضرت غازی محمد نادر شاہ ان تمام اکابر مملکت اور وکلا ائے\nملی کے سامنے جو بچہ سقا کے مقابلے کیلئے جمع ہوئے تھے\nپادشاہی کے بار گران اٹھانے سے بار بار انکار فرماتے رہے\nاور تمام دولتوں کے نمائندے مثلاً ترکیہ کا سفیر کبیر روسی\nسفارت کا مستشار ، فرانسیسی اور ایرانی سفار نوبں\nکے اعضا بھی سلامخانے میں موجود تھے لیکن اہالی کے\nاصرار اور متحا بہ دولتوں کے نمائندوں کے مشورے سے\nاعلیحضرت نادر شاہ افغانستان کی بادشاہی قبول کرنے پر مجبو ر ہوئے ۔"}
{"book": "adl0111", "page": 11, "text": "۸\nاولین بیوفا و نمک ناشناس امان الله خان بود\nامان اللہ خان سب سے بڑھکر بیوفا و نمکحرام تھا\nآیا برای حکمرانیکہ بانتخاب ملت تعیین میشود، قبول پادشاهی نمک ناشناسی و بیوفائی است! پس خود امان الله بمقابل اعلحضرت شہید نمک ناشناس و بی و فاترین آدمہای دنیاست، در اسلام وفا و بیوفائی، نمک شناسی و ناشناسی را شرائط معین دارد، حقوق پادشاہ و رعیت را در اسلام شرح مفصل داده است، بیعت بیک پادشاہ تا وقتی ساقط نمیشود، که پادشاه با شرائطیکه اسلام تعیین کرده پابند باشد، وقتیکه از حد و آن تجاوز و ترک پابندی کرد، حق بیعت او ساقط میگردد، ما ملت به پادشاهان افغانستان ہمیشہ باین شرائط بیعت کردہ ایم، که به اسلام و شریعت و اخلاق خیانت نکنند، وعلاوه علم حقوق هم امروز در دنیا پادشاہ، رئیس جمهور و کافه مأمورین یک ملت را نمک خوار ملک و ملت\nآیا اس حکمران کیلئے جو ملت کے متفقہ انتخاب اور اصرار سے مقرر ہوتا ہے پادشاہی کا قبول کرلینا نمکحرامی اور بیوفائی کے معنی رکھتا ہے ؟ اس استدلال سے ثابت ہوتا ہے کہ اعلحضرت خلد آشیاں امیر شہید کے مقابلے میں خود امان اللہ دنیا کے بڑے بڑے نمکحراموں اور غداروں سے بھی بازی لیگیا ہے۔ جاننا چاہیئے کہ دین اسلام میں وفاداری و بیوفائی، نمکحلالی اور نمکحرامی کیلئے خاص خاص شرطین معین کی گئی ہیں، اسلام نے پادشاہ اور رعیت کے حقوق کی پوری تفصیل کے ساتھ تشریح کی ہے کسی بادشاہ کی بیعت اس وقت تک ساقط و فسخ نہیں ہوسکتی جبتک کہ وہ اسلام کی قایم کردہ شرائط کا پابند ہے۔ لیکن جونہی اس نے ان حدود سے تجاوز کی اور انکی پابندی سے منہ موڑا اسکی بیعت کا حق ساقط ہوجاتا ہے، ہماری ملت نے افغانستان کے کل بادشاہوں کی ہمیشہ ان شرائط پر بیعت کی ہے کہ وہ دین اسلام کے پابند رہینگے، شریعت پر چلینگے پاکیزہ اخلاق اور اعمالِ حسنہ سے ہمیشہ آراستہ رہینگے اور اپنی ذمہ داریوں میں کبھی خیانت نہیں کرینگے اس کے علاوہ آج دنیا میں علم حقوق بھی ایک ملک کے پادشاہ اور رئیس جمہور اور جملہ ملازمین کو ملک و ملت کا نمکخوار قرار دیتا ہے۔ امان اللہ کو"}
{"book": "adl0111", "page": 12, "text": "۹\n\nدانم و میکند ، مگر امان الله سر بگریبان خوُد\nکرده خدا را حاضر دیده تنها با نفس خود فیصله کند\nکه به دیانت و اخلاق چه خیانت کرده است\nو با نمک و نمکدان چه کرد ؟؟ بلی امان الله خان\nسردار نصرالله خان مرحوم را برای پادشاهی خود\nبی وفا و نمک ناشناس اعلان کرده بود ،\nاین اصطلاحات جبروتی و استبداد را چرا\nامان الله استعمال میکند ، در اسلام خلفای\nراشدین رضی الله عنهم اجمعین ، از روی تقوی\nو دیانت ، و اخلاق انتخاب شده اند، یا شرعاً\nسلطنت بنی امیه ، عباسیه ، فاطمیه، ایوبیه\nعثمانیه ، غزنویه ، سلجوقیه ، غوریها ، سدوزائیها\nوغیره را امان الله چه میگوید ؟ امان الله تصور\nمیکند که نادرشاه خواجه حافظ بود، که\nبه خال هندوی امان الله افغانستان را\nمی بخشید !\n\nچاہیے کہ ذات باری کو حاضر و ناظر جانکر اپنے گریبان میں\nمنہ ڈالے اور تنہا اپنے نفس کے ساتھ فیصلہ کرے\nکہ اس نے دیانت اور اخلاق کے ساتھ کیا خیانت\nکی ہے اور نمک اور نمکدان کا کہاں تک پاس رکھا ہے؟\nامان اللہ خاں نے اپنی پادشاہی کے قیام اور جواز\nکیلئے سردار نصراللہ خاں مرحوم کو بھی بیوفا اور نمکحرام\nگردانا تھا ، امان اللہ کو کیا حق حاصل ہے کہ ایسی مستبدانہ\nاور جابرانہ اصطلاحات استعمال کرتا ہے ؟ آیا دینِ مقدس\nاسلام میں خلفای راشدین رضی اللہ عنہم اجمعین کا تقویٰ\nدیانت اور پسندیدہ اخلاق کی رو سے انتخاب\nکیا گیا تھا یا خلافت انکو ورثے میں ملی تھی ، امان اللہ\nبنی امیہ ، بنی عباسیہ ، فاطمیہ، ایوبیہ ، عثمانیہ، غزنویہ،\nسلجوقیہ، غوریوں ، سدوزیوں وغیرہ کی سلطنتوں اور\nسلاطین کے بارے میں کیا درفشانی کرتا ہے ؟ امان اللہ\nیہ تصور کئے بیٹھا ہے کہ عہدنادرشاہ افغان بھی خواجہ حافظ تھے\nجو امان اللہ کے ایک خال ہندو پر افغانستان کو بخش دیتے۔"}
{"book": "adl0111", "page": 13, "text": "۱۰\n\nامان الله میگوید:\nامان الله کہتا ہے : -\n\n”نادر شاہ امنیت را قایم\n” نادر شاہ ملک میں امن قائم نہیں کر سکتا\n\nکرده نمیتواند، چرا که بملت\nکیونکہ اس نے ملت کے ساتھ وعدہ کیا تھا\n\nوعده داده بود که برای امان الله\nکہ میں امان اللہ کے لئے خدمت\n\nخدمت می کند؟\nکر رہا ہوں“\n\nجواب\nجواب\n\n(دوره امانی کاملا عصر بی‌نظمی و اغتشاش بود)\nامان الله کا عہد سراسر شورشوں اور بغاوتوں اور بے انتظامیوں کا عہد تھا\n\nامان الله خان خیال میکند امنیت افغانستان\nامان الله خان کے سر میں یہ خیال سمایا ہوا ہے کہ\n\nبه پادشاهی امان الله منوط است، مگر امان الله\nافغانستان کی امنیّت صرف اُسی کی ذات اور بادشاہی\n\nده سال پادشاه نبود، چرا امنیت را\nسے وابستہ ہے۔ کیا امان اللہ دس سال تک حکمران\n\nقائم نکرد؟ انقلاب دیهدادی، مزار شریف\nنہیں کر رہا تھا؟ کیوں امن کرنے سے قاصر رہا؟\n\nمحاربه سلطان محمد در زمین داور قندهار، محاربه\nکیا دپدادی کی شورش، مزار شریف کا اختلال\n\nملا عبدالله و عبدالکریم، جنگهای قوم صافی\nسلطان محمد کا زمینداور قندھار میں حکومت کے خلاف اُٹھنا\n\nو خوگیانی، چپه و راونهای محسن دزد در اطراف\nاور لڑنا، ملا عبدالله اور عبدالکریم کا محاربہ، قوم صافی کی\n\nارگ امان الله، شورش شنواری و بالاخر\nباہمی لڑائیاں اور خوگیانیوں کی جنگ جنکے باہمی نزاع\n\nجنگ بچه سقو، در نتیجه شکست امان الله\nکے دفاع کی قوت حکومت سے سلب ہو چکی تھی اور خاموش\n\nاز غزنی و فرار او به ایطالیا همه دلیل آنست\nبیٹھی تماشا دیکھ رہی تھی، محسن چور کا امان الله کے محل\nشاہی کے گرد و نواح میں دیدہ دلیری سے بار دھاڑ کرنا،\nشنواریوں کی سرکشی اور آخر کار بچہ سقا کی جنگ اور کابل پر\nتصرف اور پھر امان اللہ کا غزنی میں شکست کھا کر سیدھے\nاٹلی کو بھاگ جانا اس بات کی دلیل ہے\n\nتھر یز محسن\nتحریف (۲۰۰)"}
{"book": "adl0111", "page": 14, "text": "که امنیت افغانستان را بخود منسوب میکند؟\nمگر امان الله فراموش کرده که در محاربه سقا\nغش میکرد، و مادرش او را تسلی میداد\nو از بزدلی اورا منع میکرد و با و میگفت که این\nبی تحملی تو ننگ نام اجداد غیور تست،\nضعف ظاهر مکن که سلاطین دنیا ازین عا\nزندگی بسیار دیده اند، فرض کن کشته شدی\nمگر پادشاه بی جز تو در دنیا کشته نشده است؟\nاین همه داستانهای امان الله مگر فراموش\nخاطر او شده که باز اثبات وجود میکند،\nامنیت امروز افغانستان را اگر خدا شاری\nو جهد نا در شاه قائم نکرده، مگر امان الله\nدر ایطالیا نشسته افغانستان را بتوجه با من\nساخته است، بجز اینکه بگوئیم، امان الله از\nیاده سرائی میخواهد خود را در دنیا بیشتر\nرسوا کند. دیگر نتیجه حاصل نخواهد گرفت.\n\nکه افغانستان کی امنیت کو اپنی ذات کیطرف منسوب\nکرنے کی جرأت کرسکے؟ شاید امان اللہ کی یاد سے اتر\nگیا ہے کہ بچہ سقا کی جنگ کے دوران میں اس کو باری\nخوف کے غش پر غش آتے تھے اور اسکی بہادر ماں سکو\nتسلیاں دیتی تھی اور اس کو بزدلی کے اظہار سے\nمنع کرتی تھی اور اسکو نصیحت کرتی تھی کہ اضطراب اور\nحواس باختگی کا دکھانا تیرے لئے شرم وعار ہے\nاور تیرے غیور آباء اجداد کے نام پر بٹہ لگتا ہے۔\nنہ ایسے کمزور بنو اور نہ ہی اپنی کمزوری دکھاؤ کیونکہ دنیا\nبادشاہوں نے اپنی اپنی زندگیوں میں ایسی بہت سی ٹھن\nمنزلیں دیکھی ہیں۔ فرض کرو کہ تم مارے جاؤ گے تو کیا\nتیرے بغیر دنیا میں کوئی بادشاہ قتل نہیں ہوا؟\n(یہ ہے حالت اس شخص کی جو اپنے عزم اور ارادے کو\nکوہ ہمالیہ سے بھی متین اور بلند کہا کرتا تھا) ایسا\nمعلوم ہوتا ہے کہ امان اللہ نے ان سب واقعات کو بھلا دیا ہے اور\nاگر نہیں بھلایا تو اب وہ کس بوتے پر ڈینگیں مارنے لگا ہے؟\nاگر آج افغانستان میں محمد نادر شاہ افغان کی خدا شناسی اور\nپُر مغز بیداری و مساعی جمیلہ نے امن قائم نہیں کیا تو کیا جائے\nامان اللہ اٹلی میں قبا در استغراق میں بیٹھے ہیں اور انکی تو جہ کی برکتی\nجو افغانستان میں دائمی سکون قائم ہوا ہے۔ واہ رے تیری\nتوجہ کے کیا کہنے۔ ان ہزلیات کے بکنے سے سوا اسکے اور کوئی\nنتیجہ نہیں نکل سکتا کہ امان اللہ اپنے آپ کو دنیا میں\nاور بھی رسوا و بدنام کر رہا ہے۔"}
{"book": "adl0111", "page": 15, "text": "۱۲\n\nامان اللہ میگوید:\n”نادر شاہ تمام ماموریت ہا را\nبه برادران و اقربای خود تفویض\nکرده است و بدیگران ہیچ یک\nمنصب عالی نمانده بجز چپراسی گری“\n\nجواب\n(خدمات قابل قدر خاندان نادری)۔\n\nالبته برادران نادر شاہ در محاربات\nافغانستان ہمیشہ خدمات برگزیده کرده اند\nچنانچہ عالیقدران جلالتمآبان سردار شاہ ولیخان\nو سردار شاہ محمود خان در جهاد استقلال\nدر فتح ٹل ووانو ، دوش بدوش اعلیحضرت\nنادر شاہ در میدان جنگ خدمت میکردند\nفاتح کابل سردار شاہ ولیخان و فاتح سمت\nشمالی و اسیر کنندهٔ بچہ سقا سردار شاه محمود خان\nاست، در موقعیکه در ناحیهٔ قطغن از شرارت ابراہیم بیگ\nآتش افتاده بود، همین شاه محمود خان بود که\n\nامان اللہ کہتا ہے:۔\n\n”نادر شاہ نے بڑے بڑے\nجلیل القدر عہدوں پر اپنے\nبھائیوں اور اپنے اقربا کو مقرر\nکر رکھا ہے اور ملت کے\nدوسرے افراد کے لئے\nچپراسی گری کے سوا کوئی بڑا\nمنصب باقی نہیں رہا“\n\nجواب\n(نادری خاندان کی قابلِ قدر خدمات)\n\nدنیا جانتی ہے کہ محمد نادر شاہ افغان کے بھائی\nصرف آج ہی اتنے بزرگ مراتب پر فائز نہیں\nہوئے بلکہ اس سے پہلے بھی وہ اپنی ممتاز لیاقت\nاور جان نثاری کی وجہ سے بڑے بڑے عہدوں کے\nاہل سمجھے گئے تھے ۔\nمحمد نادر شاہ افغان کے بھائیوں نے داخلی و خارجی\nجنگوں میں برگزیدہ خدمات انجام دی ہیں۔ چنانچہ\nعالیقدران جلالت مآبان سردار شاہ ولیخان اور\nسردار شاہ محمود خان نے جہاد استقلال کے دوران میں\nوانو اور ٹل کی فتح میں اعلیحضرت غازی محمد نادر شاہ کے\nدوش بدوش میدان جنگ میں شاندار خدمت کی ہے۔\nکابل کی فتح کا سہرا سردار شاہ ولیخاں کے سر اور سمت\nشمالی کو فتح کرنے والا اور بچہ سقا کے گرفتار\nکرنے والا سردار شاہ محمود خاں ہے۔ اسکے\nعلاوہ ان دنوں جبکہ باغی اور طاغی ابراہیم بیگ نے\nقطغن کی مضافات میں اودھم مچا رکھا تھا اور\nرعایا کی جان و متاع سخت خطرے میں\nپڑی ہوئی تھی ، یہ شاہ محمود خاں غازی کی\nذات تھی جس نے نہ صرف اس فتنہ و فساد کی"}
{"book": "adl0111", "page": 16, "text": "۱۳\n\nاز مساعی خود نه تنها آن آتش سوزان را خاموش کرد بلکه برافروزنده آنرا هم محو و نابود ساخت\nجناب عالیقدر جلالتمآب سردار محمد ہاشم خان سرسراوس اعلیحضرت امیر شهید و نائب سالار ہرات و مشرقی نائب وزیر حرب امان اللہ وزیر مختار افغانی در ماسکو و بالاخره قائد سمت مشرقی بمقابل سقو بودند، بدرخواست اہالی قندہار وارد قندہار شدند، آیا اعلیحضرت محمد نادر شاہ برادران خویش را که ملت آنها را از جان دوست تر دارند، خانه نشین میکرد و خدمات برادران خود را تقدیر نمی فرمود، و ملت و مملکت را از مساعی ایشان محروم میساخت؟ و مثل سردار عنایت اللہ خان معین السلطنه (برادر کلان امان اللہ) بیکار می گذاشت و هزاران راپورچی در عقب شان می گماشت؟ ممکن است این کار را نسبت بخاندان خود\n\nبھڑکتی آگ کو بجھایا بلکہ فساد کے بانیوں اور باغیوں کا بھی پوری طرح سے قلع و قمع کر دیا ۔\nجناب عالیقدر جلالتمآب سردار محمد ہاشم خان سرسراوس امیر شہید ہرات کے ملکی و جنگی نائب سالار تھے اور امان اللہ کی حکومت میں نائب وزیر حرب اور پھر ماسکو میں وزیر مختار افغانی مقرر تھے، اور آخر کار بچہ سقا کے مقابلے میں سمت مشرقی کے قائد تھے ۔ فتح کابل کے بعد اہالی قندھار کی درخواست پر قندھار تشریف لائے۔ آیا ہو سکتا تھا کہ اعلیحضرت غازی محمد نادر شاہ افغان کی قدر دان و خدمت شناس ذات اپنے لائق اور جان نثار بھائیوں کی خدمات کو کہ جنکو ملت اپنی جان سے بھی عزیز رکھتی ہے پاؤں سے ٹھکرا دیتی اور انکو خانہ نشین کر دیتی اور ملک و ملت کو انکی کار دانی اور خدمت سے محروم کر دیتی؟ اور کیا محمد نادر شاہ افغان مجبور تھا کہ امان اللہ کی تقلید کرتے ہوئے سردار عنایت اللہ خان معین السلطنہ کی طرح (امان اللہ کا بڑا بھائی) اپنے بھائیوں کو بیکار بٹھا دیتہ اور ہزاروں جاسوس ان پر چھوڑ دیتا؟ ایسا کام تو شریر امان اللہ ہی کی ذات سے سرزد ہو سکتا ہے لیکن محمد نادر شاہ افغان کو اپنے خاندان پر پورا اعتماد ہے اور ملت بھی اسکے بھائیوں کی دیانت،"}
{"book": "adl0111", "page": 17, "text": "١٤\n\nامان الله خوبتر کرده میتوانست ، اما محمد نادرشاه\nبر خاندان خود اعتماد کامل دارد و دیانت و\nاخلاق و فداکاری برادران نادرشاه بحضور\nملت نیز ظاهر است ، و ملت بر برادران\nمحمد نادرشاه اعتماد کامل داشته و\nدارد ، لیکن اقربا نوازی بیجا از امان الله\nبود ، که ما می خواهیم تشریح کنیم: اعلیحضرت\nمحمد نادرشاه تمام مأمورین افغانستان\nو اقربای امان الله را برادر و فرزند خود میداند\nهر کس که لیاقت و صداقت برای خدمت\nوطن داشته باشد و دارد اعلیحضرت\nمحمد نادرشاه همه را بخدمت مأمور گردانیده است\nبحضور اعلیحضرت محمد نادرشاه قریب تر آن کس است\nکه خداشناس و دارای دیانت و درایت\nاست ، وزرای کابینه و جمیع صاحب\nمنصبان نظامی ، نائب الحکومه ها و حکام اعلی و\nحکام کلان و کافه مأمورین فرزند و خویش قریب\n\nاخلاق حمیده ، فداکاری اور خوبیوں سے\nاچھی طرح واقف ہے اور ان پر کامل اعتبا\nرکھتی تھی اور رکھتی ہے ۔ اور یہ محض امان اللہ کی\nذات تھی جو اپنے خویش و اقارب پر بیجا\nنوازش روا رکھتی تھی ۔ اسوقت ہم نہیں\nچاہتے کہ انکی تشریح کریں ۔ اعلیحضرت\nمحمد نادر شاہ افغانستان کے جملہ مامورین\nاور امان اللہ کے اقربا کو اپنے بیٹوں اور\nبھائیوں کی مثل جانتا ہے اور جس\nشخص میں اپنے وطن کی خدمت کرنے کی\nلیاقت ، صداقت اور اہلیت دیکھی ہے\nاسکو اس کے لائق اور حسب حال مامورینست\nدیگر وطن کی خدمت کا موقع بخشا ہے ۔ اعلیحضرت\nغازی محمد نادر شاہ کے حضور میں وہ شخص قریب تر\nاور معتمد تر ہے جو خدا شناس اور ایماندار ہے\nآراستہ ہو اور معاملہ فہمی اور فہم و ذکا کا جوہر رکھتا ہو سبیت\nکابینہ کے وزیر ، شعبہ حرب کے افسر، نائب الحکومہ\nحکام اعلیٰ ، حکام کلان اور تمام مامورین محمد نادر شاہ"}
{"book": "adl0111", "page": 18, "text": "۱۵\n\nنادرشاه میباشند .\nامان الله میگوید :\n« من علما را هیچ نگفته ام حتی\nدر حق علمای سوء هم بدگوئی نکردم\nصرف ملائانیکه سغور انقلابست\nو مرا کافر گفته اند بد گفته ام »\n\n(جواب)\n(امان الله خان ذاتاً دشمن علمای حقانی است)\nدروغگو حافظه ندارد ، از بدو سلطنت تا روز\nفرار خود بجز مخالفت با علماء کار دیگرے کر\nامان الله دیده نشده است ، از علما بی تجر\nو مجاهد فی سبیل الله یکی مرحوم مغفور جناب\nحاجی عبدالرزاق خان است ، که در معرکه\nاستقلال و جهاد ، چه خدمات شایان\nقدر ابراز فرمودند ، وقتیکه بکابل\nخواسته شدند ، آیا خانه نشین نبودند ؟\nآیا حاجی صاحب مرحوم تا بوقت وفات\n\nکے بیٹے اور قریبی خویش ہیں ۔\nامان اللہ کہتا ہے :-\n”میں نے علما کی نسبت کبھی کچھ\nنہیں کہا حتیکہ علمای سوُ کے حق میں\nبھی بدگوئی نہیں کی ۔ صرف ان\nملاؤں کو برا کہا ہے جنہوں نے بپلی کی پیٹھ\nٹھونکی اور مجھے کو کافر کہا “\n\n(جواب)\n(امان اللہ خان ذاتا علما حقانی کا شمن ہے)\nکسی نے سچ کہا ہے کہ دروغگورا حافظہ نباشد\nاظہر من الشمس ہے کہ کل واقعات امان اللہ کے قول کے\nخلاف شہادت دے رہے ہیں، امان اللہ نے\nتخت نشینی کے روز اول سے لیکر اپنے فرار تک اور\nکوئی کام نہیں کیا سوائے اسکے کہ علما کی مذمت اور مخالفت\nکرنے میں سرگرم رہا ہو ۔ افغانستان کے متبحر علما میں\nایک مجاہد فی سبیل اللہ مرحوم و مغفور جناب حاجی\nعبدالرازق ہیں جنہوں نے استقلال کے معرکے اور\nجہاد میں کیسی وقیع اور شاندار خدمات انجام دیں، لیکن\nجبوقت ان کو کابل بلایا گیا کیا وہ خانہ نشین نہیں\nکر دئے گئے تھے ؟ کیا حاجی صاحب مرحوم اپنی فدا کاریوں\nاور خدمات کے صلے میں ان تمام امتیازات سے جو انکو\nسابق میں نصیب تھے تادم مرگ محروم نہیں کئے گئے"}
{"book": "adl0111", "page": 19, "text": "١٦\nبعوض تقدیر خدمت از تمام امتیازاتیکه سابق\nداشتند، محروم قرار داده نشدند ؟ آیا در ده\nسال سلطنت امان الله حاجی صاحب را\nدر کدام در بار امان الله کسی دیده است؟\nامان الله حاجی صاحب غازی را بدر بار ها\nو اعیاد و جشن ها دعوت کرده است ؟\nجناب مولانا فضل ربی که بر جنازه المؤسنا\nعبدالرازق خان نطق کرد، و از خدمات حاجی\nصاحب مرحوم اظهار فرمود و ایشان را رہنما\nاسلامیت و مؤسس ملیت و محرک مجاہدت\nگفت و خطاب نمود، آیا امان الله مولوی\nفضل ربی صاحب را حبس نکرد ؟ قتل سید\nاسمعیل مرحوم ، سید جعفر کزی و نظر بندی جناب\nمستطاب شیخ پاشای اسلام پوری مگرفتا\nاولاد رسول صلی الله علیه و آله و سلم نبود؟ در جریدہ\n۱۳ اظہار کلمات گستاخانه امان الله محاب\nاحترام زوجات مطهرات حضرت محمدعلیہ الصلوۃ و لام\nتھے ؟ کیا کسی شخص نے امان اللہ کی دس سالہ\nسلطنت کے عرصے میں حاجی صاحب کو\nامان اللہ کے کسی دربار میں دیکھا؟ کیا امان اللہ\nنے کبھی حاجی صاحب غازی کو درباروں\nیا عیدوں یا جشنوں میں مدعو کیا تھا؟ مولانا\nفضل ربی نے مولانا حاجی عبدالرازق خان\nکے جنازے پر اپنی تقریر کے دوران میں حابی صحابہ\nمرحوم کی خدمات کا ذکر کیا تھا اور اس فاضل\nشخصیت کو مسلمانوں کے رہنما، ملیت کے\nموسس اور مجاہدات کے محرک کا خطاب دیا تھا\nکیا امان اللہ نے اس اظہار پر مولوی فضل ربی\nکو ماخوذ کر کے قید خانے میں ڈال نہیں دیا تھا؟\nکیا سید اسمعیل مرحوم اور سید جعفر کو قتل کرنا اور\nجناب مستطاب شیخ پاشای اسلام پوری کی نظر بندی\nرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کی صریح مخالفت\nنہ تھی ؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امان اللہ کا حافظہ\nاسکو جواب دیچکا ہے کیونکہ اس نے ان گستاخانہ کلمات\nکو جو اس نے آنحضرت محمد علیہ الصلوۃ والسلام کی\nازواج مطہرات کی شان میں کہے تھے اور\nجناب مستطاب حضرت صاحب فضل عمر خان\nوزیر عدلیہ حال کے امان اللہ پر غضب آلود ترین"}
{"book": "adl0111", "page": 20, "text": "۱۷\n\nو اعتراض غضب آلود جناب مستطاب حضرت\nصاحب فضل عمرخان وزیر عدلیه حالیه برامان الله\nو بالاخر جدائی و هجران حضرت صاحب موصوف\nاز افغانستان، مگر فراموش خاطر امان الله\nشده است !\nدر جرگه ۱۳۰۶ منع تعلیم و تحصیل طلبای\nافغانی در دارالعلوم دیوبند و انسداد رفت و آمد\nتحصیل کردگان دیوبند بافغانستان قانون\nگذاشته نشده بود ؟ ملا محمد ابراهیم خان کاموی\nملا فضل ربی پکھلوی و غیره شاگردان مکاتب\nعالیه دیوبند را در ارگ حبس نکرده بود، مگر جنا\nمستطاب حضرت صاحب محمد صادق خان\nو جناب محمد معصوم خان مجددی و عالم فاضل\nمستطاب رئیس محکمه تمیز جناب قاضی سید\nعبد الرحمن خان بر علیه امان الله بسمت جنوبی\nفرار نکردند ؟ و امان الله حضرات موصوف را\nدستگیر کرده بارگ محبوس نکرد ؟ با وجودیکه\n\nاور ولولہ انگیز جواب کو اور حضرت صاحب\nموصوف کے دین کی ناقابل برداشت\nصدمے سے افغانستان چھوڑ جائیگور\nبالکل بھلا دیا ہے\nکیا ۱۳۰۶ کے جرگے میں یہ قانون نہیں\nبنایا گیا تھا کہ جسکی رو سے کسی افغانستان کے\nطالب علم کو دارالعلوم دیوبند میں دینی علم کی\nتحصیل و تعلیم کی اجازت نہیں تھی اور جولوگ\nدیوبند کے فارغ التحصیل اور سند یافتہ تھے\nانکو افغانستان میں داخل ہونے کی ممانعت\nتھی؟ کیا ملا محمد ابراہیم خان کاموی اور ملا\nفضل ربی پکھلوی وغیرہ دیوبند کے مکتب عالیہ\nکے شاگردوں کو ارگ میں محبوس نہیں کیا گیا؟\nکیا یہ امر واقعہ نہیں ہے کہ جناب مستطاب حضرت صاحب\nمحمد صادق خان اور جناب محمد معصوم خان مجددی\nاور عالم و فاضل مستطاب محکمۂ تمیز کے رئیس جناب\nقاضی عبدالرحمن نے امان اللہ کی مخالفت پر کمر باندھکر\nسمت جنوبی کیطرف فرار نہیں کیا تھا؟ اور امان اللہ\nنے حضرات موصوف کو گرفتار کر کے ارگ میں\nقید نہیں کیا تھا؟ اور اگرچہ خارجہ ممالک کے\nمسلمانوں کی طرف سے کئی ہزار تار حضرات"}
{"book": "adl0111", "page": 21, "text": "۱۸\n\nچندین هزار تلگراف مسلمانان خارج در باب | اور قاضی سید عبدالرحمن کو سزای موت نہ دینے کے\nاعدام نکردن حضرات و قاضی سید عبدالرحمن | بارے میں بھیجے گئے لیکن کیا امان اللہ نے قاضی\nبرای امان الله رسید مگر با این همه آیا قاضی | عبدالرحمن کو شہید نہیں کیا؟ اور کیا قصر ستور کی\nعبدالرحمن خان را بشهادت نرسانید؟ در مجلس | مجلس میں تمام مامورین دولت اور وکلای ملت کے\nقصر ستور بحضور تمام مامورین و وکلای ملت | سامنے اپنے منصبداروں کو مخاطب کر کے ان کو\nصاحب منصبان خود را خطاب کرده از مرید | افغانستان کے مشایخ کے مرید ہونے سے منع نہیں\nشدن بمشایخ افغانستان منع نکرد؟ | کیا تھا ؟\nحضرت مرحوم فردوس آشیان جناب آخند زاده | کیا حضرت مرحوم فردوس آشیان جناب آخند زاده صاحب\nصاحب تگاب علیه الرحمه چندین بار امان الله را | تگاب علیه الرحمة نے کئی بار امان اللہ کو برے اعمال سے\nاز اعمال بد منع نفرمودند، آیا یکی از نصایح ایشان را | منع نہیں فرمایا تھا ؟ آیا انکی کسی ایک نصیحت پر بھی\nامان الله عمل کرده است ؟ | امان اللہ نے کان دھرا یا عمل کیا ؟\nالحمد لله امروز علمای افغانستان چه در مرکز | الحمد للہ کہ آج افغانستان کے علماء کو کیا وہ جو مرکز\nو چه در اطراف و اکناف مملکت قدر و منزلت | میں ہیں اور کیا وہ جو مملکت کے اطراف و اکناف میں رہتے\n| ہیں عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور انکی قدر و منزلت\nدارند؛ چون از اعمال ناصواب امان الله | کی جاتی ہے۔ چونکہ وہ امان اللہ کے جور و جفا کی خاص طور پر\nخوبتر اطلاع دارند تماماً به تردید این اعلاناتش | آماجگاہ بنے رہے ہیں امان اللہ کے مذموم کردار سے\n| اچھی طرح واقف ہیں اسلئے متفقہ طور پر اس کے اعلان کی\nپرداخته اند و همه ادعاهای او را بشدت | تردید میں ساعی ہیں اور بڑی سختی سے اسکے سب\nتکذیب کرده اند، که ما ازان جمله به نگاشتن | باطل دعووں کو رد کیا ہے ہم انہیں سے صرف ایک دو بیضے کو\n\nپروپزه مجتهد حسن\n\nمطبعه ( ۲۵۰ )"}
{"book": "adl0111", "page": 22, "text": "۱۹\n\nیک معروضه آنها که درین مورد بحضور نموده اند\nقلمبند کرتے ہیں جو انہوں نے اس موضوع پر اعلحضرت کے\n\nدرختم این سلسلہ اکتفا میکنیم :\nحضور میں پیش کیا ہے اور ہم اسکو اس تردید کے خاتمے پر\nلکھینگے ۔\n\nامان الله میگوید :\nامان اللہ کہتا ہے :۔\n\n« من مرید حضرت مستطاب\n”میں قلعہ قاضی کے حضرت مستطاب\n\nشاہ آقای قلعه قاضی بودم»\nشاہ آقا کا مرید تھا“\n\nجواب\n(جواب)\n\nآیا این دروغ محض نیست، البته در زمان\nکیا یہ سفید جھوٹ نہیں ہے ؟ اس میں شک نہیں\n\nشهزادگی خود امان الله در خانه هر شیخ\nکہ امان اللہ کا اپنی شہزادگی کے زمانے میں عمل تھا\n\nرفت و آمد داشت ، و خود را مسلمان\nکہ ہر شیخ اور پیر طریقت کے گھر پر جایا کرتا تھا اور\n\nصادق و با عمل ظاهر میکرد ، چنانچه حضرات\nاپنے آپ کو ایک راسخ الاعتقاد اور باعمل مسلمان\n\nمستطاب شمس المشایخ و نور المشایخ\nظاہر کیا کرتا تھا، اسی وجہ سے شور بازار کابل کے\n\nصاحبان شور بازار نیز با امان الله محبت\nرہنے والے حضرات مستطاب شمس المشائخ اور نور المشائخ\n\nداشتند، اما حضرت شاہ آقا قدس الله\nصاحبان امان اللہ کو بہت چاہتے تھے لیکن حقیقت ہے\n\nسره العزیز ، هیچ وقت مرید نگرفته اند،\nکہ حضرت شاہ آقا قدس اللہ سرہ العزیز نے کسی وقت بھی\n\nاگر امان الله خان مثل زمان شہزادہ گی مسلمان\nاپنا کوئی مرید نہیں پکڑا۔ اگر امان اللہ خان جسطرح کہ\n\nشهزادگی کے زمانے میں اظہار کیا کرتا تھا ایک باعمل\n\nبا عمل و دلجوی ملت می بود و از صراط مستقیم\nمسلمان اور ملت کا دلجو ، ہمدرد اور خیر خواہ رہتا اور\n\nصراط مستقیم سے نہ بھٹک جاتا تو خدا شاہد ہے کہ ہم\n\nمنحرف نمی شد ، خدا شاهد است ، از خورد\nاپنی اس ملت کے ہر چھوٹے بڑے متنفس کو اس پر"}
{"book": "adl0111", "page": 23, "text": "۲۰\nو بزرگ این ملت خود را فدای او میکردیم قربان کر دیتے۔ لیکن افسوس ہے امان اللہ کی\nلیکن وا اسفا بر احوال امان الله که یک دراستی حالت پر که توبہ کی قبولیت کے لئے کوئی\nراستہ بھی نہیں چھوڑا ۔ ہمیں خوف ہے کہ\nبرای قبول توبه هم نگذشت ، مگر فراموش امان اللہ بھول گیا ہے کہ سمت مشرقی کی سب\nکرده که در جرگہ اقوام شنوار و سائر اقوام قوموں اور شخوار قوم کے متفقہ جرگے\n(مجلس) میں افغانستاں کے سب علمائے\nسمت مشرقی اعلان کردند ، که تو به او هم بالاتفاق اعلان کیا تھا کہ آنحضرت محمد مصطفے\nصلی اللہ علیہ وسلم کے دین متین اور شرع\nمقبول دین و شریعت حضرت محمد مصطفے مبین کے مطابق امان اللہ کی توبہ کسی صورت\nصلی الله علیه وسلم نیست . میں مقبول نہیں ہو سکتی ۔\nامان الله میگوید : امان اللہ کہتا ہے :-\n«لفظ عیاشی نسبت بمن ظلم و ”میری ذات پر عیاشی کا لفظ عائد کرنا صریح\nبهتان است و هم از بیت المال ظلم اور عظیم بہتان ہے ، میں اپنی\nگذران کے لئے بیت المال سے\nبرای گذران خود چیزی نمیگرفتم\nایک حبہ بھی نہیں لیتا تھا۔ وزارت\nوزارت مالیه برای گذران من مالیہ نے میرے گزارے کے لئے\nتجویز کرد که بقیه زمین های عین مال یہ تجویز کی کہ عین المال کی باقیا ندہ\nو عمارات آنرا برای دولت بخرند زمینوں اور عمارتوں کو دولت\nخریدلے اور انکے بدلے بعض\nو بعوض آن بعض فابریکه هائی که\nکار خانے کہ جو دولت کے کام کے\nچلاندن آن کار دولت نبود نہیں تھے مجھے ہبہ کر دے میں نے\nمن بد به داس تجویز این اکردم اس تجویز کو قبول کر لیا“"}
{"book": "adl0111", "page": 24, "text": "۲۱\nجواب\n(امان الله خان خیلی عیاش و بی پرواست)\nسبحان الله امان الله تا چه اندازه مکار\nو حیله باز است، هنوز هم از حیله بازی پشیمان\nنیست، دماغ امان الله خان بواقعی خراب شده\nیا شاید با و اطلاع رسیده که اوراق وزارت مالیه\nدر انقلاب سوخته است، یا گمان میشود که او\nمیخواهد کدام مملکت دیگر را فریب بدهد، ورنه\nما ملت تصور کرده نمیتوانیم که امان الله خان\nاین قدر کفایت شعار بوده است، اگر امان الله خان\nبهوش این اعلان را مینوشت شاید قلم او\nاز فهمیدن این مسئله می لرزید که بودجه وزارت\nدربار امان الله خان از شروع سلطنت\nتا سقوط پادشاهی او در وزارت مالیه افغان\nموجود است، عمله و فعله و مصارف البسه او\nو فامیل او، تسخین و روشنی تومبیل و خریداری\nهای او، موتر، شکار، میله، بخشش و تعمیرات\nجواب\n(امان الله خاں پہلے درجے کا عیاش و بے پروا)\nخدا کی شاں امان الله کو ہمیشہ سے کسقدر مکر و فریب\nاور تجاہل عارفانہ کی بُری عادت پڑی ہوئی ہے\nکہ گربہ مسکین کی طرح اب بھی اپنی حیلہ سازیوں\nاور عیاریوں سے نہ پشیمان ہوتا ہے اور نہ\nباز آتا ہے۔ اس غربت اور کس مپرسی کی\nحالت میں اس کے تمام حواس معطل ہو چکے ہیں\nورنہ ایسی مجنونانہ حرکات کا مرتکب نہ ہوتا یا شاید\nکسی بوجھ بھکڑ نے اسکو پتہ دیا ہے کہ انقلاب میں\nوزارت مالیہ کے سب اوراق اور یاد داشتیں\nجل چکی ہیں۔ یا ہم یہ بھی گمان کئے بغیر نہیں رہ سکتے\nکہ اس نے کسی دوسری دولت کو اپنے دام\nفریب میں پھنسا کر اپنا الو سیدھا کرنے کی ٹھانی ہے۔\nورنہ ہماری ملت کے سامنے ایسے ہوشربا\nاخراجات کا نقشہ موجود ہے کہ ہم کسی صورت میں بھی\nنہیں مان سکتے کہ امان اللہ خاں نے کبھی کفایت\nشعاری کو ملحوظ رکھا ہو۔ اگر امان اللہ خان اس\nاعلان کے لکھنے اور اشاعت دینے میں ذرہ بھر بھی\nہوش و تامل کو کام میں لاتا تو بہت ممکن تھا کہ اس کا\nقلم تھرا جاتا جب اس حقیقت سے آگاہی ہوتی کہ\nامان الله کی وزارت دربار کا بجٹ اسکی ابتدائے\nسلطنت سے انتہائے سلطنت تک افغانستان کی\nوزارت مالیہ میں موجود ہے اور جسکے مطالعے سے\nصاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ اسکا عملہ اور پیش خدمت،\nاسکی اپنی ذاتی پوشاک اور اپنے کنبے کے لباس کے\nاخراجات، بخاریوں کے گرم کرنے اور روشنی کے\nمصارف، اسکا ساز و سامان اور خریداریاں،\nاسکی موٹریں، شکاروں اور میلوں کا خرچ اسکی\nبخششوں اور شخصی تعمیروں کے مخارج اس قدر\nبڑھے ہوئے تھے کہ اعلحضرت شہید کا\n\nمحمد یعقوب حسن"}
{"book": "adl0111", "page": 25, "text": "۲۲\n\nشخصی او بارها درجه از مصارف اعلیحضرت شہید خرچ انکی گرد کو نہیں پہنچ سکتا ۔ امان اللہ کا\nعلاوہ ترست ، بودجهٔ سالیانه امان الله سالانہ ذاتی بودجہ وزارت خارجہ کے بجٹ سے\nکہیں زیادہ ہوا کرتا تھا۔ ہم اس مسئلے سے\nاز بودجهٔ وزارت خارجه سنگین تر بود ، کہ کیوں اتنا زیادہ خرچ کیا کرتا تھا تنگدل نہیں ہیں\nما باین مسئله دلتنگ نیستیم که چرا اینطور لیکن امان اللہ کی نمک ناشناسی پر افسوس\nمخارج گزاف میکرد ، لیکن بین نمک ناشناسی آتا ہے کہ کیوں ہماری فیاض اور زندہ دل ملت\nکو بخیل اور اپنی فضولخرچ ذات کو کفایت شعار\nامان الله جای افسوس است ، که چرا ملت را مشہور کر رہا ہے ۔ کیا دنیا بے خبر ہے\nاینقدر بخیل و خود را کفایت شعار معرفی میکند، کہ نور السراج اور حسن جان کے پاؤں تلے\nمگر دنیا از خشت طلا و نقره ماندن زیر پای سونے اور چاندی کی اینٹیں نہیں بچھائی\nگئی تھیں ؟ کیا امان اللہ اپنی بھین کی شادی\nنور السراج و حسن جان اطلاع ندارد ؟ مگر کے موقع پر گوناگوں بدعتیں اور عجیب وغریب\nامان الله در عروسی خواهر خود اساطیر و بدعات لغویات روے کار نہیں لایا تھا ؟ اب\nمتنوعه را اجرا نکرد ؟ حالا حیا ندارد که مینویسد: اس پر بھی اسکو شرم نہیں آتی جو لکھتا ہے\n\"از بیت المال برای گذران خود در مدت کہ \" اپنی پادشاہی کے دوران میں میں نے\nپادشاهی خویش چیزی نگرفتم\" اپنی گذران کیلئے بیت المال سے کچھ نہیں لیا \"\n(امان الله خان تمام ملت را اذیت داد) (امان اللہ خان نے سب ملت کو اذیت دی ہے)\nعیاشی اگر نسبت بامان الله ، بهتان امان اللہ کی نسبت عیاشی خواہ بہتان خواہ صدق\nیا صدق است ، ملت خوب واقف است جو کچھ بھی ہو ملت اس سے بہت اچھی طرح واقف ہے،\nدھوکا نہیں کھا سکتی۔ دنیا واروں کی عیاشی اور نفس\nعیاشی اهل دنیا تا امروز از دائرهٔ انسانیت پرستی اس دن تک بھی انسانیت کے حلقے سے"}
{"book": "adl0111", "page": 26, "text": "۲۳\nمیر یعقوب حسن\n(۲۵۰۰) سخه\n\nبیرون نشده مگر افسوس بر احوال امان الله ....\nتا امروز جراید وطنی بنام خود هیچ یک اعتراض\nملت را نسبت به امان الله شایع نکرده است.\nاما امان الله دلتنگ شده میخواهد سوء\nاعمال خود را یگان یگان شرح داده برای\nاصلاح آن دلیل های طفلانه بتراشد،\nما میگوئیم اگر روح امان الله حی بالله ومحبت\nو احساس او نسبت بملت زنده میشود،\nپس جواهرات اندوخته سالیان دراز،\nافغانستان را بخزینه بیت المال مسترد کند.\nملت مقاصد امان الله را یکبار دیدیم\nکفایت کرد، از دکاندار تا دولت مند\nو از مامور تا طالب العلم همه مزۀ بیغمی ورفاه\nعصر امان الله را چشیدیم و این مزه تلخ\nتا قیامت فراموش ما نخواهد شد ، خبر\nخواهی ها و فدویت امان الله را نسبت\nبه اهالی افغانستان خوب مشاهده کردیم\n\nمٹ نہیں چکی اور ہوا و ہوس کے ہندے\nاس میں مبتلا ہیں ، لیکن ہمیں امان الله کی سمجھ پر\nاور حالت پر افسوس آتا ہے کہ آجتک ہمارے\nکسی داخلی اخبار نے امان الله کی نسبت ملت کے\nکسی اعتراض کو شائع نہیں کیا مگر امان الله\nخواہ مخواہ کھیانا ہو کر چاہتا ہے کہ اپنے ایک ایک\nبرے عمل کی تشریح کرے اور طفلانہ دلیلیں\nتراش کر انکو اچھے لباس میں دکھائے، پس\nاگر وہ ایسا ہی پاکباز اور ایثار والا ہے اور\nاسکے دل میں اتنی ہی شمہ اٹھتی ہے اور بچاری\nملت کی محبت اور ہمدردی اسکو چین سے نہیں\nبیٹھنے دیتی اور اسکی روح پھڑ پھڑاتی ہے تو ہم\nاسکو ایک نیک مشورہ دیتے ہیں جس سے\nاسکے درد بھرے دل کی تسکین ہو وہ یہ ہے\nکہ ان اندوختہ جواہرات کو جو سالہاے دراز سے\nافغانستان کے خون اور گاڑھے پسینے کی\nکمائی ہے اور جنکو وہ اپنے ساتھ لیگیا ہے\nبیت المال کے خزانے میں واپس کر دے۔\nملت نے ایک دفعہ امان الله کی حسن نیت اور\nمقصدوں کو اچھی طرح جانچ پرکھ لیا ہے مزید\nتجربے سے ندامت اٹھانا نہیں چاہتی\nچھابڑی بیچنے والے سے لیکر دولتمند آدمی تک\nعہدہ دار سے لیکر طالب علم تک سب نے\nامان الله کے عہد کی بیغمی اور رفاہیت کا مزا\nچکھ لیا ہے اور یہ ایسا مزا ہے جسکی تلخی کا ئنٹی\nہم قیامت تک نہیں بھول سکتے۔ مزید براں\nہم نے اپنی آنکھوں سے ملت افغانستان\nکے بارے میں امان الله کی مشہور عام خواری\nجاں نثاری اور قربانی کو بھی خود امان الله\nکی زندگی ہی میں اچھی طرح دیکھ لیا ہے کہ\nکیسے وہ اپنے آپ کو اور اپنے اہل عیال کو\nانقلاب کی بھڑکتی آگ اور خونریزی کی تار سے\nبچا کر امان میں لیگیا اور بیچارے مامورین"}
{"book": "adl0111", "page": 27, "text": "٢٤\n\nکه چه طور خود و اهل و عیال خویش را از بلاد و آتش انقلاب کشید، بیچاره مأمورین و اهل و عیال شان را بآتش سوزان مبتلا کرد، سردار حیات الله خان شهید و سردار عبدالمجید خان برادران امان الله و اهل و عیال این دو شهزاده و سائر اعزه و معارف و مشاهیر افغانستان حتی عموم طبقات ملت از بیغمی و آرامی عصر امان الله ، خوب حظ گرفتند ، هیچ گوشه و کناری در افغانستان دیده نمی شود که از حظ آرامی و بیغمی دور امان الله محروم مانده باشد .\n\" امان الله خان در اعلان خود از پول و پیسۀ افغانستان حساب میدهد و از وضع اصول بودجه و اختیار دادن به وکلا راجع به تدقیق واردات ملک و مخارج سالیانه بحث میکند، و شاهد صداقت خود وضع این قوانین را معرفی میکند \"\n\nاور ان کے خاندان کو طرح طرح کی آفتوں اور ناقابل برداشت مصیبتوں میں مبتلا کر گیا۔ بطور مثال سردار حیات اللہ خان شہید اور سردار عبدالمجید خان (امان اللہ کے بھائی) اور ان دو نوشہزادوں کے اہل و عیال اور تمام معززین اور افغانستان کے مشہور و معروف افراد حتیٰ ملت کے عام طبقے کے لوگ بھی امان اللہ کے عصر کی بیغمی اور آرام سے بہت اچھے بہرہ اندوز ہوئے ہیں کہ اب وہ پھر امان اللہ کے دیدار کو ترس رہے ہیں، واضح ہو گیا ہو گا کہ افغانستان کا کوئی کونہ اور کوئی گھر بھی باقی نہیں رہا، جہاں امان اللہ کے دور کے فیوض و برکات نہ پہنچے ہوں۔\n\"امان اللہ خان اپنے اعلان میں افغانستان کے روپئے پیسے کا حساب دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ بجٹ کے اصول کو اس نے وضع کیا اور اس نے ترویج دی۔ اور ملت کے نمائندوں کو دولت کے سالانہ دخل و خرچ پر بحث، تعدیل اور تنقید و تدقیق کا حق و اختیار دیا، اور ساتوں گویا ہوتا ہے کہ ان قوانین کا بنانا ہی میری صداقت کی دلیل اور میرے اخلاص کی شہادت ہے\""}
{"book": "adl0111", "page": 28, "text": "٢٥\n\n(امان اللہ کیوں ملت کو جواب\nدینے سے کنی کتراتا ہے ؟)\n١٣٠٩ کے ”لویہ جرگہ“ میں امان اللہ کے\nمتعلق وکلائے ملت نے جو کچھ کہا ہے وہ\nدر اصل اسکی اپنی درخواست کا جواب تھا۔\nامان اللہ نے اپنے مکتوب میں مطالبہ کیا تھا\nکہ وہ زمینیں اور کارخانے جن کو وہ اپنی ذاتی\nملکیت سمجھے بیٹھا تھا اسکو واپس کر دئے جائیں۔\nجرگے نے اس پر اعتراض اٹھایا کہ امان اللہ کی\nنام نہاد زمینیں کسی وجہ سے بھی امان اللہ کی شخصی\nملک نہیں ہوسکتیں۔ دلیل یہ ہے کہ اگر کوئی\nبادشاہ اپنی رعایا کے کسی فرد کی جائداد ضبط\nکرلے اور اسکو اپنی شخصی ملکیت بنالے ظالم\nوجابر ہے۔ طرفہ تو یہ ہے کہ ہم نے تمام کارخانوں\nکی قیمت بیت المال کے خزانے سے ادا کی ہے\nاب کس استحقاق اور سند سے امان اللہ کا عین المال\nقرار دیا جاسکتا ہے؟ بلکہ اس کے برعکس ہماری\nملت کا دعویٰ ہے اور اس میں حق بجانب بھی ہے\nکہ امان اللہ خان افغانستان کے خزانے کے\nجواہرات کو جنکو وہ اکٹھا کر کے اپنے ساتھ\nلیگیا ہے اور اب عیش و آرام کی زندگی بسر\nکر رہا ہے ملت کو واپس کردے۔ اگر امان اللہ\nاپنے قول کے مطابق واقعی ملت کا غمخوار،\nوطن دوست اور ترقی پرور ہے تو اسکو چاہئیے\nکہ بیت المال کے مال کو بدون حیل وحجت اور\nلیت و لعل کے بغیر فوراً لوٹا دے۔ امان اللہ خان\nاس روشن مسئلے کے ذکر سے تو احتراز کرتا ہے\nاور کارخانوں اور اپنے خرید کردہ سلعے کے\n\n(امان الله خان چرا جواب ملت را نمیگوید)\nدر لویه جرگه ١٣٠٩ آنچه وکلا در باب\nامان الله خان گفتند ، راجع به درخواست او بود\nدر باب استرداد اراضی و فابریکات که\nعین المال خود میشناخت ، جرگه اعتراض کرد\nکه اراضی امان الله خان بهیچ وجه عین المال آن شخص\nنیست ، اگر پادشاهی مال و ملک کسی را\nضبط کند . و آنرا عین المال خود قرار بدهد\nآن پادشاه ظالم است ، فابریکات را\nتماماً از پول بیت المال خریداری کرده ایم ،\nچطور عین المال امان الله خان شد ؟\nملت میخواهیم جواهرات خزینه افغانستان را\nاز امان الله خان بگیریم ، امان الله خان آنها را\nجمع کرده با خود برده است باید بملت بسپارد\nاگر امان الله وطنخواه و ترقی پرور است، پس\nمال بیت المال را واپس تسلیم کند . امان الله خان\nازین مسئله هیچ بیانی نمیکند و مسائل فابریکات"}
{"book": "adl0111", "page": 29, "text": "٢٦\n\nدانسته خریداری کرده خویش را در میان میآرد مسائل کو درمیان میں لے آتا ہے ۔ لیکن\nو این دروغ فاحشی را که در اعلان خود می بافد، اس کے اپنے اعلان میں اس سارے\nاضطراب اور دروغ بیانی کا اصلی باعث یہ ہے\nهمه از همین مسئله است، که چرا محمد نادر شا که محمد نادر شاہ افغان نے اسکی درخواست کو\nبملت موقع این درخواست را داد، ما میتوانیم ملت کے سامنے کیوں ڈالا کہ ملت کو اس پر\nبگوئیم، که املت تا بنقطه آخر، در باب استرداد اعتراض اُٹھانے کا موقع ملا ۔ ہماری ملت کیونکر\nاعتراض نہ کرے؟ بلکہ اس بات پر بھی آمادہ و تیار ہے\nجواہرات افغانستان با امان الله خان دعوی که افغانستاں کے جواہرات واپس لینے میں\nآخری حد تک امان اللہ خاں کے ساتھ مقدمہ خواهیم کرد، در موقع افتتاح شورای ملی از طرف\nبازی کرے۔ شوریٰ ملی کے افتتاح کے موقع پر\nملت وکیل گرفته خواهد شد، و با امان الله ملت کیطرف سے ایک وکیل مقرر کیا جائیگا\nدر محاکم دنیا محاکمه خواهیم نمود، نادر شاہ جو ہماری طرف سے امان اللہ پر دنیا کی عدالتوں میں\nدعویٰ دائر کریگا۔ محمد نادر شاہ افغان کو کوئی حق\nحق ندارد ازین مسئله ما ملت را مانع شود، حاصل نہیں اور نہ ہوگا کہ ملت کو اس فیصلے اور\nکارروائی سے منع کرے یا امان اللہ کی حمایت\nیا از امان الله حمایت کند. و دلسوزی میں کوئی بات کرے۔\n\nدر عصر امانی ب کدام بودجه امان اللہ کے خاندان کی خیر خواهی\nامان اللہ عہد میں بی\nحسنا ملی نمی شد حیات کا بھی پاس نہیں کیا گیا\n\nماملت مگر از بودجه های عصر امانی اطلاع نداریم کیا ملت عصر امانی کے میزانیے سے واقف\nنہیں ہے ؟ کہ آج امان اللہ دنیا میں یہ اعلان که امان الله امروز در دنیا اعلان میکند، که شورای\nکرتا ہے کہ شورای ملت مملکت کے بجٹ پر\nدولت بودجه مملکت را میدید، و نکته چینی میکرد دقت کیا کرتی تھی اور اس پر نکتہ چینی کرتی تھی\nاور یہ میری ہی ذات تھی جس نے ملت کو اس حق\nو من این حق را بملت داده بودم گوملت از بہرہ اندوز کیا۔ لیکن کیا ملت امان اللہ کی سکی\n\n[Vertical text in left margin:]\nخیر خواهی حسن\n(صفحه ۲۵ را به بینید )\nHila"}
{"book": "adl0111", "page": 30, "text": "۲۷\n\nتنخواه های گزاف مادر ، مادراندرها ، و برادرها\nو برادرزاده ها ، و عموها ، و عموزاده های\nامان الله واقف نیست ؟ مگر تنخواه خویش\nو اقربای امان الله از تمام تنخواه نسبی محمد\nزائی ها افزون تر نبود ، چنانچه تا امروز خاندان\nامان الله از محمد نادر شاه نیز همان مواجب\nگزاف را میگیرند و ملت ازین مسئله\nراضی نیستیم ، باید مثل سائر محمد زائی ها و\nدیگر زائی ها ، این ها را حکومت بشناسد ،\nاینکه نادر شاه ایشانرا نجات داد کافیست\nما نمیدانیم امان الله بکدام نصیحت وکلای\nملت عمل کرد ، که امروز از مجلس شورای دولت\nخود اظهارات میدهد ، امان الله خان که همیشه\nبرضد نصایح ملت و وزرای صادق و\nبا دیانت افغانستان رفتار کرده است .\nماں اور سوتیلی ماؤں ، بھنیں، بھائیوں\nبھتیجوں و چچوں اور عمر زادوں کی بڑی بڑی تنخواہوں سے\nواقف نہیں ہے ؟ کیا امان اللہ کے خویش\nو اقارب کی تنخواہ تمام محمد زئیوں کی خاندانی\nتنخواہ سے بڑھ چڑھکر نہ تھی ؟ چنانچہ آج بھی\nامان اللہ کا خاندان محمد نادر شاہ افغان سے\nوہی بڑے بڑے وظیفے وصول کر رہا ہے\nاور ہماری ملت اس کارروائی پر رضامند\nنہیں ہے ۔ حکومت کو چاہئے کہ امان اللہ کے\nان قریبی رشتہ داروں کو تمام محمد زئیوں کے\nبقیہ افراد اور دوسرے قبائل کے اشخاص کی\nمانند جانے اور ان کے ساتھ کوئی خاص\nامتیاز روا نہ رکھے ۔ کیا اُن کے لئے\nیہی کافی بلکہ نعمت غیر مترقبہ نہیں ہے کہ محمد نادر شاہ\nافغان نے ان کو ظلم و وحشت سے نجات دی؟\nہم حیران ہیں کہ امان اللہ نے وکلائے ملت کی\nکونسی نصیحت پر عمل کیا ہے کہ وہ آج اپنی مجلس\nشورای دولت کو اختیارات موہوب کرنے پر\nخامہ فرسائی کر رہا ہے ، حالانکہ امان اللہ کا ہمیشہ\nیہ رویہ رہا ہے کہ وہ افغانستان کی ملت اور صادق\nو دیانتدار وزیروں کی نصیحت کے خلاف اپنے\nشخصی خیالات کی پیروی کیا کرتا ۔"}
{"book": "adl0111", "page": 31, "text": "۲۸\nاحترام جذبات عمومی | نادری عہد میں شورای ملی }\nو شورای ملی در عهد نادری | اور جذبات عمومی کا احترام }\nنادرشاه شورای ملی را که وعده فرموده\nبقرار امر الهی و شاورهم فی الامر\nافتتاح میکند. شورای ملی هر قدر حقوقی که\nدر سائر ممالک داده شده داده میشود چنانچه\nدر موقع افتتاح شورای ملی که در ماه ثور ۱۳۱۰\nاست تمام حقوق شورای ملی اعلان میگردد\nرئیس شورا از خود وکلا تعیین خواهد شد.\nحکومت مسئول وکلای ملت خواهد بود ،\nتمام عہد نامه جات پیش وکلا گذاشته خواهد\nشد. هیچ چیزی مخفی نخواهد ماند. اعلیحضرت\nمحمد نادر شاه هر چه وعده فرموده اند. همه را\nایفا نموده و مینمایند. لیکن افسوس بر احوال\nامان الله که هیچیک وعده و میثاق خود را بهیچ\nبجا نکرده است. ملت اعطای این حقوق را\nمحض از نادرشاه میدانیم. امان الله بهیچ کدام\nمحمد نادر شاہ افغان اپنے وعدے کے\nمطابق بغوای و شاور هم فی الامر\nشوریٰ ملی کا افتتاح کرتا ہے، جسقدر\nحقوق کہ ہر شوریٰ ملی کو دنیا کے سب ممالک\nمیں تفویض کئے گئے ہیں افغانستان کی\nشوریٰ ملی کو بھی دیدئے جائینگے ۔ چنانچہ\nشوری ملی کے انعقاد کے موقع پر (ماہ ثور ۱۳۱۰\nمطابق ماہ مئی ۱۹۳۱) شوری ملی کے تمام\nحقوق کا اعلان کر دیا جائیگا، رئیس شوریٰ\nانہی وکیلوں میں سے معین ہوگا، حکومت\nملت کے نمائندوں کے سامنے جوابدہ ہوگی۔\nتمام عہد نامے وکیلوں کے سامنے رکھے دئے\nجائینگے اور کوئی چیز ان سے مخفی نہیں کہی جائیگی۔\nگویا شوریٰ ملی حقیقی معنوں میں پارلیمنٹ\nہوگی ۔ اعلیحضرت غازی نے جو وعدہ بھی\nفرمایا ہے اسکو ایفا کیا ہے اور آئندہ بھی یقیناً\nایفا کرینگے، لیکن افسوس ہے امان اللہ کی حالت پر\nکہ اپنا کوئی وعدہ اور میثاق کسی کے ساتھ بھی\nبجانہ لایا۔ جن حقوق و مراعات سے ملت آج\nفیضیاب ہے ہم انکو محض محمد نادر شاہ کی نوازش\nاور بخشش سے منسوب کرتے ہیں۔ مگامان اللہ نے"}
{"book": "adl0111", "page": 32, "text": "۲۹\nوعده خویش را تا امروز ایفا نکرده است ہمہ | تو آجتک اپنے کسی وعدے کو پورا نہ کیا\nوعدہ ہاے او دروغ بود ، و این در و غگوئی  | اور اپنے جھوٹے وعدوں سے ملت کو دھوکا | دیتا رہا، اور یہ امان اللہ کی دروغ بافیوں\nامان الله بود ، کہ او را ملت ، مجبور بفرار کرد . | اور وعدہ خلافیوں کا نتیجہ تھا جو ملت نے | اسکو وطن چھوڑنے پر مجبور کیا ۔\nامان الله میگوید کہ : | امان اللہ کہتا ہے :-\nآنچہ لویہ جرگہ در کابل نسبت با و | \"لویہ جرگہ، نے کابل میں جو کچھ بھی\nشایع کردہ از نمایندگان ملت | میری نسبت شائع کیا ہے\nنیست و کلای لویہ جرگہ وکیل | ملت کے نمایندوں کی طرف سے\nنہیں ہے۔ کیونکہ جو اعضا\nملت نبودند ، بلکہ بعضے نفیر را | \"لویہ جرگہ، میں شامل ہوئے تھے\nاز مناطق نزدیک پایتخت بزور | دراصل ملت کے نمایندے نہیں تھے\nبلکہ چند اشخاص کو پایہ تخت کے\nجمع کرده بودند و بنام آنها جلا | قرب و جوار سے ہی بزور اکٹھا\nشایعات کردند و ر نہ کلاشان کان | کر لیا گیا تھا اور ان کے نام سے\nمیرے بر خلاف اشاعت کی گئی\nاین ملت همان است که در هر قدم | ورنہ اکابر ملت تو وہی لوگ ہیں\nمرا مدافعه کردند ، از پیر هفتاد ساله | جنہوں نے ہر قدم پر میری طرف سے\nتا طفل دوازده ساله در رکاب من | مدافعت کی، پیر ہشتاد سالہ سے لیکر\nدوازده سالہ طفل تک نے میرے جھنڈے تلے\nاستاده و با اشر ار جنگیدند، و جہا ہے | باغیوں اور طاغیوں کے ساتھ مقابلہ کیا\nعزیز خود را فدای من کردند ، و تا من خود | اور اپنی عزیز جانوں کو مجھ پر سے\nآنها را از جنگ باز نداشتم \" | فدا کر دیا اور جبتک خود میں نے انکو"}
{"book": "adl0111", "page": 33, "text": "رو نگذاشته مانده اند . لڑائی سے نہ روکا انہوں نے منہ نہ موڑا۔\n\nجواب جواب\n\nوکلای جرگه ہائے سابقه امان الله کے متعلق سابقه مجلسوں کے\n\nنسبت با امان الله چه عقیده داشتند وکیلوں کا عقیدہ\n\nامان الله با انچه دروغهای سیاه و تاریک امان اللہ نے ایسی دروغ بیانیوں اور فریب\n\nخود سلطنت آبا و اجداد مرحوم خود را تسلیم کاریوں سے اپنے مرحوم آبا و اجداد کی سلطنت کو\n\nکھو دیا اور ایسی مقدس امانت کو شقاوت پیشه\n\nدزدان شقاوت پیشه کرده راه فرار ڈاکوؤں کے حوالے کر کے بھاگنے ہی میں اپنی جان بچانے کی\n\nاختیار کرده ہنوز ہم از دروغ بافی زبان امان ڈھونڈی۔ لیکن اس پر بھی جھوٹ بکنے سے\n\nنہیں جھینپتا۔ ممکن ہے کہ ایک دفعہ تو انسان\n\nنمیگیرد ممکن است یکدفعه انسان دنیا را به دروغ گوئی سے دنیا کو فریب دیگر پھندے میں\n\nدروغگوئی فریب بدہد، اما ہر روز، به پھنسالے لیکن یہ کہ ہر روز دروغ بیفروغ سے\n\nدروغ و کذب کامیاب شدن محال ست . کامیابی حاصل ہو ناممکن محض ہے ۔\n\nآئندہ ہم یقیناً \"لویہ جرگہ\" کی اہمیت،\n\nبا اینکه ما راجع به عظمت و صحت لویه جرگه صحت اور باضابطگی پر قلم اُٹھائینگے اور\n\n۱۳۰۹ و اثبات این مدعا که وکلای آن قطعی دلائل اور مقنعہ براہین سے\n\nثابت کرینگے کہ افغانستان کے جو حصص نے\n\nبصورت صحیح و اساسی از تمام مناطق مقرره قواعد کے ماتحت اور صحیح اصول\n\nافغانستان حسب قواعد مقرره انتخاب اور اساسی طریقے پر (مجلس کبیر) کے\n\nشده اند، آتی دلائل مقنعه را خواهیم نگاشت وکیلوں کو انتخاب کیا تھا، لیکن اس جگہ\n\nبھگوڑے امان اللہ کے علی الرغم جتلانا چاہتے ہیں\n\nدرینجا علی الرغم امان الله میگوئیم که وکلای که جن دنوں اعلیحضرت غازی مہماندار شاه افغان"}
{"book": "adl0111", "page": 34, "text": "۳۱\n\nلویه جرگہ ۱۳۰۶ که وکلای صحیح بودند، امان اﷲ ایشان را بزور جمع نکرده بود، و در آنوقت اعلحضرت محمد نادر شاه در جنوب فرانسه تشریف داشتند. آن وکلا بحضور امان اﷲ در دندانه اسپ دوانی پغمان باغ رحمت اﷲ خان چه گفتند؟ و در موقع مراجعت به ملت از احوال امان اﷲ چه بیان کردند؟ سمت مشرقی بر علیه امان اﷲ چه طور قیام نمود؟ در جرگه حده چه رأی تصویب شد! و برای امان اﷲ چه مواد فرستادند، مگر امان اﷲ آنهمه را طرفداری پیر هفتاد ساله و طفل دوازده ساله حساب میکند.\n\nجنوبی فرانس میں تشریف فرما تھے کیا امان اﷲ نے ۱۳۰۶ کے ”لویہ جرگہ“ کے وکیلوں کو جنکو وہ قوم کے صحیح نمائیندوں کے نام سے تعبیر کرتا ہے مجبر و اکراہ جمع نہیں کیا تھا؟ اور ان وکیلوں نے گھڑ دوڑ کے چبوترے پر جو پغمان میں ہے اور رحمت اﷲ خان کے باغ میں امان اﷲ کو کیا کہا تھا؟ اور جب وہ اپنے اپنے گھروں کو واپس گئے تو ملت کو امان اﷲ کے بارے میں کیا کچھ کہا؟ سمت مشرقی کے اہالی امان اﷲ کے برخلاف کس ہمت و استقلال سے ڈٹے رہے؟ ہڈہ کے جرگے میں کیا کیا قرار دادیں پاس ہوئیں؟ اور انہوں نے کس مضمون کا خط امان اﷲ کے پاس بھیجا؟ لیکن امان اﷲ ان سب مخالفتوں اور ناراضگیوں کو ستر سالہ بوڑھے اور بارہ سالہ بچے کی طرفداری پر محمول کرتا ہے۔\n\nآیا دران شرائط پیر هفتاد ساله و طفل دوازده ساله خلع امان اﷲ و محاکمه او بحضور ملت و در صورت ثبوت سب نبی و مخالفت شریعت نبوی (ص) صدور حکم سنگسار شرط گذاشته نشده بو؟ اگر امان اﷲ خان\n\nکیا ان ریز دلیوشنوں میں امان اﷲ کے جان نثار ہفتاد سالہ پیر اور طرفدار دوازده ساله بچے کی ایک تجویز یہ نہیں تھی؟ کہ امان اﷲ کو تخت سے علیحدہ کر دیا جائے اور ملت کے حضور میں اسکا محاکمہ کیا جائے۔ اور اگر اس پر سب نبی اور شریعت نبوی (ص) کی مخالفت ثابت ہوجائے تو اسکو سنگسار کر دیا جائے۔"}
{"book": "adl0111", "page": 35, "text": "۳۲\n\nفراموشی پیدا کرده ما می توانیم تمام آن شرائط\nقوم را عند اللزوم طبع کرده پیش رویش\nبگذاریم .\n\nاعلیحضرت محمد نادر شاه\nبدخواه امان الله جان نیست\n\nلویه جرگه سنه ۱۳۰۹ میخواست بسیار\nچیزها را بر علیه امان الله قانون بگذارد و همان\nشرائط جرگه پغمان را باد سه از نو بشنواند\nاو را زیر محاکمه ملت بد نیا معرفی کند ، اما\nاشفاق محمد نادر شاه موقع نداد . ما میتوانیم\nبگوئیم محمد نادر شاه هنوز هم بد خواه امان الله نبود\nاما از امان الله بد خواهی بسیار مشاهده شده است\nبا پدر بزرگوار و عم غمخوار خود چه کرد؟ که با محمد نادر شاه\nکند .\n\nسبب فرار مخفیانه\nامان الله چه بود ؟!\n\nاین بیانیه که ملت خود را برای امان الله اسیکرد\n\nاگر امان الله خان کے ہوش و حواس رفو چکر\nہوگئے ہیں اور ان کو نسیان کی مرض لاحق\nہوگئی ہے تو ہم قوم کی ان تمام تجاویز کو\nبوقت ضرورت چھاپ سکتے ہیں ۔ شاید ان کے\nمطالعے سے آپ کے دماغ کے پرزے ٹھیک ہوجائیں ۔\n\nاعلیحضرت غازی محمد نادر شاہ کی سمح\nذات امان اللہ خان کی بدخواہ نہیں ہے\n\n۱۳۰۹ کے ”لوئے جرگے“ کی خواہش تھی کہ\nامان اللہ کی تمام جنایتوں اور خیانتوں کی مفصل\nرویداد تیار کرکے اسکو ایک قانونی صورت دے\nاور جرگہ پغمان کی تمام تجاویز کو سراز نو مشتہر\nکرکے تمام دنیا کو بتلائے کہ امان اللہ ان جنایت\nملت کا مجرم ہے ۔ لیکن محمد نادر شاہ افغان کی\nشفقت اور سمحت نے ملت کو اس بات کا موقع\nنہ دیا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ محمد نادر شاہ ہنوز بھی\nامان اللہ کا بد خواہ نہ تھا لیکن امان اللہ کی\nطرف سے ہمیشہ بہت زیادہ بد خواہی\nدیکھی گئی ہے ۔ اس نے اپنے بزرگوار باپ\nاور غمخوار چچے کے ساتھ کیا کیا جو اب\nمحمد نادر شاہ افغان کے ساتھ روا رکھیگا۔\n\nامان اللہ کا چھپکر بھاگ جانا اس\nبات کی دلیل ہے کہ وہ بزدل تھا اور\nملت نے اسکا ساتھ چھوڑ دیا تھا\n\nبے اختیار ہنسی آتی ہے جب ہم امان اللہ کے اس اعلان"}
{"book": "adl0111", "page": 36, "text": "۳۳\n\nوا مان الله مانع شد ، یک چیز مضحک است\nاگر اینطور بود، چرا اهل و عیال ثانی خود و تمام\nخاندان خویشس را بانو امیس ملت در پنجه\nوحشت سقاوی گذاشت؟ آیا در صورتیکه پیر\nهفتاد ساله و طفل دوازده ساله برای\nفدا کردن بر کاب امان الله حاضر بودند امان الله\nچرا خضیه خود را خلع کرد؟ و خیمه قندها رقرار نمود؟\nلازم بود با پیران هفتاد ساله و طفلان دوازده\nساله مشوره میکرد و برای آنها یک راه\nنجات و انمود میساخت . آیا امان الله خان\nبا وزرا ی خویش و اهل کابل مشوره و یا لاقل\nوداعی هم کرده است ؟\nاز کی در باب فرار خود بطرف قندهار\nپرسیده بود ؟ امان الله میخواهد باین بهانه\nهای خام بزدلی خویش را رحمدلی بدنیا\nمعرفی کند، دنیا چشم و گوش دارد، حیف است\nکه هنوز هم با کلام طفلانه خود را رسوا و\n\nواقعہ بیان کو پڑھتے ہیں کہ ملت تو میرے لئے\nقربانی دیتی ہوتی تھی لیکن میں نے خونریزی کے خیال سے\nاسکو منع کیا \" اچھا اگر ایسا ہی تھا تو کیوں امان اللہ\nاپنی دوسری بیوی اور اپنے خاندان کے اہل عیال کو اور\nاپنی جان نثار و وفادار ملت کے ناموس دعوت کو\nسقے کے پنجہ ظلم و وحشت میں پھنسا گیا ؟ جس صورت میں\nستر سال کا بوڑھا اور بارہ سال کا لڑکا امان اللہ کی\nرکاب میں اپنا خون بہانے کیلئے حاضر اور تڑپ رہا تھا\nبھگوڑا امان اللہ کیوں چپکے سے تخت سے دستبردار\nہوگیا؟ اور چھپکر قندھار بھاگ گیا انسانیت اور احسان کی\nجزا کا تو یہ تقاضا تھا کہ ہفتاد سالہ فدا کار بوڑھوں\nاور دوازدہ سالہ جان نثار بچوں کے ساتھ صلاح\nو مشورت کرتا اور انکو ایک نجات کا راستہ بتاتا۔\n(اجی کیا کہنے ۔ وفادار ملت کو عجب دلداری ملا تھا ؟)\nکیا امان اللہ نے اپنے وزیروں ، اہلکاروں اور\nکابل کے باشندوں کے ساتھ مشورہ کرنا تو درکنار چھو\nالوداع بھی کہی؟ آیا کسی سے پوچھا کہ میں کابل کو\nچھوڑ کر قندھار بھاگ جاؤں یا نہ ؟\" امان اللہ\nچاہتا ہے کہ ایسے ایسے بودے بہانے\nاور عذر لنگ تراشکر اپنی بزدلی اور بیوقوفی\nرحمدلی اور وفاداری کا جامہ پہنائے\nحالانکہ خود اسکی موجودگی میں اور اس کے\nبھاگ جانے کے بعد افغانستان کی ملت\nخاک وخون میں لوٹتی نظر آتی ۔ دنیا کے\nکان سنتے ہیں اور آنکھیں دیکھتی ہیں۔\nلیکن حیف ہے کہ امان اللہ اب بھی اپنی\nطفلانہ حرکات ، اپنے بھدے خیالات\nاپنی بھونڈی دلیلوں اور اپنی کچی باتوں سے\nاپنی مٹی پلید کر رہا ہے ۔ اسکو تو\nچاہیے کہ چلو بھر پانی میں ڈوب"}
{"book": "adl0111", "page": 37, "text": "٣٤\n\nموم دنیا می سازد .\nامان الله میگوید :\n« مقاله که بنام میرزا میر غلام خان\nشایع شده از قلم او نیست ، و\nریو تر خبر عیسوی شدن امان الله\nو خانم او را که شایع کرده آنهم\nاز طرف ریو تر نیست »\nمرے ۔\nامان اللہ کہتا ہے :۔\n”جو آرٹیکل کہ میرزا میر غلام خان کے\nنام پر شائع کیا گیا ہے وہ در اصل اسکے\nاپنے قلم سے نہیں ہے ۔ اور امان اللہ\nاور اسکی اہلیہ کے دین عیسوی قبول\nکرنے کی خبر بھی جو ریو ٹر کیطرف\nمنسوب کی گئی ہے وہ ریوٹر نے\nشائع نہیں کی“۔\n\nجواب\n(مقاله میر غلام نمونه از حسیّات ملّی است)\nمیرزا میر غلام خان را هر کس می شناسد\nو در کابل بہمہ قارئین معلوم است ، مقاله که در راد\nامان الله آتش زده از میرزا میر غلام خان است\nیا نه ؟ محمد نادر شاه مگر کاری ندارد که محض اوقات\nعزیز خود را بمقاله نویسی و آنهم برضد امان الله صرف کند\nمگر امان الله را در غیاب نادر شاه ملت ندید\nو از اعمال و عقائد او مطلع نیست ؟ محمد نادر شاه\nکه پنج سال از مملکت دور مانده است از بسیار\n\nجواب\n(میر غلام کا مضمون اصل قومی جذبات کا نمونہ ہے)\nمیرزا میر غلام خان کی شخصیت ایسی نہیں جو مجہول\nاو مجمل ہو اسکو کابل میں ہر خورد و کلان اچھی طرح\nپہچانتا ہے ۔ آیا قارئین مضمون کی طرز تحریر ادرا ہ سے\nاندازہ نہیں لگا سکتے کہ اسکے لکھنے والا میرزا\nمیر غلام خان ہے یا کوئی اور شخص ؟ کیا محمد نادر شاہ\nافغان کو اتنی بڑی سلطنت کے کاموں سے اتنی\nفراغت مل سکتی ہے کہ وہ اپنے قیمتی اور\nمفید وقت کو مضمون نگاری کی نذر کر دے؟\nاور پھر وہ بھی امان اللہ جیسے شخص کے\nخلاف ۔ کیا ملت نے امان اللہ کو محمد نادر شاہ کی\nغیبوبت میں نہیں دیکھا ہے اور اسکے اعمال\nو عقائد سے واقف نہیں ہے ؟ محمد نادر\nشاہ افغان جو پانچ سال اپنے وطن سے"}
{"book": "adl0111", "page": 38, "text": "٣٥\nچیز نامے امان اللہ اطلاع نداشت بلت\nاز احوال خانہ و بیرون امان اللہ، بیشتر\nواقفیت دارد !\nباہر رہا ہو اسکو امان اللہ کے خصوصی\nرازوں سے کیسے واقفیت حاصل\nہو سکتی ہے ؟ لیکن ملت کی متلاشی نظروں سے\nامان اللہ کے اندرونی اور بیرونی حالات\nنہیں چھپ سکتے وہ بہتر جانتی ہے ۔\nخبر عیسوی شدن امان اللہ را کہ وزیرمختار\nاعلیحضرت نادر شاہ در مصر تردید کرد ، ما\nامان اللہ عقل کا اندھا ہے جو خواہ مخواہ\nاپنے تنصر کی خبر مشہور کر رہا ہے حالانکہ\nاعلیحضرت غازی محمد نادر شاہ کے مصر میں\nوزیر مختار نے اسکے عیسائی ہونے کی\nتردید کر دی ہے ۔ اعلیحضرت محمد نادر شاہ کی\nمیتوانیم بگوئیم کہ اعلیحضرت نادرشاه\nہنوز ھم بدخواہ امان الله نیست ، اما دشمن\nامان اللہ اعمال افکار و اخلاق خود اوست\nعقیده عبدالرحمن نسبت\nبہ امان اللہ چیست .\nاس فراخدلی اور بلند ہمتی کو دیکھ کر ہم کہہ سکتے ہیں\nکہ وہ اب بھی امان اللہ کا بد خواہ نہیں ۔\nمگر امان اللہ کے حقیقی دشمن اسلئے اپنے\nاعمال و بد افکار اور اخلاق ہیں جو اسکو اُکساتے رہتے\nہیں کہ اپنی قلعی کھولنے پر دنیا میں ڈھنڈورا پٹوائے۔\nامان اللہ کے متعلق\nعبدالرحمن کا عقیدہ\nامان اللہ خان عبد الرحمن رئیس بلدیه را\nشهید راه طرفداری خود بدنیا معرفی میکند\nو میگوید :\nامان اللہ دنیا کو بتلاتا ہے کہ عبد الرحمن رئیس\nبلدیہ کو (میونسپل کمشنر) اسکی طرفداری کے\nجرم میں شہید کیا گیا ہے اور کہتا ہے کہ :۔\n\"چون عبد الرحمن طرفدار\nامان الله بود ، نادر شاه اورا\nبقتل رسانید\"\n\"چونکہ عبدالرحمن امان اللہ کی\nطرفداری کا دم بھرتا تھا نادر شاہ\nنے\nاسکو قتل کر ڈالا \"\nبکھیئے صفحہ ۳۱"}
{"book": "adl0111", "page": 39, "text": "٣٦\n\nجواب\nاگر عبد الرحمن طرفدار امان الله بود، پس\nامان الله او را از سرمنشی بودن حضور خود چرا\nعزل کرد؟ و اگر عبد الرحمن طرفدار امان الله\nبود، از ریاست بلدیه قندهار چرا عزلش نمود؟\nاگر عبد الرحمن طرفدار امان الله بود از مدیریت\nگمرک کابل که محمد ولیخان در موقع سیاحت\nامان الله مقرر کرده بود، چرا عبد الرحمن را\nمعزول ساخت؟\nتحریراتیکه از عبد الرحمن در دست حکومت\nآمده و حکومت آنرا زینکوگرافی کرده است،\nتا در کتاب علل انقلاب افغانستان نشر\nکرده شود، ما سه صحیفه آنرا بدست آورده عیناً\nزینکوگرافی آنرا در صحائف بعد ذیلاً نقل میکنیم\nتا بدنیا معلوم شود که آیا حکومت نادرشاه\nعبد الرحمن را نسبت بطرفداری امان الله اعدام کرد\nیا اینکه عبد الرحمن خائن ملک و ملت بود؟\n\nجواب\nامان الله کے قول کے مطابق اگر عبد الرحمن\nواقعی امان الله کا طرفدار تھا تو امان الله نے\nاسکو اپنے حضور کے عہدہ سرمنشی سے\nکیوں معزول کیا ؟ اور اگر عبد الرحمن امان اللہ کا\nطرفدار تھا تو امان اللہ نے اسکو قندھار کی\nریاست بلدیہ (میونسپل کمشنری) سے\nکیوں برطرف کر دیا ؟ اگر عبد الرحمن\nامان الله کا طرفدار تھا تو امان الله نے\nایسے یار غار کو کابل کی مدیریت گمرک سے\n(محصول چنگی) جس پر محمد ولیخان نے\nامان الله کی سیاحت کے دوران میں متعین کیا تھا\nکیوں موقوف کیا؟ شاید دلدار امان اللہ اپنے طرفدار\nاور یاران وفادار کی ایسے ہی خبر گیری کرتا ہوگا۔ جس سے\nاسکے عاشقان زار سپر اپنی جانیں تک نثار کر دیتے تھے۔\nاس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا۔\nعبد الرحمن کی تحریروں اور یاد داشتوں کو جو حکومت کے\nہاتھ گئی ہیں اور حکومت نے جنکے فوٹو اتار لئے ہیں\nمحفوظ کر لیا گیا ہے تاکہ ان کو بھی عند اللزوم اس\nکتاب میں جو انقلاب افغانستان کی علل و اسباب پر\nلکھی جائیگی چھاپ دے ۔ ہم سردست ان میں سے\nصرف تین صفحوں کا فوٹو اس کتاب کے آئندہ صفحے پر\nشایع کرتے ہیں تاکہ دنیا کو معلوم ہو کہ آیا\nمحمد نادر شاہ کی حکومت نے عبد الرحمن کو\nامان اللہ کی طرفداری کے الزام میں موت کی\nسزادی ہے یا یہ کہ عبد الرحمن ملک ملت کی\nخیانت کے جرم میں قتل کیا گیا۔"}
{"book": "adl0111", "page": 40, "text": "( ٣٧ )\nزینکوگراف صحیفۀ (اول) کتابچه یاد داشت عبدالرحمن نسبت به امان الله خان\n\nبرخورد و چنانچه بصورت یک یاد داشت لزوم میشود و از آوردن دلایل و منابع\nو تفصیلات صرفنظر میکنیم، مگر جائیکه شبهه ئی در باره این وقوعات داده میشود\nمظالم سردار را در باب ها و فصل ها و ماده ها بیان میکنیم و انرا بر محتوی و مبانی\nاساسی دسته‌بندی می‌نماییم\n\nباب اوّل: نواقص امان الله\nفصل اوّل -- نواقص دوره امان الله خان :\nالف -- نواقص شخصی خود امان الله خان\n۱ -- امان الله خان در ابتدا سلطنت خود را بر اساس حیله و فریب گذاشت،\nو در دورۀ اول سلطنت چه حق مردم را با او عهده که بالفاظ\nشیرین میگوید، مخالفین آنرا سرکوب میکند.\nملا محمد ابراهیم را (۱) بچند آلت (۱۳) خار\nدر بخلاف بکشتن و آلت را سوراخ نکرده و از طرف دیگر بمجردین\nاعلان حریت داده، و در همین زمان جمیع محبوسین خود را محمد عمر\nخان توخی و افغان باشی ها می کشت . و مردم را تش به دروغ\nمیگوید ما، تمام زندانیان ملت بیدا لغز را از حبس رهانیدیم.\n\n۲ -- امان الله خان از ابتدای حکومت خود غرورا مخالفت و نخوت داشت\nنشان داده، چنانچه در چاپه دوم ماه اول در باغ بالا امان بک\nمیرزمان پیشین سفید عارض را که شاید ۳ قرآن رشوت گرفته بود\nاز پیشین موقوف کرد، لکن بپاداش عطا محمد خان وزیر تعلیم و تعلم\nمیرزا محمد سرور که میرزا یحیی بی ا و (؟) میداد) و پسر او یک باشی و رشوۀ"}
{"book": "adl0111", "page": 41, "text": "( ۳۸ )\nزینکوگراف صحیفه ( ۲ ) کتابچه یاد داشت عبدالرحمن لسان به امان الله خان\n\nمعروضات جانب بصورت یک یاد داشت نوشته مانده چون آوردن دلایل اضافی\nموجب تطویل است. ازان صرفنظر نمودیم یکجا در بعضی موارد لازم آید زبانی تفصیلات\nداده میشود بگر چون اکثر چیزهایت است . شاید شب به آوردن در آنسرها\nمجالی هم نمانده\n\nاسباب دست این کار ها از انقلاب\n\nانه در خصوص اسباب این انقلاب هرکس هر چه میگوید، در کلمه طیبه توجیهات پی هم چند عدد\nمثلاً یکی میگوید که چه لحاظ نا امیدی است\nدیگر ها میگوید که دشت غازی کاردار بود\n، ، ، ، سفارش فلان فلان اشخاص جراه از راه بود\n، ، ، ، نا گوارات بود\n، ، ، ، بیکاره گی نظام بود\n، ، ، ، قانون بود که شریعت دست زده و منهدم گردیده بود\n، ، ، ، حیاشی و شتر گاوای بود\n، ، ، ، بی ایمانی بود\nدر حال هر کس یک چیزی میگوید اما مه رویدادیکه بخیال م هم میرسد .\nاما اصل سبب اساسی انقلاب را یک چیز است و آن یک چیزیست که همواره\nفراغون و مجدداً نگه در احصای ادارۀ تمور الدی سکونت گذشته ها :\nاوضاع حکومت گذشته از آغاز تا آنکه چرایش رسید پیوسته برای دفع\nپنجابیه ها واگذاشته میشد. سبوق و مدافع نقض دو اول تا اخیر یک حکومت\nنخستین و منقلب را که به برقاول اراسته و بود رتبه پرستی ، از وضع برجسته اول شست\nو پر چمشک آزادی ، و خیال آبادی دشت و اعصاب بر جای متورم مریدا نیه حیدری\nکر کارهای بی بنیاد می آمد که نموده و پایین ثبث کر مرهم داشت فاید ."}
{"book": "adl0111", "page": 42, "text": "( ۳۹ )\nزینکوگراف صحیفه ( ۳ ) کتابچه یادداشت عبدالرحمن نسبت به امان الله خان\n\n[ILL] [ILL] [ILL] [ILL] در بعض [ILL] [ILL] به [ILL] تا [ILL] [ILL]\nهمراه [ILL] [ILL] [ILL] [ILL]\n[ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL]\n[ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL]\n[ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL]\n[ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL]\n[ILL] [ILL] [ILL] [ILL]\n[ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL]\n[ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL]\n[ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL]\n[ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL]\n[ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL] [ILL]"}
{"book": "adl0111", "page": 43, "text": "٤٠\n\n(کتابچہ یادداشت کے تین صفحوں کی زنگوگرافی)\nعبدالرحمن جسکو امان اللہ اپنا\nطرفدار بتلاتا ہے ذیل میں اسکی\nیادداشتیں ملاحظہ ہوں ۔\nعبدالرحمن لکھتا ہے ۱۔\nاس جگہ جو فقرہ بھی لکھا گیا ہے صرف ایک یادداشت کے طور پر ہے اور بسی۔\nدلیلوں اور مثالوں کے لانے اور تفصیلاً میں پڑنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ ہاں\nاگر ضرورت پڑی تو ہم تمام مسائل اور دلائل کو پوری توضیح و تشریح کے ساتھ\nزبانی بیان کرینگے، اور ترتیب کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے مطالب کو بابوں فصلوں\nاور مادوں میں تقسیم کرینگے اور ہر عنوان کا اعتبار اسکے اساسی مسائل پر ہوگا۔\n(پہلا باب۔ نواقص و علل انقلاب)\nفصل اول ۱۔ امان اللہ خان کے عہد کے نواقص ۱۔\n۱ ۱۔ امان اللہ خان نے ابتداء سے ہی اپنی سلطنت کی بنیاد کو حیلہ اور\nفریب پر رکھا۔ اور پہلے دو مہینوں میں ہی ہوشمندوں نے کیا\nبلکہ عوام نے بھی سمجھ لیا کہ اس کے ظاہری الفاظ اور ہوتے ہیں اور\nاسکا عمل بالکل ان کے برخلاف ہوتا ہے مثلاً فوجوں کی تنخواہ\nپہلے (۲۰) روپیہ فی کس مقرر کی، لیکن بعد میں (۱۲) روپے بھی نہ دی۔\n\nمجاہد یعقوب حسن"}
{"book": "adl0111", "page": 44, "text": "٤١\nایک طرف تو باقیات کی بخشش کا اعلان کیا اور دوسری طرف انگریزوں کے\nخلاف جنگ کا اعلان دیا۔ لیکن ٹھیک اسی اثنا میں سرکاری پیادے تھے\nجو کابل کے ہر گلی کوچے میں باقیدہ اشخاص پر مقرر تھے اور جو لوگوں\nپر سخت ظلم کرتے تھے اور انکی آبرو ریزی کے درپے رہتے تھے\nاس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابتدائے سلطنت سے ہی سینکڑوں لوگ\nاس سے بیزار ہو گئے۔\n۲:- امان اللہ اپنی حکومت کے شروع ہی سے اپنے آپ کو رشوت\nستانی کا دشمن بتاتا تھا چنانچہ انہی پہلے دو مہینوں میں مہمان خانہ کے\nباغ میں ایک عاجز ، سفید ریش کلرک کو جس نے شاید صرف ۳ قران\n(قریباً ایک ہندوستانی روپیہ) رشوت میں لئے تھے ڈاڑھی سے\nلٹکا کر پھانسی دیدی لیکن ٹھیک اسی رات عبدالعزیز خان زیرِ داخلہ\nنے مرزا محمد سرور خان کے ذریعے جو ان دنوں تحصیلی پر مقرر تھا\nصرف ایک باقیدہ شخص سے (۲۰) ہزار روپے رشوت میں لئے۔\nبواسطہ رشوت دیدی گئی تھی!\nروپئے کو ۱۸۰۰۰\nمبلغ ۱۲۰۰۰\nدر اصل یہ"}
{"book": "adl0111", "page": 45, "text": "٤٢\n\nجاننا چاہیے کہ یہ باتیں محض یادداشت کے طور پر لکھی گئی ہیں، دلیلوں\nاور مثالوں کا بیان کرنا طوالت کا موجب ہے اسلئے ہم اس سے اجتناب\nکرتے ہیں، ہاں اگر کسی موقع پر ضرورت محسوس ہوئی تو زبانی اسکی تشریح\nکر دی جائیگی مگر چونکہ اکثر باتیں حقائق اور بدیہیات ہیں ممکن ہے کہ دلیلوں کے\nزبانی بیان کرنے کی بھی ضرورت نہ پڑے ۔\n\nاس تباہی اور انقلابکے اسباب و نسبت\nا۔ اس انقلاب کے اسباب کے متعلق جتنے منہ اتنی باتیں ہیں۔\nاور ہر ایک آدمی اپنے نظریئے کو صحیح سمجھتا ہے۔ مثلاً ایک کہتا ہے\nکہ اہلکاروں کی بیوفائی کا نتیجہ ہے، دوسرا پکار اٹھتا ہے کہ عہدہ داروں کی رشوت خوری تھی۔\nکوئی کہتا ہے کہ فلان فلان اشخاص چوروں کے ساتھ ساز باز رکھتے تھے۔\n۔۔۔۔ فوجیوں میں ماکولات کا رواج دینا تھا\n۔۔۔۔ حکام بالکل نالائق اور ناقابل تھے\n۔۔۔۔ قانون بنایا گیا تھا کہ چور کے ہاتھ نہ کاٹے جائیں\n۔۔۔۔ عیاشی اور شرابخوری تھی\n۔۔۔۔ عورتوں کا بے حجاب ہونا تھا\nالغرض ہر ایک کوئی نہ کوئی بات کہتا ہے اور یہ سب آدمی جو کچھ کہتے ہیں\nٹھیک بھی ہے۔"}
{"book": "adl0111", "page": 46, "text": "٤٣\n\nلیکن در حقیقت انقلاب کی بنیادی علت صرف ایک چیز ہے اور وہ\nشیئ واحد مشتمل ہے ان ہزار ہا نقائص وعیوب پر جو گذشتہ دہ سالہ حکومت کے\nاداری اصولوں میں موجود تھے۔\nگذشتہ حکومت کی روش ابتداً سے لیکر انتہا تک ایسی تھی کہ ہر روز\nیہ خطرہ لاحق رہتا تھا کہ بس آج ہی ایک زبر دست انقلاب واقع ہونے والا ہے\nاگر ملت میں زندگی اور بیداری ہوتی تو چاہیئے تھا کہ ان پہلے چھ مہینوں میں ہی\nایسی حیلہ باز اور مختلف رنگ بدلنے والی حکومت کو تہس نہس کر دیتی کہ جس کے\nنہ قول پر اعتبار تھا اور ا سکے فعل پر اعتماد۔ جسکی طرز نہ تو استبدادی تھی\nاور نہ اسکا مسلک آزادی ، جسکو نہ تو آبادی کا خیال تھا اور نہ بربادی کا حوصلہ\nلیکن جہالت و نادانی کے بھی قربان جائیے کہ حکومت کی ایسی بد رفتاری کو پورے\nدس سال تک مہلت دے رکھی ۔"}
{"book": "adl0111", "page": 47, "text": "٤٤\n\nامان اللہ کی حکومت کے چھوٹے چھوٹے جرم جیسے وعدہ خلافیاں فریب کاریاں\nحتیکہ فراشوں اور خانسامانوں کے ساتھ بھی چالیں چلنا اسقدر زیادہ ہیں کہ انکا شمار\nحد و حساب سے باہر ہے۔ ہم ان معمولی مسائل سے قطع نظر کرتے ہیں۔\nمگر جن بڑے بڑے گناہوں کے ارتکاب سے ملک ویران ہو جاتے ہیں\nاور مانکی آزادی و استقلال محو ہوجاتا ہے اور ہزاروں بندگان خدا کا خون\nبہہ جاتا ہے انکی گنتی بھی اتنی ہے کہ ایک لمبی فہرست بن جاتی ہے ۔\nمثلاً اسکے تمام کاموں میں سے جو ایک کام سرزد ہوا ہے اور جسکو فی الجملہ\nکارخیر کہہ سکتے ہیں اور اس کے دوسرے کاموں کی نسبت ظاہراً اس میں شرافت\nاور اسلامیت کی کچھ کچھ بو آتی ہے وہ یہ ہے کہ اُسنے بیچارے ہندوستانیوں کو ہجرت کی\nترغیب دی ۔ گویا ان قسمت کے مارے غریب الوطنوں نے دار الحرب سے دار الاسلام\nمیں ہجرت کی ۔ خواہ اس میں کتنے ہی پالیٹار و دلسوزی کو دخل ہو صرف اس ایک ہی\nمسئلے میں بھی خامی رہی وہ یہ ہے کہ وطن سے دور ہزاروں مہاجر قطغن کے دشتوں\nاور میمنہ اور ترکستان کے درّوں میں مر کھپ گئے ۔\nخیوہ اور بخارا نے روسیوں کی سیاسی نگرانی کے ماتحت خارجہ ممالک کی\nنظروں میں ایک دولت کی حیثیت پیدا کر لی تھی اور روسیوں نے انکو برائے نام\nآزادی بھی دے رکھی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔\n\nThe main difference between this function block and functions studied above block resides on how input arrays parameter changes on time index $n$. This corresponds closely mathematically discrete convolution equation that assumes constant weights $W$:\n$$ y[n] = \\sum_{k=0}^{n}w[k]x[n-k] $$\nIf filter weights were constant over time, all parameters except ```din``` should be invariant over time. Consequently they can be implemented dynamically in Vivado HLS. When inputs are defined as static, synthesis process considers them to be invariant. C simulation handles statics variable correctly, but RTL cosimulation may ignore those variables to match them with synthesis. Let see the output of the cosimulation. \n\nAs you can notice, there is a mismatch between original algorithm result and RTL behavior. As it was discussed before this is due to how Vivado HLS manage the C `static` variables in simulation process. To solve this issue, HLS provides a pragma to remove this limitation. To make the HLS know that the function input parameters are used to carry the internal states of the function between its calls we can use `#pragma HLS pipeline II=1`\n\n\n\n````c\nvoid FirFilter(din_t din, coeff_t w[N], dout_t *dout) {\n\tstatic acc_t acc = 0;\n\tstatic din_t shift_reg[N];\n\t#pragma HLS pipeline II=1\n\n\tacc = 0;\n\tfor (int i = N - 1; i > 0; i--) {\n\t\tshift_reg[i] = shift_reg[i - 1];\n\t\tacc += shift_reg[i] * w[i];\n\t}\n\n\tshift_reg[0] = din;\n\tacc += shift_reg[0] * w[0];\n\n\t*dout = acc;\n}\n````\n\nUsing `#pragma HLS pipeline II=1` allows concurrent execution of operations, to process a new input every clock cycle and achieve highest performance. Then Vivado understand that `shift_reg` is a shift register and maps it onto RTL `Shift Register` as depicted below.\n\n<img src=\"./fig/sr2.png\" width=\"80%\">\n\nThis figure represents how HLS maps a C array defined as static to hardware primitives. However, there are some restrictions on that:\n1. The shift registers' data has to be stored in registers, not block RAMs. \n2. Fully unrolling of shift registers into individual registers can result in a complex routing problem.\n\n\n### 5. Loop pipelining\n\nPipeline pragma in HLS instructs the tool to attempt to pipeline the loop, which can significantly improve throughput by allowing successive iterations of the loop to overlap their execution, thus reducing the total time taken for the loop to complete. \nNow, it's time to evaluate how `#pragma HLS PIPELINE` can improve the throughput of FIR filter IP by parallelizing the multiplications and accumulation operations. Note that to do that, you should completely unroll the `for-loop` and the elements of `shift_reg` and `w` parameters should become fully accessible at the same time. The first step can be done by using `#pragma HLS unroll` pragma or putting the loop inside a pipeline. The `PIPELINE` pragma automatically unroll loops inside the corresponding pipeline. Therefore, in this example, it is not needed to unroll the `for-loop` explicitly. Second, we should use `#pragma HLS array_partition` to partition the elements of `shift_reg` and `w` parameters.\n\n````c\nvoid FirFilter(din_t din, coeff_t w[N], dout_t *dout) {\n\n#pragma HLS pipeline II=1\n#pragma HLS array_partition variable=w type=complete\n\tstatic acc_t acc = 0;\n\tstatic din_t shift_reg[N];\n#pragma HLS array_partition variable=shift_reg type=complete\n\n\tacc = 0;\n\tfor (int i = N - 1; i > 0; i--) {\n\t\tshift_reg[i] = shift_reg[i - 1];\n\t\tacc += shift_reg[i] * w[i];\n\t}\n\n\tshift_reg[0] = din;\n\tacc += shift_reg[0] * w[0];\n\n\t*dout = acc;\n}\n\n````\n\n\nNow, synthesise the code and evaluate the required resources in terms of DSP block. \nAs shown in the following figure, now HLS can find that `shift_reg` elements' indices can be evaluated independent of the time instance index.\n\n<img src=\"./fig/sr3.png\" width=\"80%\">\n\n> - **Note**: If you want to use the output of the IP core immediately when the result is ready, you must use ```ap_none``` protocol for `dout` parameter using `#pragma HLS INTERFACE mode=ap_none port=dout`. Using the `ap_none` protocol tells the Vitis HLS compiler not to generate any control signals for a given port, meaning the port behaves purely as a data connection without handshaking signals (like `valid`, `ready`, or `acknowledge`).\n> - **Note**: To prevent the Vitis compiler to wait for the handshaking signals from AXI interface when it enters to the algorithm, we should use ```#pragma HLS INTERFACE ap_ctrl_none port=return```.\n\n### 6. MAC FIR design with single DSP slice\n\nBy looking at synthesis report of previous design, you may find that our design instantiated 11 DSP slices. You can use `#pragma HLS ALLOCATION` to manage the amount of resource allocated for mathematical operations (like multipliers and adders). You can limit the number of multipliers (or MAC units) that Vitis HLS will use for the FIR filter to reduce hardware area, at the cost of increased latency (time to compute one output). The `ALLOCATION` pragma enforces resource constraints on operations, functions, or cores. \n\n````c\nvoid FirFilter(din_t din, coeff_t w[N], dout_t *dout) {\n    #pragma HLS ALLOCATION operation instances=mul limit=1\n    \n    // FIR filter logic here\n}\n````\n\nBy doing that, the synthesis cannot achieve `II=1`, therefore it is better to modify the pragmas as follow. \n\n````c\nvoid FirFilter(din_t din, coeff_t w[N], dout_t *dout) {\n\tstatic acc_t acc = 0;\n\tstatic din_t shift_reg[N];\n\n    #pragma HLS ALLOCATION operation instances=mul limit=1\n\n\tacc = 0;\n\tfor (int i = N - 1; i > 0; i--) {\n        #pragma HLS PIPELINE\n\t\tshift_reg[i] = shift_reg[i - 1];\n\t\tacc += shift_reg[i] * w[i];\n\t}\n\n\tshift_reg[0] = din;\n\tacc += shift_reg[0] * w[0];\n\n\t*dout = acc;\n}\n\n````\n\nThis will give the compiler the freedom to pipeline the loop, and try to process each inner iteration per clock cycle. You may check the HLS result and compare it with the results obtained from previous sections.\n\n## Second part: Using AXI Stream interface for FIR\nInstead of reading one value at a time from a specific address using `ap_none` protocol in FIR function arguments, passing an array to the function gives HLS the opportunity to read the input from a FIFO using AXI stream interfaces. Using AXI Stream in a FIR filter design allows for continuous, high-throughput, and pipelined data processing.\n\n````c\n#include \"FirFilter.h\"\n#include <hls_stream.h>\n\nvoid FirFilter(hls::stream<din_t>& din, hls::stream<dout_t>& dout, coeff_t w[N]) {\n#pragma HLS INTERFACE mode=axis port=din\n#pragma HLS INTERFACE mode=axis port=dout\n#pragma HLS INTERFACE mode=s_axilite port=w\n#pragma HLS INTERFACE mode=s_axilite port=return\n\n    static din_t shift_reg[N];\n#pragma HLS array_partition variable=shift_reg type=complete\n#pragma HLS array_partition variable=w type=complete\n\n    // Read new input data from the stream\n    din_t x_in = din.read();\n\n    acc_t acc = 0;\n\n    // Shift register and Multiply-Accumulate logic\n    // Add pipelining to allow processing one input per clock cycle\n#pragma HLS PIPELINE II=1\n\n    // Shift data and compute the FIR output\n    for (int i = N - 1; i > 0; i--) {\n        shift_reg[i] = shift_reg[i - 1];\n        acc += shift_reg[i] * w[i];\n    }\n\n    shift_reg[0] = x_in;\n    acc += shift_reg[0] * w[0];\n\n    // Write the output result to the stream\n    dout.write(acc);\n}\n````\n1. Explain how AXI stream is implemented using C codes.\n2. What are the limitation of `hls::stream<>` types? Explain. Check the official AMD user guide to learn more about `hls::stream<>` variable type.\n3. Replace the FIR codes with the codes presented above. Run C simulation and explain why the simulation gives segmentation fault error.\n4. Correct the testbench. In the case you couldn't here is the corrected one.\n````c\n#include \"FirFilter.h\"\n#include <iostream>\n\nusing namespace std;\n\n\n// Testbench main function\nint main() {\n    // Array of FIR coefficients\n    coeff_t w[N] = {1, 2, 3, 4, 5, 6, 5, 4, 3, 2, 1};\n\n    // Input data array to stimulate the filter\n    din_t input_data[15] = {1, 2, 3, 4, 5, 6, 7, 8, 9, 10, 0, 0, 0, 0, 0};\n\n    // Array to hold the expected output (for checking)\n    dout_t expected_output[15];\n\n    hls::stream<din_t> din_stream;\n    hls::stream<dout_t> dout_stream;\n\n    // Run the FIR filter software model (for expected output calculation)\n    for (int n = 0; n < 15; n++) {\n        acc_t acc = 0;\n        for (int k = 0; k < N; k++) {\n            if (n - k >= 0) {\n                acc += input_data[n - k] * w[k];\n            }\n        }\n        expected_output[n] = acc;\n    }\n\n    // Call the hardware FIR filter model\n    int pass = 1;\n    for (int n = 0; n < 15; n++) {\n    \tdout_t dout_val;\n\n    \tdin_stream.write(input_data[n]);\n\n    \tFirFilter(din_stream, dout_stream, w);\n\n    \tdout_val = dout_stream.read();\n\n        // Print input, output, and expected value\n        cout << \"Input: \" << input_data[n] << \" \\t\";\n        cout << \"Output: \" << dout_val << \" \\t\";\n        cout << \"Expected: \" << expected_output[n] << endl;\n\n        // Check if output matches expected output\n        if (dout_val != expected_output[n]) {\n            pass = 0;\n            cout << \"Mismatch at index \" << n << endl;\n        }\n    }\n\n    // Final result message\n    if (pass) {\n        cout << \"SUCCESS: All outputs match expected values.\" << endl;\n    } else {\n        cout << \"FAILED: Outputs do not match expected values.\" << endl;\n    }\n\n    return (pass == 1) ? 0 : 1;\n}\n````\n5. Run the synthesis. How resources and synthesis estimated delay compared to the version discussed in Sec. 5? Check if it is able to synthesize an IP with `II=1`.\n6. Run RTL cosimulation and compare the expected behavior with outputs from simulation.\n\n\n\nIn this task, we will improve the performance using block processing scheme rather than sample processing scheme.\nWrite a top module program using following code skeleton. Synthesize the code, check the results, check that if II=1 constraint met.  \n\n````C\nvoid FirFilter(hls::stream<din_t>& din, hls::stream<dout_t>& dout, coeff_t w[N]) {\n#pragma HLS INTERFACE mode=axis port=din\n#pragma HLS INTERFACE mode=axis port=dout\n#pragma HLS INTERFACE mode=s_axilite port=w\n#pragma HLS INTERFACE mode=s_axilite port=return\n\n    static din_t shift_reg[N];\n#pragma HLS array_partition variable=shift_reg type=complete\n#pragma HLS array_partition variable=w type=complete\n\n\t//TODO\n\t// write a loop that will read all the available data from din \n\t// stream process them using the same MAC algorithm  presented earlier\n\t// write back the result into the output stream. \n\t\n}\n````\n1. Correct the testbench to make it able to supply arrays/streams to the top module. Make sure to read all the streams in testbench loop too. \n\n<details>\n<summary> 💡 Solution for C code. Please check it after you've tried. </summary>\n\n```c\nvoid FirFilter(hls::stream<din_t>& din, hls::stream<dout_t>& dout, coeff_t w[N]) {\n#pragma HLS INTERFACE mode=axis port=din\n#pragma HLS INTERFACE mode=axis port=dout\n#pragma HLS INTERFACE mode=s_axilite port=w\n#pragma HLS INTERFACE mode=s_axilite port=return\n\n    static din_t shift_reg[N];\n#pragma HLS array_partition variable=shift_reg type=complete\n#pragma HLS array_partition variable=w type=complete\n    \n    acc_t acc;\n    while (!din.empty()) {\n#pragma HLS PIPELINE II=1\n    \tacc = 0;\n        din_t x_in = din.read();\n\n        // Shift data and compute the FIR output\n        for (int i = N - 1; i > 0; i--) {\n            shift_reg[i] = shift_reg[i - 1];\n            acc += shift_reg[i] * w[i];\n        }\n\n        shift_reg[0] = x_in;\n        acc += shift_reg[0] * w[0];\n\n        // Write the output result to the stream\n        dout.write(acc);\n    }\n}\n```\n</details>\n\n<details>\n<summary> 💡 Solution for Testbench. Please check it after you've tried. </summary>\n\n```c\n\n#include \"FirFilter.h\"\n#include <iostream>\n\nusing namespace std;\n\n\n// Testbench main function\nint main() {\n    // Array of FIR coefficients\n    coeff_t w[N] = {1, 2, 3, 4, 5, 6, 5, 4, 3, 2, 1};\n\n    // Input data array to stimulate the filter\n    din_t input_data[15] = {1, 2, 3, 4, 5, 6, 7, 8, 9, 10, 0, 0, 0, 0, 0};\n\n    // Array to hold the expected output (for checking)\n    dout_t expected_output[15];\n\n    hls::stream<din_t> din_stream;\n    hls::stream<dout_t> dout_stream;\n\n    // Run the FIR filter software model (for expected output calculation)\n    for (int n = 0; n < 15; n++) {\n        acc_t acc = 0;\n        for (int k = 0; k < N; k++) {\n            if (n - k >= 0) {\n                acc += input_data[n - k] * w[k];\n            }\n        }\n        expected_output[n] = acc;\n    }\n\n    // Call the hardware FIR filter model\n    int pass = 1;\n\n    for (int n = 0; n < 15; n++) {\n        din_stream.write(input_data[n]);\n    }\n    \n    FirFilter(din_stream, dout_stream, w);\n\n    for (int n = 0; n < 15; n++) {\n        dout_t dout_val = dout_stream.read();\n\n        // Print input, output, and expected value\n        cout << \"Input: \" << input_data[n] << \" \\t\";\n        cout << \"Output: \" << dout_val << \" \\t\";\n        cout << \"Expected: \" << expected_output[n] << endl;\n\n        // Check if output matches expected output\n        if (dout_val != expected_output[n]) {\n            pass = 0;\n            cout << \"Mismatch at index \" << n << endl;\n        }\n    }\n\n    // Final result message\n    if (pass) {\n        cout << \"SUCCESS: All outputs match expected values.\" << endl;\n    } else {\n        cout << \"FAILED: Outputs do not match expected values.\" << endl;\n    }\n\n    return (pass == 1) ? 0 : 1;\n}\n\n```\n</details>\n\nNow by synthesizing the codes above, we can notice that HLS could met II=1. You can verify it from RTL cosimulation waveform viewer (Fig. 8).\n\n<img src=\"./fig/waveform.png\" width=\"80%\">\n\n**Fig. 8: Waveform in Cosimulation viewer.**\n\n## Third Part: Implementing and Testing Using PYNQ\n\nNow, the HLS IP from the previous part will be packaged and evaluated physically on PyNQ-Z2. \n\n1. Export the HLS IP.\n\n2. Open Vivado tool, create a new IP. Insert `Zynq processing unit`. Add your packaged HLS IP to the IP block design, add one DMA ip `AXI Direct Memory Access`. Since, HLS IP uses streams, configure DMA for `Read/Write` channels. Disable `Scatter Gather Engine`.\n\n<img src=\"./fig/DMA.png\" width=\"80%\">\n\n**Fig. 9: DMA Configuration.**\n\n\n3. Connect the IP correctly like Figure 10. `TREADY` and `TVALID` from `M_AXIS_MM2S` on DMA connects to HLS IP `din`, and `S_AXIS_S2MM` connects to `dout`. \n\n<img src=\"./fig/IPBD.png\" width=\"80%\">\n\n**Fig. 10: Vivado IP Block Design.**\n\n4. You can use `<component.xml>` file inside the exported zip file to find out at which addresses register files in HLS IP corresponds to (or from synthesis report generated by vitis HLS IDE). As an example `<spirit:addressOffset>0x10</spirit:addressOffset>` determines that base address `0x10` gives access to first 4 bytes of weights.\n\n5. After generating bitsream `hw_FIR.bit` and `hw_FIR.hwh`, move them alongside the jupyter notebook code attached to this document `test_FIR.ipynb`. Now you can use following code as a basis for your notebook python project for evaluation.\n\n\n```python\nimport numpy as np\nimport pynq\nfrom pynq import Overlay, allocate\n\n# Load the overlay\noverlay = Overlay('./hw_FIR.bit')  # Ensure the name matches your block design\n\n# Instantiate DMA and the HLS IP blocks\ndma = overlay.axi_dma_0  # Replace with actual name if different\nfir_ip = overlay.FirFilter_0  # Replace with actual name of HLS IP block\n\n# Configure filter coefficients (assuming 11 coefficients as per your C++ code)\n# Example weights used in the C++ testbench\nweights = [1, 2, 3, 4, 5, 6, 5, 4, 3, 2, 1]\n\n# Write weights to the IP block's memory\n# Assumes AXI-Lite registers for `w` are mapped sequentially\n# The base address for `w` should be checked in Vitis HLS Synthesis Report\nweight_base_address = 0x10  # Replace with actual offset for `w` from HLS\nfor i, weight in enumerate(weights):\n    fir_ip.write(weight_base_address + i * 4, weight)  # Write each 32-bit (4-byte) integer\n\n# The amount of samples you are willing to send through FIR filter\ndata_size = 15\n\n# Allocate memory buffers for DMA transfer\n# Using `allocate` to get physically contiguous memory for the PL\nin_buffer = allocate(shape=(data_size,), dtype=np.int32)\nout_buffer = allocate(shape=(data_size,), dtype=np.int32)\n\n# Initialize input buffer with test data\ninput_data = [1, 2, 3, 4, 5, 6, 7, 8, 9, 10, 0, 0, 0, 0, 0]\nfor i in range(data_size):\n    in_buffer[i] = input_data[i]\n\n# Start the FIR filter by writing to the control register\n# Usually, bit 0 of offset 0x00 is the AP_START bit\nfir_ip.write(0x00, 0x01)  # Set AP_START\n\n# Perform DMA Transfers\n# 1. Send data from PS to PL (MM2S: Memory-Mapped to Stream)\ndma.sendchannel.transfer(in_buffer)\n\n# 2. Receive data from PL to PS (S2MM: Stream to Memory-Mapped)\ndma.recvchannel.transfer(out_buffer)\n\n# Wait for transfers to complete\ndma.sendchannel.wait()\ndma.recvchannel.wait()\n\n# Display results\nprint(\"Input Data:     \", in_buffer)\nprint(\"Output Data:    \", out_buffer)\n\n# Verification against expected results from C++ testbench\nexpected_output = [1, 4, 10, 20, 35, 56, 80, 104, 125, 140, 146, 140, 125, 104, 80]\nsuccess = True\nfor i in range(data_size):\n    if out_buffer[i] != expected_output[i]:\n        success = False\n        print(f\"Mismatch at index {i}: Expected {expected_output[i]}, Got {out_buffer[i]}\")\n\nif success:\n    print(\"SUCCESS: All hardware outputs match expected values.\")\nelse:\n    print(\"FAILED: Output mismatch detected.\")\n\n# Free buffers to avoid memory leaks\nin_buffer.close()\nout_buffer.close()\n\n```\n6. Report the result obtained on Pynq Z2 Evaluation board to tutor and include in your report.\n\n\n### Appendix:\nBelow are instructions on how to use array partition, unroll, and pipeline pragmas along with related C code snippets.\n\n### Array Partition Pragma\n\nThe `#pragma HLS ARRAY_PARTITION` pragma enables the breaking of arrays into smaller arrays or individual elements. This increases memory bandwidth and enables parallel access to array elements.\n\n#### Example: Array Partition\n\n```c\n#define N 16\n\nvoid array_partition_example(int in[N], int out[N]) {\n    // Partition the input array into 4 smaller arrays\n    #pragma HLS ARRAY_PARTITION variable=in block factor=4\n    // Partition the output array entirely into individual registers\n    #pragma HLS ARRAY_PARTITION variable=out complete\n\n    for (int i = 0; i < N; i++) {\n        // Multiply by 2\n        out[i] = in[i] * 2;\n    }\n}\n```\n\n### Unroll Pragma\n\nThe `#pragma HLS UNROLL` pragma expands a loop, effectively replacing it with multiple copies of its loop body. This increases parallelism by allowing multiple iterations to be executed concurrently.\n\n#### Example: Loop Unroll\n\n```c\n#define M 8\n\nvoid unroll_example(int in[M], int out[M]) {\n    for (int i = 0; i < M; i++) {\n        // Fully unroll the loop to execute all iterations in parallel\n        #pragma HLS UNROLL\n        out[i] = in[i] + 5;\n    }\n}\n```\n\n### Pipeline Pragma\n\nThe `#pragma HLS PIPELINE` pragma reduces the initiation interval for a function or loop by allowing concurrent execution of operations. Pipelining increases throughput.\n\n#### Example: Loop Pipelining\n\n```c\n#define K 10\n\nvoid pipeline_example(int in1[K], int in2[K], int out[K]) {\n    for (int i = 0; i < K; i++) {\n        // Pipeline the loop with an initiation interval of 1\n        #pragma HLS PIPELINE II=1\n        out[i] = in1[i] + in2[i];\n    }\n}\n```\n\n### Combined Example\n\nYou can combine these pragmas to optimize hardware generation further. Here's an example of a dot product using partition, unroll, and pipeline.\n\n#### Example: Dot Product with Combined Pragmas\n\n```c\n#define LEN 32\n\nint dot_product(int A[LEN], int B[LEN]) {\n    // Partition arrays completely into individual registers for maximum bandwidth\n    #pragma HLS ARRAY_PARTITION variable=A complete\n    #pragma HLS ARRAY_PARTITION variable=B complete\n\n    int acc = 0;\n    \n    for (int i = 0; i < LEN; i++) {\n        // Pipeline the loop to initiate a new multiply-accumulate every clock cycle\n        #pragma HLS PIPELINE II=1\n        // Optionally unroll if further parallelism is needed (redundant if pipelining perfectly)\n        // #pragma HLS UNROLL\n        acc += A[i] * B[i];\n    }\n    \n    return acc;\n}\n```\n# L4: Shift Registers and DSP blocks within High Level Synthesis \n\n\nThe following sections will guide you through this lab:\n* [First Part](#first-part-shifting-the-data)\n* [Second Part](#second-part-using-axi-stream-interface-for-fir)\n* [Third Part](#third-part-implementing-and-testing-using-pynq)\n\n## Overview \nThis lab exercise explores the design and implementation of Finite Impulse Response (FIR) filters using AMD Vitis HLS. You will learn to write the algorithm in C/C++, apply various hardware optimization pragmas—such as loop unrolling, pipelining, and array partitioning—and analyze their effects on resource utilization and throughput. Additionally, you will integrate the generated IP into a larger Vivado block design, utilizing AXI Streams for efficient data transfer, and test the resulting hardware on a PYNQ-Z2 board using Python. Through this hands-on process, you will gain practical experience in bridging high-level software models with optimized hardware implementations for real-time digital signal processing.\n\n\n## First part: Shifting the data\n\n\n### 1. FIR C/C++ Design\nWhen using Vivado HLS, the very first step in implementing a digital filter is writing C/C++ code. Before adding any optimization pragmas, we will observe how Vitis HLS synthesizes plain C/C++ code. \n\n**Mathematical background**\nA Finite Impulse Response (FIR) filter calculates its output as a weighted sum of the current and past input samples. The mathematical operation performed is a discrete convolution, defined by the following difference equation:\n\n$$ y[n] = \\sum_{k=0}^{N-1}w[k]x[n-k] $$\n\nWhere:\n- $y[n]$ is the output signal at discrete time $n$.\n- $x[n-k]$ are the current and past input samples (delayed by $k$ samples).\n- $w[k]$ are the filter coefficients (weights or taps).\n- $N$ is the filter order (number of coefficients).\n\n**Task**\nWrite a simple module and testbench code for an $N$-Tap FIR (For this lab $N=11$). The coefficients $w[k]$ are assumed to be constants over time. Synthesize the code using Vitis HLS. Examine the resulting RTL block diagram in HLS and the required resources for the implementation, specifically tracking the BRAM elements and Flip-Flops. Run the Simulation with Vitis HLS simulation IDE interface and compare the values against Expected values. In your report, please provide screenshots of the Vivado synthesis report and code implementations. Below is a base template you can use to structure your implementation.\n\n```c\n#ifndef FIR_H\n#define FIR_H\n\n#define N 11 // Number of taps\n\ntypedef int din_t;\ntypedef int coeff_t;\ntypedef int dout_t;\ntypedef int acc_t;\n\nvoid FirFilter(din_t din, coeff_t w[N], dout_t *dout);\n\n#endif // FIR_H\n```\n```c\n#include \"FirFilter.h\"\n\n// Define function with exact types as presented in header\nvoid FirFilter(din_t din, coeff_t w[N], dout_t *dout) {\n\t//TODO: Create shift register\n    //TODO: Implement the MAC algorithm here\n}\n```\n\n```c\n#include \"FirFilter.h\"\n#include <iostream>\n\nusing namespace std;\n\n// Testbench main function\nint main() {\n    // Array of FIR coefficients\n    coeff_t w[N] = {1, 2, 3, 4, 5, 6, 5, 4, 3, 2, 1};\n\n    // Input data array to stimulate the filter\n    din_t input_data[15] = {1, 2, 3, 4, 5, 6, 7, 8, 9, 10, 0, 0, 0, 0, 0};\n\n    // Array to hold the expected output (for checking)\n    dout_t expected_output[15];\n\tdout_t dout_val;\n\n    // Run the FIR filter software model (for expected output calculation)\n    for (int n = 0; n < 15; n++) {\n        acc_t acc = 0;\n        for (int k = 0; k < N; k++) {\n            if (n - k >= 0) {\n                acc += input_data[n - k] * w[k];\n            }\n        }\n        expected_output[n] = acc;\n    }\n\n    // Call the hardware FIR filter model\n    int pass = 1;\n    for (int n = 0; n < 15; n++) {\n    \tFirFilter(input_data[n], w, &dout_val);\n\n        // Print input, output, and expected value\n        cout << \"Input: \" << input_data[n] << \" \\t\";\n        cout << \"Output: \" << dout_val << \" \\t\";\n        cout << \"Expected: \" << expected_output[n] << endl;\n\n        // Check if output matches expected output\n        if (dout_val != expected_output[n]) {\n            pass = 0;\n            cout << \"Mismatch at index \" << n << endl;\n        }\n    }\n\n    // Final result message\n    if (pass) {\n        cout << \"SUCCESS: All outputs match expected values.\" << endl;\n    } else {\n        cout << \"FAILED: Outputs do not match expected values.\" << endl;\n    }\n\n    return (pass == 1) ? 0 : 1;\n}\n\n```\n<details>\n<summary> 💡 Solution. Please check it after you've tried. </summary>\n\n```c\nvoid FirFilter(din_t din, coeff_t w[N], dout_t *dout) {\n\tacc_t acc = 0;\n\tdin_t shift_reg[N];\n\tacc = 0;\n\tfor (int i = N - 1; i > 0; i--) {\n\t\tshift_reg[i] = shift_reg[i - 1];\n\t\tacc += shift_reg[i] * w[i];\n\t}\n\tshift_reg[0] = din;\n\tacc += shift_reg[0] * w[0];\n\t*dout = acc;\n}\n```\n</details>\n\nIf you check the schedule viewer you can identify the structure of algorithm implemented through synthesis process. \n\n![alt text](./fig/sch1.png)\n\n### 2. State memory variables (static keyword)\n\nAs you can notice the result from `Simulation` will not give the expected answer. \nYou can use debug environment within `vitis hls` by putting breakpoint at `FirFilter` top function, checking how the values are updated in `shift_reg`. You may understand that since `shift_reg` in defined inside function without passing as argument and it is not static, so during each execution process, the internal values of `shift_reg` will be cleaned up! \n\n1. Write the code again using `static` keyword for `shift_reg` internal array variable. \n2. Check again the result obtained from `simulation`. Can you tell us why expected answer and output answer matched after editing the code? \n3. Run the Synthesis. Are you expecting any changes on BRAM or Flip-flops requirements?\n4. Run Cosimulation. Make sure the option `wave debug` is `true`. By default `cosimulation` viewer pops up. Try to identify state transition and `ap_return` signal. You will notice that the `cosimulation` fails after synthesis! But we already passed `c-simulation` phase. How the difference exists over these simulations? \n\n\n<details>\n<summary> 💡 Solution. Please check it after you've tried. </summary>\n\n```c\nvoid FirFilter(din_t din, coeff_t w[N], dout_t *dout) {\n\tstatic acc_t acc = 0;\n\tstatic din_t shift_reg[N];\n\n\tacc = 0;\n\tfor (int i = N - 1; i > 0; i--) {\n\t\tshift_reg[i] = shift_reg[i - 1];\n\t\tacc += shift_reg[i] * w[i];\n\t}\n\n\tshift_reg[0] = din;\n\tacc += shift_reg[0] * w[0];\n\n\t*dout = acc;\n}\n```\n</details>\n\n\nLab2/Makefile\n *.o .Xil\n# Compiler\nCXX = g++\n\n# Compiler flags\nCXXFLAGS = -O3 -Wall -Wextra -std=c++11 -I. -I/tools/Xilinx/Vivado/2023.2/include\n\n# Executable name\nEXEC = tb_matrixmul\n\n# Source files\nSRCS = matrixmul.cpp matrixmul_test.cpp\n\n# Object files\nOBJS = $(SRCS:.cpp=.o)\n\n# Default target\nall: $(EXEC)\n\n# Link the executable\n$(EXEC): $(OBJS)\n\t$(CXX) $(CXXFLAGS) -o $@ $^\n\n# Compile source files into object files\n%.o: %.cpp\n\t$(CXX) $(CXXFLAGS) -c $< -o $@\n\n# Run the program\nrun: $(EXEC)\n\t./$(EXEC)\n\n# Clean up build files\nclean:\n\trm -rf $(EXEC)Project/Project.md\n# Machine Learning Edge Deployment Case Study\n\nThis document details case study aimed to guide you from high-level PyTorch design of neural networks to hardware/software deployment on edge devices like the Pynq-Z2. The process is fully integrated with Xilinx FINN and TVM, utilizing an ONNX intermediate representation for model acceleration on FPGAs.\n\n## Overview\n\nThe case study focuses on:\n- Designing a quantized neural network tailored for spatial data (MNIST dataset).\n- Exporting the trained model to ONNX format.\n- Compiling the model using Brevitas and FINN for FPGA deployment.\n- Generating the bitstream and deploying it on the Pynq-Z2 board.\n\nThe model is based on Multi-Layer Perceptron (MLP) components, known as Spatial MLPs, capable of handling variable data shapes suitable for edge deployment.\n\n---\n\n## 1. Introduction\n\nWith the rising demand for deploying deep learning models on edge devices with constrained resources, developing highly optimized, quantized neural networks has become critical. This project demonstrates how to build and deploy a lightweight **Spatial MLP** on the **Pynq-Z2 FPGA** board using **Brevitas** for Quantization-Aware Training (QAT) and **FINN/TVM** for hardware synthesis and deployment.\n\n### 1.1 Objectives\n\nThe primary objectives of this project are:\n1. **Model Development**: Design a quantized neural network using Brevitas, utilizing Spatial MLPs that avoid traditional Convolutional Neural Networks (CNNs).\n2. **Model Training**: Train the model on the MNIST dataset to achieve optimal accuracy.\n3. **Export & Compilation**: Export the trained model to ONNX and use the FINN compiler to generate a customized hardware accelerator.\n4. **Hardware Deployment**: Deploy the generated bitstream to the Pynq-Z2 FPGA and run inference using Python.\n5. **Performance Evaluation**: Assess the model’s accuracy, hardware resource utilization, and inference latency.\n\n---\n\n## 2. Tools and Frameworks\n\nTo complete this case study, we will utilize the following tools and frameworks:\n- **PyTorch**: For defining and training the neural network.\n- **Brevitas**: A PyTorch library for Quantization-Aware Training (QAT), essential for converting models into low-precision formats suitable for hardware.\n- **FINN**: An experimental framework from Xilinx Research that creates custom hardware architectures for quantized neural networks (QNNs).\n- **TVM**: An open deep learning compiler stack for CPUs, GPUs, and specialized accelerators (FPGAs).\n- **Vivado HLS**: High-Level Synthesis tool used by FINN to generate RTL from C/C++.\n- **Pynq-Z2**: The target hardware platform for the final deployment.\n\n---\n\n## 3. Project Workflow\n\nThe project is structured into several phases:\n1. **Network Architecture Design**: Designing the Spatial MLP.\n2. **Quantization-Aware Training**: Training the model using Brevitas.\n3. **Model Export**: Converting the model to ONNX format.\n4. **Compilation with FINN**: Transforming the ONNX model into hardware via FINN and TVM.\n5. **Deployment on Pynq-Z2**: Running the compiled model on the FPGA.\n\n---\n\n## 4. Phase 1: Network Architecture Design\n\n### 4.1 Spatial MLP Concept\n\nTraditional MLPs operate on 1D vectors, requiring flattening of 2D images. A **Spatial MLP** operates directly on 2D images, similar to CNNs but using localized multi-layer perceptron blocks. This approach captures local spatial features while reducing the computational complexity associated with standard convolutions.\n\n### 4.2 Model Specifications\n\n- **Input Size**: $28 \\times 28$ grayscale images (MNIST dataset).\n- **Quantization**: 4-bit weights and activations.\n- **Architecture**:\n  - Input quantization layer.\n  - Spatial MLP blocks containing linear layers tailored for local receptive fields.\n  - Non-linear activations (e.g., ReLU or QuantReLU).\n  - Fully connected layer for classification into 10 classes.\n\n### 4.3 Implementing the Spatial MLP\n\nHere is the implementation of the `SpatialMLP` class using Brevitas:\n\n```python\nimport torch\nimport torch.nn as nn\nimport brevitas.nn as qnn\nfrom brevitas.core.quant import QuantType\n\nclass SpatialMLPBlock(nn.Module):\n    def __init__(self, in_channels, out_channels, bit_width=4):\n        super(SpatialMLPBlock, self).__init__()\n        self.fc1 = qnn.QuantLinear(in_channels, out_channels, weight_bit_width=bit_width, bias=False)\n        self.act1 = qnn.QuantReLU(bit_width=bit_width)\n        self.fc2 = qnn.QuantLinear(out_channels, out_channels, weight_bit_width=bit_width, bias=False)\n        self.act2 = qnn.QuantReLU(bit_width=bit_width)\n        \n    def forward(self, x):\n        x = self.act1(self.fc1(x))\n        x = self.act2(self.fc2(x))\n        return x\n\nclass SpatialMLPNet(nn.Module):\n    def __init__(self, bit_width=4):\n        super(SpatialMLPNet, self).__init__()\n        # Flatten the 28x28 image to a 784-dimensional vector\n        self.flatten = nn.Flatten()\n        # Input quantization\n        self.quant_inp = qnn.QuantIdentity(bit_width=8, return_quant_tensor=True)\n        \n        # Define MLP blocks\n        self.block1 = SpatialMLPBlock(784, 128, bit_width)\n        self.block2 = SpatialMLPBlock(128, 64, bit_width)\n        \n        # Classification layer\n        self.classifier = qnn.QuantLinear(64, 10, weight_bit_width=bit_width, bias=True)\n\n    def forward(self, x):\n        x = self.flatten(x)\n        x = self.quant_inp(x)\n        x = self.block1(x)\n        x = self.block2(x)\n        x = self.classifier(x)\n        return x\n\n# Instantiate the model\nmodel = SpatialMLPNet(bit_width=4)\n```\n\n> **Note**: This model is a simple MLP where the spatial structure is flattened. For a true *Spatial* MLP, the linear layers would be applied across spatial patches, analogous to a pointwise convolution or patching mechanism in Vision Transformers.\n\n---\n\n## 5. Phase 2: Quantization-Aware Training (QAT)\n\nQuantization-Aware Training simulates lower precision during the training process, allowing the model to adapt and minimize accuracy loss due to quantization.\n\n### 5.1 Training Setup\n\nWe will use the standard PyTorch training loop on the MNIST dataset.\n\n```python\nimport torch.optim as optim\nfrom torchvision import datasets, transforms\nfrom torch.utils.data import DataLoader\n\n# Device configuration\ndevice = torch.device('cuda' if torch.cuda.is_available() else 'cpu')\nmodel.to(device)\n\n# Dataset and DataLoader\ntransform = transforms.Compose([\n    transforms.ToTensor(),\n    transforms.Normalize((0.1307,), (0.3081,))\n])\n\ntrain_dataset = datasets.MNIST(root='./data', train=True, download=True, transform=transform)\ntest_dataset = datasets.MNIST(root='./data', train=False, download=True, transform=transform)\n\ntrain_loader = DataLoader(train_dataset, batch_size=64, shuffle=True)\ntest_loader = DataLoader(test_dataset, batch_size=1000, shuffle=False)\n\n# Loss and optimizer\ncriterion = nn.CrossEntropyLoss()\noptimizer = optim.Adam(model.parameters(), lr=0.001)\n```\n\n### 5.2 Training Loop\n\n```python\ndef train(model, device, train_loader, optimizer, criterion, epochs=5):\n    model.train()\n    for epoch in range(epochs):\n        for batch_idx, (data, target) in enumerate(train_loader):\n            data, target = data.to(device), target.to(device)\n            \n            optimizer.zero_grad()\n            output = model(data)\n            loss = criterion(output, target)\n            loss.backward()\n            optimizer.step()\n            \n            if batch_idx % 100 == 0:\n                print(f'Train Epoch: {epoch} [{batch_idx * len(data)}/{len(train_loader.dataset)} '\n                      f'({100. * batch_idx / len(train_loader):.0f}%)]\\tLoss: {loss.item():.6f}')\n\ntrain(model, device, train_loader, optimizer, criterion, epochs=5)\n```\n\n### 5.3 Evaluation\n\n```python\ndef test(model, device, test_loader, criterion):\n    model.eval()\n    test_loss = 0\n    correct = 0\n    with torch.no_grad():\n        for data, target in test_loader:\n            data, target = data.to(device), target.to(device)\n            output = model(data)\n            test_loss += criterion("}
{"book": "adl0111", "page": 48, "text": "٤٥\n\nلویه جرکه سال ۱۳۰۹ | ۱۳۰۹ کالویه جرگہ\nکاملا با اساس و صحیح است | سر تا پا با اساس اور صحیح ہے\n\nچون ما از تر دید حصص مهم شایعات | اب ہم شاہ مخلوع کی باطلہ اشاعت کے\nباطلہ شاه مخلوع فارغ شدیم | اہم حصوں کی تردید سے فارغ ہو چکے ہیں۔\nکنون حسب وعده که راجع به عظمت | پیشتر ہم نے وعدہ کیا تھا کہ ثابت کرینگے\nو صحت و با اساس بودن اولین | کہ عصر نادری کا پہلا ”لویہ جرگہ“ منعقدہ ۱۳۰۹\nلویه جرکه ۱۳۰۹ عصر ناوری | بالکل باضابطہ، بااہمیت اور صحیح نمایندگی کی\nفوتو نمودیم، ذیلا عکس های | حیثیت رکھتا تھا۔ لہذا ہم ذیل میں پہلے تمام\nمنفرده و کلای هر ولایت و حکومتی | افغانستان کی ہر ولایت اور حکومتی اعلیٰ کے\nاعلیای افغانستان را اولا و عکس | ہر ایک وکیل کے فوٹو کی اور پھر ان سب\nهای مجموعی این مبعوثین ملی را متعاقبا | ملی مبعوثین کے اکٹھے فوٹو کی اور اس کے\nو منظره های لویه جرکه ۱۳۰۹ | علاوہ ۱۳۰۹ کے ”لویہ جرگہ“ کے فوٹووں کی\nرا که در ان عموم وزراء و مأمورین | کہ جن میں تمام وزیر اور مدیر کے درجے تک\nتا درجه مدیر و غیره ذوات معظم | سب مامورین شامل تھے زندگرانی چھاپتے ہیں\nشمولیت داشتند، جهة استحضار | تاکہ ان اشخاص کو جو امر واقعہ سے واقف نہیں"}
{"book": "adl0111", "page": 49, "text": "٤٦\n\nاشخاصیکه از حقایق اطلاع ندارند اور وہ جو جرگہ مذکور کے متعلق امان اللہ کے\nواین بهتان وافتراے امان الله بهتان وافتراء کیوجہ سے ذرا تردد میں پڑگئے ہیں\nنسبت به جرگهٔ مذکور ترددی داشته واقفیت حاصل ہو ، اور خاصکر پر ملی نمائندوں\nباشند ، زینگرانی میکنیم ، و پانچویں فقرے کے فیصلے کو کہ امان اللہ کے\nدر خاتمه عین مضبطهٔ فیصلهٔ فقره پنجم اعمال کی نسبت تمام افغانستان کے عمومی\nوکلای ملت را که مظهر احساسات احساسات کا ترجمان ہے اور تمام مبعوثین نے\nعمومی افغانستان بالنسبهٔ اعمال اسکی تصدیق اور تائید میں اپنی مہریں لگائی ہیں\nامان الله خان بوده با مضا ومواهیر اور اپنے دستخط کئے ہیں شایع کرتے ہیں۔ نیز ہم\nتمام مبعوثین تصدیق وتائید شده است آخری مجلس کی اس مہم تصویر کو کہ جس میں\nبا تصویر این مجلس اخیره که در ان بر ”لویہ جرگہ“ کے اعضا داور مستقل ممبروں کے ماسوا\nعلاوه اعضا و شرکای دائمی دول خارجہ کے ہم سیاسی اصحاب بھی شامل ہیں\nلویہ جرگه، هیئت معظمه سیاسیه چھاپتے ہیں جس سے مقصود یہ ہے کہ نہ صرف\nدول خارجه هم شامل اند ، نشر امان اللہ خان کے تجاہل عارفانہ یا مغالطے کا\nمیداریم تا نه تنها امان الله خان ازالہ ہو بلکہ دنیا کے دانشمند لوگ بھی ان صریح\nبلکه تمام دانشوران ببینند ویقین معلومات کی بنا پر علم الیقین حاصل کریں کہ یہ نمایندے\nکنند که این نمایندگان از نخبه رجال وطن عزیز کے مقتدر رجال اور برگزیدہ اشخاص تھے\nوطن وعمده ترین افراد ملت بصورت اور انکا انتخاب صحیح اصول پر ہوا تھا اور"}
{"book": "adl0111", "page": 50, "text": "٤٧\n\nصحیح انتخاب از تمام نقاط افغانستان\nوکالتاً در لویه جرگه شامل شده اند،\nو این فیصله را که درباره امان الله خان\nنموده اند ، کاملاً ترجمان جذبات ملیه و\nموافق با صول قوانین جهان متمدنه\nمیباشد.\nتمام افغانستان کے صوبوں نے انکو اپنا\nوکیل بنا کر ”لویه جرگه“ میں بھیجا تھا۔ اور\nامان اللہ کے بارے میں انکا فیصلہ\nدر اصل انکے ملی جذبات کا دلی اظہار ہے\nاور تمام متمدن دنیا کے قانون حصول کے\nعین موافق ہے ۔\n\nمحمد یوسف نوبت چیست : ١٥ روپیہ سالانہ\nعبدالقیوم حسن"}
{"book": "adl0111", "page": 51, "text": "٤٨\nوکلای منتخبۀ لویه جرگۀ ١٣٠٩ از ولایت کابل\nاز طرف راست بچپ\nصف اول نشسته : شهر یار خان، سید خان، محمد امیر خان، غلام قادر خان، محمد نعیم خان، محمد امین خان، حاجی محمد خان\n» » » : میرزا احمد خان، محمد صدیق خان، عبدالقدیم خان، جمعه خان، خال محمد خان، سید علیخان، علی محمد خان\n» دوم » : محمد افضل خان، محمد عمر خان، عبدالخالق خان، میر قادر خان، محمد صادق خان، محی الدین خان، محمد حسن خان\n» » » : شاه پسند خان، سید محمود خان، ارباب محمد علی خان، محمد حسین خان، محمد مسلم خان، محمد سرور خان، میر غلام حیدر خان\nصف ایستاده : حاجی نوشیر خان، خواجه فیض محمد آغا فیض الله خان، حبیب الله خان، محمد هاشم خان، عبدالرؤف خان\n» » : شهاب الدین خان، کمال الدین خان، محمد سرور خان، محمد شفیق خان\nکابل یوم شنبه ١١ سنبله ١٣٠٩\nولایت کابل کی وکلاء"}
{"book": "adl0111", "page": 52, "text": "٤٩\n\nوکلای منتخبه لویه جرگه ۱۳۰۹ از ولایت قندهار\n\nاز طرف راست به چپ\nصف نشسته : ۱ عبدالوهاب خان ، میرزا علی اکبر خان ، آدم خان ، محمد ایوب خان ، یار محمد خان ، قاضی عبداله خان\n۲ عبدالقیوم خان ، گل محمد خان ، سرور خان ، محمد اعظم خان ، محمد صدیق خان ، غلام دستگیر خان\n۳ حاجی محمد ایوب خان ، حاجی محمد امین خان ، عبداله خان ، جلال خان ، حاجی غلام دستگیر خان ، سید محمدجان\n۴ دین محمد خان ، حاجی محمد اکبر خان ، حاجی عبدالقیوم خان ، سید عمر خان ، شیردل خان ، میرزا محمد عمر خان\n۵ سید اکبر خان ، عبدالقیوم خان ، حاجی سید رضا خان ، محمد اکبر خان\nصف ایستاده : ۱ محمد شفیق خان ، محمد فاضل خان ، عبداله خان ، سردار عبدالحبیب خان\nکابل پرنطت ۱۶ سنبله ۱۳۰۹\n\nولایت قندهار کی وکلاء"}
{"book": "adl0111", "page": 53, "text": "٥٠\n\nوکلای منتخبه لویه جرگه ۱۳۰۹ از ولایت هرات\nاز طرف راست به چپ\nصف نشست : ملا عبد الوهاب خان . محمد معصوم خان . پیر محمد خان . حاجی فخر الدین خان . میر احمد خان . صالح محمد خان\n\" \" : جلال الدین خان . عبد الوهاب خان . محمد یوسف خان . محمد فضل خان . مولاداد خان . علی نظر خان\n\" \" : حاجی موسی خان . محمد کریم خان . محمد ایوب خان . مهر دل خان . سلطان محمد خان . محمد نادر خان\n\" \" : محمد ابراهیم خان . درویزه خان . میرزا محمد عمر خان . دین محمد خان . غلام نبی خان . محمد اعظم خان\nصف ایستاده : شیر محمد خان . محب الله خان . حاجی عبدالله خان . شیخ محی الدین خان . محمد حسین خان\nکابل م مطبعه ۲۶ سنبله ۱۳۰۹\n\nولایت هرات کی وکلاء"}
{"book": "adl0111", "page": 54, "text": "٥١\nوکلای منتخبه لویه جرگه ۱۳۰۹ - از ولایت مزار شریف\nاز طرف راست بچپ\nصف نشست : محمد ایوب خان ، طوری خان ، دوست علی خان ، خالی بای ، دادا غرب ، سید عبدالعزیز ، شرف شاه خان\n» » : سید شدید خان ، سید شیر خان ، شیر احمد خان ، حبیب الله خان ، عمر شاه خان ، محمد حسن خان ، طر از خان\nصف ایستاده : عبد الاحد خان ، عبد الوهاب خان ، ملا محمد کریم خان ، حاجی عبدالله خان ، روزی بای ، سید حلیم تور خان\n» » : ملا یس قل ، استاد قل ، محمد یعقوب خان ، محمد نعیم خان ، رحمت الله خان ، ملا عبد الرحمن خان ، تا کال خان\nکابل یوم پنجشنبه ۶ سنبله ۱۳۰۹\nولایت مزار شریف کی وکلاء"}
{"book": "adl0111", "page": 55, "text": "٥٢\n\nوکلای منتخب لویه جرگه ۱۳۰۹ از ولایت قطغن و بدخشان\n\nاز راست بچپ\nصف اول نشسته : خواجه محمد سلیمان. ملا عبد الرحیم خان. دارا محمد خان. دوست محمد خان. آقسقال فضل محمد خان. ملا محمدکبیر خان.\nحاجی احمد خان. سید خدا بخشخان. سید سلیمان. سید شیر محمد خان. محمد اکرم خان.\nصف دوم : میر محمد بیگ خان. خواجه شجاع خان. مخدوم امیر محمد خان. میرزا محمد اکبر خان. سلطان محمد خان. خالق داد خان.\nفضل احمد خان. شیر خان. صفر محمد خان. سید عبد القاسم. سید ابدالقاسم. محمد جان خان.\nصف ایستاده: میر حبیب الله خان. میرزا بشیر خان. فتح الله خان.\nکابل یوم پنجشنبه ۲۶ سنبله ۱۳۰۹\n\nولایت قطغن و بدخشان کی وکلاء"}
{"book": "adl0111", "page": 56, "text": "٥٣\n\nوکلاي منتخبة لويه جرگه ۱۳۰۹ از حکومتی اعلای مشرقی\n\nاز طرف راست بچپ\nصف اول نشسته : محمد سليم خان، ملك فقير خان، حسن خان، احمد خان، عظم خان، سيد زمان شاه خان، ميرزا محمد خان\n\" \" : سيد شرف خان، ملا عبدالغفور خان، ملا محمد گل خان، محمد ايشانخان، ملا شمس الدينخان، عبد الرب خان\nصف دوم : ملا محمد مظفر خان، ارسلا خان، محمد صديق خان، سيد غلام حيدر خان، سيد اكرم خان، گل محمد خان، ملك شير خان\n\" \" : ملك شهنواز خان، حبيب الرحمان، شير گل خان، ملك بهرام خان\nصف سوم : عبد الله خان، يار محمد خان، نور محمد خان، محمد حسين خان، عبد الغفور خان، محمد هارون خان، سلطان محمد خان\n\" \" : عبد الله خان، حاجی محمد سميع خان، محمد يحيی خان، عبدالله خان، عبد الغفار خان، حبيب الله خان، سعد الله خان\n\" \" : محمد يوسف خان، اكرم خان، مولوی محمد خان، قاضی ملك شاه خان، لا محمد خان، درويش خان\n\nکابل یوم پنجشنبه ۱۶ اسد ۱۳۰۹\n\nحکومتی اعلای سمت مشرقی کی وکیل"}
{"book": "adl0111", "page": 57, "text": "٥٤\n\nوکالی منتخبه لویه جرگه ١٣٠٩ از حکومتی اعلای سفت جنوبی\n\nاز طرف راست بچپ\nصف اول نشسته : مبین خان ، اور تا خان ، جلال الدین خان ، یعقوب خان ، سید شاه ، هاشم خان ، دین محمد خان ، میرزا ، سید محمد\nصف دوم نشسته : خان شیرین خان ، نظر محمد خان ، علیخان ، عبدالرحمن خان ، منگل خان ، محمد اشرف خان ، مدو خان ، زیاول خان ، عجب خان ،\nمحمد خان ، علیخان ، مکو شاه ، صاحب خان ، مبین خان ، علم خان\nصف سوم نشسته : بای محمد خان ، دین محمد خان ، غازی دین خان ، میر شاه خان ، ایوب خان ، بر محمد خان ، فتح ، عزیز خان ، محمد گل خان ،\nحسین شاه ، بلند خان\nصف چهارم ایستاده : امیر محمد خان ، نور محمد خان ، خان شیرین خان ، عبدالکریم خان ، امیر محمد خان ، صاحبان ، سلطان محمد خان ، صاحبان ، غازی خان ،\nغلام محمد خان ، سلطان خان ، علی محمد خان\nصف پنجم ایستاده : ماذ الله خان ، خوش دل ، حاجی محمد خان ، گل محمد خان\n\nکابل یوم پنجشنبه ١٦ سنبله ١٣٠٩\n\nحکومتی اعلای سمت جنوبی کی وکیل"}
{"book": "adl0111", "page": 58, "text": "٥٥\n\nوکلای منتخبه لویه‌جرگه ۱۳۰۹ از حکومتی اعلی فراه\n\nاز طرف راست بچپ\nصف اول که بر زمین نشسته‌اند : میرزا محمد هاشم خان، شہاب الدین خان، عبدالغفار خان، یار محمد خان، عبدالله و من خان، محمد علیم خان\n'' دوم '' '' : حاجی سید محمد خان، عمر سلم خان، محمد جان خان، غلام محمد خان، غلام محمد خان بلوچ، عبدالسمیع خان، یار محمد خان\nعکاس محمد شعیب ٢٦ سنبله ١٣٠٩\n\nحکومتی اعلای فراه کی وکیل"}
{"book": "adl0111", "page": 59, "text": "٥٦\n\nوکلای منتخبه لویه جرگه ۱۳۰۹ - از حکومتی اعلای میمنه\n\nاز طرف راست بچپ\nصف نشسته : محمد سعید سگ خان، حاجی کریم دادخان، خیر الله خان، محمد ولی خان، امام قلی خان، مرصاق خان\nامام قلی بای خان.\n\nصف ایستاده : ایشان قلخان، عبد الرحیم خان، گل جان مالدار غلمانی، امان بیگ خان، ملا قربان خان.\nکابل یوم پنجشنبه ۱ سنبله ۱۳۰۹\n\nحکومتی اعلای میمنه کی وکیل"}
{"book": "adl0111", "page": 60, "text": "۵۷\n\nمنظره عمومی وکلای منتخبه ولایت های کابل، قندهار، هرات، مزارشریف، قطغن و بدخشان\nو حکومتی های اعلای مشرقی، جنوبی، فراه، میمنه که لویه جرگه ۱۳۰۹ ازوشان تشکیل\nیافته و تقریب ضیافتیکه برایشان از طرف وزارت دربار داده شده عکس گرفته شده است\nدر وسط صف سوم وزیر و معین وزارت دربار و معین مالیه ناظم لویه جرگه و داکتر میباشند.\nپغمان یوم جمعه ۱۶ سنبله ۱۳۰۹\n\nافغانستان کی تمام صوبجات کی منتخب نمایندی"}
{"book": "adl0111", "page": 61, "text": "٥٨\n\nاعلیحضرت محمد نادر شاه غازی در سلامخانه قصر استور بمحضر وکلای ملت و کابینه حکومت و مامورین\nبزرگ افغانستان نطق افتتاحیه شان را در لویه جرگه ۱۳۰۹ قرائت میفرمایند.\n\nکابینه خانه قصر استور یوم چهارشنبه\n۱۸ سنبله ۱۳۰۹\n\nاعلیحضرت محمد نادر شاه غازی کی افتتاح تقریر کا منظر"}
{"book": "adl0111", "page": 62, "text": "٥٩\n\nفیصله عموم مقررات لویه جرگه ١٣٠٩ که تحت ریاست جناب عالیقدر جلالتمآب صدارعظم\nانعقاد یافته بود در مجلس وداعیه بحضور شاهانه از طرف عموم وکلای ملی که آنرا قبلاً فیصله و تصدیق\nکرده در محضر کابینه و مامورین بزرگ افغانستان و هیئت کُور دیپلوماتیک مقیمه دارالسلطنه کابل قرائت میشود\n\nسلامخانه قصر ستور یوم شنبه ١٧ سنبله ١٣٠٩\n\nهیئت کابینه اور مامورین اور سفراء کی موجودگی میں وکلای افغانستان اعلیحضرت غازی کی\nحضور میں اپنی تمام اتجاویز کا فیصله عرض کر رهی هیں"}
{"book": "adl0111", "page": 63, "text": "٦٠\n\n(جريده سراج الاخبار افغانيا) ۱\n\nبحضور مبارک اعليحضرت پادشاه معظم غازي !\n\nولا حضرت عظما حفظه تلگرام امان الله خان را که بعرض آنحضرت مخابره نموده و متوجه بخدمات\nمورد توجه مقام است بعضی ازیقایقکر قرائت فرمودند .\nمیدانند این قدر حقیر که امان الله خان از آنحضرت میباشند از آن به بعضی جایها حیثیت که بروز شادیافت\n( در روز شورش و ایجاب باغ مطيع و دیم ) ملک پتیار و مالک پل فلان نو مفتضح دسیسه میکردند\nالان در شرایق نیز که بسکر دایی همه جا در خدمت میباشند با در نظر داشتن اینکه مکاتیب افغانیه همه در افغانستان\nنابرده دوازده ایام شکرانه دوازده هزار فیل را بزندان گرمائی مسترد کیا نیکه از کابلست که دایت\nهمه روزه فی فیر را بیست جو شایع این طریق الله چه بود که بر اند و طاقتی ظرفیت داخله است .\n\nثانیاً بعرض الاه ابوالده آئین ، احوالخیر\nمجرای ریاست کوته فوايد ميرسند جوهر تاریخی را میبارد که در آخرت ملاحظه میشد پیوسته پادشاه باید اینقدر\nدرويشار اميده نیز اثمن و متداول است اسباب مهیا به و شایسته تا چند خانمان شخصی تا در حال ملازمت\nتشکر مینمایند تا با ناک خلافت اله و شبها در نور باری حضرت ، اجلاس عالی بدست اینحضرت\nمرافقت ایک دار مکاتیب الایام در هیچ دوست بوجود خود نادیده سلطنتش ایالتی و دورانی است\nهر که غیر از دو زبرین ولایت را اوردند - همچون در پیرا سواد مهران است بنا بر شایق خیب چه در نفحه\nالان در خاتم ، به نام نامون دیوانست، که اخری فریضه متوجه بدست سرانجام که باغ ابین را در مورد مجرا بیفایق\nدرجه پادشاه رکاب مبارک اعمله دیوانته عظمای افغان بائی سجات افغانستان نجات بخشهام امور\n...اعلی همه جائی دایته الان در طبع احکامترین کیفیت دانشمندانه اینی که بر مسند هدایت\nو این بار پادشاهی و حکومت است با شرف ... . ٤ افغان ۱٣٣۱"}
{"book": "adl0111", "page": 64, "text": "٦١\n۱ در قوامان اوضاع جائیکه فایریکو بود د باینکه منابع انی شیر و پر منفعت محسوب بود تا هم چلان اسباب بیمازان بسیار بود\nو امور ملکی متوقف و ازان زمان این سپس جمیع حالات کا بله نهایت درجه در تنزل و پستی است و منابع فایران بمخازن\nہوا اگر یکوایت است یکسر به پایت با حوالت یا نیست که در حیز افزوده\nو در سلک امثال شعبه امرازان وقت الی حال ملحوظه را در افکار بانی نافذ داشتم که شهریور اگر چند تا\nامید و قی بدل میرود پسراست با چاره تمایلات بندگان فراستی را سان سازد . چسان بخار و بے عمومی را بر\nان افتاد از کار برآرد و انجا رات سعادات حقیقی آن را بصورت اسباب ترقے اور د بتلا شد دل را در یافتن\nحرارت مات قدما تا بر عمارات قدیمہ کل را در حمیت آن مهارت قرض پر داز یکد انقلاب امور را مر معلوبات\nمبان نیروزی و ضیقه عظمت و قدرت با فراغ قوت ارادت کارا با ترک مسیع بدیهات و خذلان مکنونات\nنقل نموده تا از منابع بد و فوزو بنا در شاپوق اثار افق بخشا در درجه اوراق اوضاع روز کار نمایان سارن\nتمهید و پرده طیر پرستیع را از وجه سخن دشفار صورتیه از دید بر کیت ؟\nهموطنان ! باینچه گفتم و بوشتم واگر جه عرض حلال نوشته ام دیگر دریا معقول قابلہ فہمت و باستانی را با یجان و بیز با هدا\nروانه نظرت دانمندان وان زمان پیجان برده دارید : وانا من باشترت میوه روزی سان پر گینه دانی\nاحق پزشانید .\nبیت الانستین\nما و ان اندیش روز نانسته بر امارات برمان ما، یہ ہستی میدانم دانتیک شهرت بلو در سایه یان انار شمع بر روید\nنه پوشناه مال علم بین فقه پنداشت اباب بے نیاز تعه حقیقی حلو و تن نما داشته پیمان امتحان میخوانیم و اتخار یومیاں\nملی را مار مطلب منانییم آیا یه غزت و جدا تازه با ترین انام و در این صورت مخرا به سعر را مخو بر بدو رایجانی از بیست\nاز پرده ب در میان اشق نایاب هستیم با تیره احقه در انتبار یک بارش را به پس از خار میگزاریم"}
{"book": "adl0111", "page": 65, "text": "٦٢\nاین عهد نامه که مشتمل بر چهارده ماده یک ضمیمه میباشد نمره یکم و نمره دویم آن در پیش ما میباشد ـ که هر کدام آن\nماده ها قدر قیمت یکسانی است بنابر مراسلات با دوام در بین هر دو نفر در کشمکش در حقیقت\nمتحدات پوشیده نیست بنا بر آن ماده ها مندرجه در سوانح صلح نظر نموده این عهد نامه را در بین دو فرقه\nاز قیام مبرمضان مجادله آن به حال خویشان کارفرما در کارها نوشته در صنایع که در پایه \nمندرجه در حق صلح نامبرده داشته شده جان فدای او دایه با لایم بدیم ـ سروری و طاعت بدیم ـ و صادق \nهم می باشیم که درین مجلس که بعهده دولت باطن و به سلطنت متبوع تولیم و تبرا با ایشان میباشیم \nو در این عهد نامه مندرجه برضا و رغبت خود مان بدون جبر و اکراه به امضاء و مهر خود ها پیش میکنیم\nمقرر میشود حقی که تمامیه صلح و مرام که بر قرارات معاهده که در پیش ما میباشد به دوام در یک \nحقوق مان ما بآن اشارتا میگویم نوشته شد ١٠ ذی الحج ١٣٤٩ \n\nولایت مرور زلف\nوکیل اول سید غوث جان وکیل گل محمد خان وکیل اشرف خان وکیل محمد خان\nغلام حسن جان مهر دار شمس الدین مهر دار سر بلند خان مهر دار عبد الکریم خان مهر دار\nنواب محمد خان مهر دار عبد الرزاق خان \nصاحب الدین مهر دار عبد الواحد خان مهر دار"}
{"book": "adl0111", "page": 66, "text": "٦٣\n \n[column 1]\nعثمان خان\nمحمد شاه آفریدی\nنواب خان\n \nعبد الصمد خان\n \nغازی بای خان\n \nعبد العظیم خان\n \nمحمد عظیم خان\n \n[column 2]\nاُدِن خان\n \nلشکر محمد خان\n \nبار محمد قریشی\n \nعبد الرحمن خان\n \nمحمد یعقوب خان\n \nمحمد ظہور خان\n \n[column 3]\nپاینده خان\n \nسید امیر خان\n \nدشوارم خان\n \nروزی بای خان\n \nعبد الرحمن فقیری\n \n[column 4]\nحرز الله خان\n \nمحمد کمال الدین خان\n \nحبیب الله خان\n \nسفر علی خان\n \nطره باز اپریل خانی\n \nنوره خان"}
{"book": "adl0111", "page": 67, "text": "٦٤\nعشه وسکون ولایت قندهار\n[ILL] محمد اکبر خان قوم توخى عبد الوهاب خان قوم الكوزى محمد عمر خان قوم ترخى حاجی نعیم قوم کاکر\nوطندار پر آقا يكپسر ريمه در متوطن شاجهوى صحه حاجی غلام حیدر\n[ILL] فخر الدین خان قوم بارکزایی عبد الله خان مرکز توخی محمد نعیم خان قوم هوتک صفدر خان ناقل هوتک\nحمله محمدالدین بارکزائی صحه محمد نعیم\nفخر الدین خان امیرش توخی محمد خان قوم شنزواد محمد انور خان بارکزایی محمد فاضل خان اچکزی\nبمهر محمد انور خان بارکزای محمد فاضل وكيل صحه\nمحمد عثمان خان قوم محمد خان بارکزایی در دانه خان مجيرزاد احمد خان مرگز\nناقل در پنجوائی بمهر بابت کرم محمد عثمان مرکز وكيل در پشه\n[ILL] عثمان با بوهر جان میر محمد مهیم خان غلجی سید عمر خان زاده ترقندوز\nبمهر عبد القيوم [ILL] وکیل عبد القيوم قندهار\nوکیل ولایت قندهار\nسید امین مرکز الکوزی حکام محمد اکبر خان الکوزایی حاکم ابو لا لا بمهر سید احمد گل محمد خان نورزائی\nعمه سید احمد قندهار الکوزی [ILL]"}
{"book": "adl0111", "page": 68, "text": "٦٥\nعهد سید محمد هاشم ملاي\nمعلومه سنگره ان پرکانه\nوقتیله یوسف زائی حویلی\nملا محمد هاشم\nمار محمد منان خان\nبمقام چوب خانه در کوچه نام\nمحمد اعظم\nقاضی طهر محمد خان\nمحمد اعظم\nوقیر عالم پسر عبد الصمد خان پرکانه\nحویلی شخصی\nطهر محمد خان وقر محمد هاشم\nنیکه کلنته بکار چوب\nحاجی رستم خان و کر خرم خان\nبمقام\nطهر محمد خان وقر محمد روان قطعه\nعبدالواحد خان وقر محمد حسن\nو عبدالودود\nحویلی شخصی\nطهر محمد خان پسر محمد یوسف\nعبد الصمد خان قطعه\nعبد الخالق وقر محمد شفیع\nدرین ولا یت قندهار بمقام صالح\nعبد الرحمان وقر محمد شفیع باقران حویلی شخصی\nدستخط و قرار\nنور محمد خان برا در طهر محمد خان\nصاحب صالح\nوقر محمد یونس\nصراف\nحاجی اسد محمد خان\nاینجا جای ندارد در کوچه حسن\nشیر علی افغان و محمد امان خان محمد عمر\nشیر علی با برادر فهم و خیل درینولا\nدر قندهار\nعبد القدوس\nعبد القدوس محب\nباقر محمد خان بار محمد خان حویلی جرب مقیا تور\nقیوم خان بن شیر محمد محمد خان و پسر محمد نادر\nحفظه محمد اکبر\nطهر محمد خان و قر محمد علی باقر محمد خان پرکانه\nحویلی شخصی در حدم صالح\nصاحب کار\nنور محمد خان [ILL]\nنور محمد خان با در [ILL]\nطهر محمد [ILL] [ILL] [ILL]"}
{"book": "adl0111", "page": 69, "text": "٦٦\n\n[ILL]\n\nولی محمد خان محمد معظم خان دستر خوانچی عبد الحق خان پیسر مرکز نوروز علی خان\n\nمددگار قاضی عسکر [ILL]\n\nمیر عطا محمد محمد فیض خان صالح محمد خان سررشته دار میر داد خان پرچه‌نویس\n\nسرکار محرر دفتر حضور حضور دارالانشا [ILL] [ILL]\n\nمولاداد کرنیل ناصر علی خان میر زمان خان پوپلزی نورالله خان فراهی امین اللہ خان پشه‌ئی\n\nشجاع‌الملک [ILL] [ILL] [ILL]\n\nغلام نبی خان میرجان شفر برگیڈیر محمد یوسف خان یعقوب‌زائی عبدی کوتوال\n\nرئیس گدام [ILL] [ILL] [ILL]\n\nنذر محمد خان دفتر نوازشدار محمد رسول خان میرزا الاخوان حبیب الله خان قاضی عسکر اسد الله خان کاتب\n\nوقت شعبه احکام حضور دارالانشا [ILL] در دفتر ولایات\n\nمحمد عمر خان امیرزاده خان عبدالقادر خان صید گير عبد الرحمن خان سرکرده میر فضل احمد خان\n\n[ILL] [ILL] سررشته دار دیوان [ILL] [ILL]\n\n[ILL] غلام محمد خان [ILL] نصرالدین خان غند مشاور محمد حسین خان\n\n[ILL] پیشخدمت حضور قاضی عسکر کوتوالی [ILL]\n\nداروغه کریم بخش پرچه‌نوس فضل احمد آخندزاده عبدالرحیم خان پیشخدمت حضور امیر محمد خان\n\n[ILL] [ILL] [ILL] [ILL]\n\n[ILL] عبدالغفور خان محرر [ILL] [ILL]\n\n[ILL] [ILL] [ILL] غلام الدین یعقوب‌زائی"}
{"book": "adl0111", "page": 70, "text": "[BLANK PAGE]"}
{"book": "adl0111", "page": 71, "text": "٦٨\n\n[ILL]\n\nمحمد عمر خان [ILL]\nچند پو[ILL] افغان کرد\nکدیمد توقمان چیپ کته\nعبدالخالق درین جا گذارد\n\nمحمد سید موسی خان بشیر خیل مقراخان سر پر اعضاب\n[ILL] محمد\n\nسردار محمد شریف\n[ILL] از [ILL]\n\nسردار محمد رفیق\n\n[ILL]\n\nسردار محمد هان\n\nمیر زمان الدین خان\n\n[ILL]\n\n[ILL]\n\n[ILL] در قندهار\n\nحاجی محمد اعظم خان دایی صلح\n\nسردار محمد عمر خان در قندهار حضور سردار محمد غوث خان\n\nملا عبد القدوس\nو در کابل معلم وکیل است\n\nمعلم عبد الرؤف خان\n\nوکیل محمد عمر خان در گردیز\n\nعثمان خان محمد زایی در قندهار\n\nسردار محمد زکریا خان\nمدرس دار العلوم کابل در گردیز [ILL] قندهار\n\nحاجی محمد علی در شور بازار\n\nسردار فضل محمد خان سرپرست\n[ILL]\n\nسردار [ILL]\n[ILL]\n\nمیر عطا محمد خان [ILL]\n\n[ILL]\n\n[ILL]"}
{"book": "adl0111", "page": 72, "text": "[BLANK PAGE]"}
{"book": "adl0111", "page": 73, "text": "۷۰\n۱۱  روز قیمت قندھاری\n۱ کشور\n۲  دروانی   در محمد زائی  پوپلزائی  مشران و غیرہ بومی  دہقان  سیّد   پیر  ناظران و غیرہ  سوادل  قاضی\nدر قطعات ملحقه   صلح    چکڑے  پتوار   چپڑاسی و غیرہ و غیرہ\n۲  شہرک\nدر جمیع قبائل و غیره فوق  در دکان   [ILL]\nعسکر\nا در رسایل   نوکر     سایس    طبیب   عورتیں\nعورتیں   دایه    پیرزن\nچاپلوس   بھڑوا   خراب عورت\nمذہبیون     [ILL]   غیبت گو     شراب خوار    سود خوار\nعقاید  و  رواج\nبیماری   و  مرض   جادو   تعویذ  دوا    پردہ    [ILL]\nلباس   و   خوراک     مکان   مسجد     [ILL]\nتجارت داخلی  از شهر برای قبایل و خارج [ILL] و بلخ و هند\nرسوم  و  عادات  خوشی  و  غم"}
{"book": "adl0111", "page": 74, "text": "[BLANK PAGE]"}
{"book": "adl0111", "page": 75, "text": "۷۲\n\n[ILL]"}
{"book": "adl0111", "page": 76, "text": "[BLANK PAGE]"}
{"book": "adl0111", "page": 77, "text": "٧٤\n\nترجمۀ ۱۳۰۹ کے «لویه جرگه» کے\nاردوی فیصلۀ گرامی وکیلوں کے\nفوق الذکر مذکورہ بالا فیصلے کا\nاردو ترجمہ -"}
{"book": "adl0111", "page": 78, "text": "۷۵\n\n(امان اللہ کی خواہش کے متعلق لويہ جرگہ کے فقره (۵) کی صوابدید)\nبحضور مبارک اعلیحضرت پادشاه معظم غازی!\n\nوالاحضرت صدر اعظم صاحب نے امان اللہ خان کا تار جو اس نے ذات شاہانہ کی\nخدمت میں بھیجا ہے اور اسکا وہ خط جو اس نے والاحضرت وزیر مختار لندن کو لکھا تھا\n”لویہ جرگہ“ کی مجلس میں پڑھا --\nآپ کے ملوکانہ حضور سے امان اللہ خان کا یہ مطالبہ بھی ان بڑی بڑی بے انصافیوں\nاور ظلموں میں سے ہے جس سے کہ وہ ہماری ستم رسیدہ ملت کے ان زخموں پر نمک\nچھڑک رہا ہے جو خود شاہ مخلوع کی بدرفتاریوں اور بد کرداریوں کی وجہ سے ہمیں پہنچے ہیں ۔ان\nاس خواہش سے وہ متمدن دنیا کی نظروں میں بھی اپنے آپ کو گرا رہا ہے۔ پیشتر\nاسکے کہ امان اللہ خان حکومت سے یہ بیجا مطالبہ کرتا اسکو سوچنا چاہئیے تھا کہ اسکی\nتمام تنہا و ذاتی جائداد جو افغانستان میں عین المال کے نام سے مشہور اور موجود تھی\nکس راس المال سے بنی تھی اور وہ کونسی آمدنی تھی جس سے اسکا سرمایہ ہر روز بڑھتا\nجا رہا تھا؟ کیا اسکی روز افزونی تجارت کے وسیلے سے تھی یا زراعت کے\nذریعے سے ؟ کیا وہ سرمایہ کارخانوں کی آمدنی سے بھر پور ہو رہا تھا یا صنعت وحرفت\nکے واسطے سے ؟ آخر اس عین المال کے سرچشمے کونسے تھے کہ افغانستان میں\nتخت وحکومت کے ملنے کے بعد عین المال کی ثروت وحیثیت اول درجے پرپہنچ گئی؟\nظاہر ہے کہ حکومت کے خزانے میں سے تمام گرانبہا جواہرات اور وہ سُرمئیں قیمتی مال"}
{"book": "adl0111", "page": 79, "text": "٧٦\n\nو اسباب بادشاہ کے تصرف اور قبضے میں تھا ، اور جیسے کہ آجکل بھی دنیا میں\nرسم و رواج ہے خاندان شاہی کا اثاث البیت اور زیب و زینت کا اسباب\nانکے برسر حکومت ہونے کی وجہ سے انکے تصرف میں ہُوا کرتا تھا۔ لیکن\nاس سب مال موہوبہ کی حقیقی مالک ملت تھی ، لہٰذا مذکورہ اشیاء\nحکومت کا مال ہے اور ہماری اصطلاح میں مسلمانوں کے بیت المال کا مال ہے۔\nاس لحاظ سے کہ اسکی بابت افغانستان میں کوئی صحیح اصول اور درست مانع قانون\nموجود نہ تھا۔ گذشتہ شاہی خاندان اس تمام مال و متاع کو اپنی ذاتی ملکیت جانکر\nاپنے عین المال میں شمار و داخل کرلیتا۔ اعلحضرت امیر شہید نے اس نکتے\nاور دقیق مسئلے کو کامل طور پر سمجھ لیا تھا چنانچہ خود امان اللہ خان اور افغانستان کے\nسب کار داروں کو جن میں سے اکثر زندہ ہیں معلوم ہے کہ اعلحضرت شہید نے\nان تمام بیش قیمت اشیاء اور گرانبہا جواہرات کو دفتر کے حساب کتاب میں\nداخل کر دیا تھا اور ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ یہ مال ہمن حکومت افغانستان کا مال ہے\nاور صرف چند روز کیلئے شاہی حرم کو عاریتاً دیا گیا ہے ، اب جبکہ خود امان اللہ خان\nاس کیفیت اور حقیقت سے واقف ہے اسکو کس طرح حوصلہ ہو ا کہ ایسی لایعنی\nدرخواست افغانستان کے بادشاہ اور حکومت کی خدمت میں پیش کرے ۔\nپھر امان اللہ خان نے جہاں کہیں اسکو کارخانہ نظر آیا اور جہاں کہیں اس نے\nحکومت کے سود مند ذرائع اور پُر منفعت وسائل دیکھے انکو عین المال کا نام دیکر"}
{"book": "adl0111", "page": 80, "text": "۷۷\n\nاپنی ذاتی ملکیت میں شامل کر لیا۔ اگر امان اللہ خان اس قسم کا عین المال مانگتا ہے\nتو ثابت ہوا اور ہم کہے بغیر نہیں رہسکتے کہ اسلامی بیت المال کا سب سے پہلا خائن\nخود امان اللہ تھا، اور اگر دوسروں سے بھی خیانت سرزد ہوئی تو یہ اسکی خیانت\nاور بد دیانتی کی پیروی کا نتیجہ تھا ۔\nجن دنوں امان اللہ خان نے یورپ کی سیاحت و سفر کا ارادہ کیا\nکابل میں سونا مفقود ہو چکا تھا۔ وزارت مالیہ رات دن ہنڈیوں اور سونے کی\nخریداری میں لگی رہتی تھی یہ اسکی ان تھک کوششوں کا نتیجہ تھا کہ روپے کی\nایک بہت بڑی مقدار باہر بھیجدی گئی تاکہ امان اللہ خان افغانستان کے واسطے\nترقی کا سامان خریدے، لیکن امان اللہ خان نے بجاے اسکے کہ حکومت کے روپے کو\nصحیح طور پر صرف کرے یعنی وہ سامان خریدے جس سے ملک کو ترقی کرنے میں مدد ملے\nاس نے بنکوں میں جمع کر دیا۔ اور جو تھوڑے بہت کارخانے بھی خریدے\nانکی قیمت ادا نہ کی اور خواہ مخواہ ادھار لئے اور ہماری عاجز ملت کو قرض میں پھنسا دیا۔\nامان اللہ خان جسوقت ملک و حکومت اور ہماری ملت کے ناموس کو سقول کے\nہاتھ میں چھوڑ بھاگ گیا۔ حکومت افغانستان کے سب جواہرات اور اندوختہ\nخزانے کو اپنے ساتھ لیگیا چنانچہ امان اللہ کی اس افرا تفری کے موقع پر دنیا کے\nاخبارات نے ان واقعات کو الم نشرح کر دیا۔ اب جو رومہ میں امان اللہ خان کی\nبڑی بڑی عالیشان اور متعدد عمارتیں کھڑی ہیں اور اسکا بہت زیادہ پیسہ جمع ہے\n\nمحمد یعقوب حسن"}
{"book": "adl0111", "page": 81, "text": "۷۸\n\nاور وہ کمپنیوں میں حصے خریدتا ہے اور فائدہ اٹھاتا ہے کس کے زر و مال کی برکت اور خیرات ہے ؟\n\nشاہا ! آپ سے ہماری التماس ہے اور آپ کے حضور میں عرض کرتے ہیں اسلئے کہ آپ تمام ملت افغانستان کے وکیل اور اسکے حقوق کے محافظ ہیں ۔ ہماری درخواست یہ ہے کہ امان اللہ خان سے جو کچھ وہ حکومت افغانستان کے خزانے اور دفینے سے اپنے ساتھ باہر لے گیا ہے اور آج ہمارے پیسے سے عیش و عشرت کی زندگی گزار رہا ہے مطالبہ اور وصول کر کے ہماری حق رسی کریں۔ ہم کسی صورت بھی امان اللہ خان کو افغانستان کی سر زمین میں کسی زمین یا مکان یا جائداد کا مالک نہیں جانتے ۔ ہم مسلمانوں کے بیت المال کو جسکو امان اللہ خان نے عین المال کے نام پر جمع کر رکھا تھا اور جسکو آپ نے اپنے جلوس کے روز اول سے ہی بیت المال میں ضم کر دیا ہے اپنا اور ملت کا قومی حق\n\nامان اللہ خان کو خطاب کرتے ہیں :۔\n\" آپ تو ہم سے عین المال کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن ہم وہ خزانہ، میگزین اور اپنی حکومت کی ہستی و جائداد جس میں سے بہت بڑی مقدار آپ اپنے ساتھ لےگئے ہیں اور باقیماندہ کو ڈاکوؤں اور چوروں کے کندہ ناتراش طبقے کے حوالے فرماگئے کس شخص سے مانگیں ؟ ہم نے آپکو بادشاہی کے مقدس عہدے کے لئے چنا تھا تو کیا اس اعتماد و اعتبار کا یہی معاوضہ تھا کہ حکومت کو رہزنوں اور قزاقوں کی\n\nمحمد یعقوب حسن"}
{"book": "adl0111", "page": 82, "text": "۷۹\nجماعت کے سپرد کر کے انکے رحم پر چھوڑ جائیں اور عزیز وطن کو خونریزی اور قتل وغارت کے\nعالم میں گرفتار کر جائیں؟ کیا آپ کی زندگی اور آپکے اہل وعیال کی زندگی زیادہ قدر و قیمت\nرکھتی تھی یا انسانیت ایک جامعہ اور ملت کی زندگی کو ترجیح اور فوقیت دیتی ہے؟\nلیکن آپ اپنی چند روزہ حیات کی امان وسلامتی کی خاطر ملت کی حیات کو خطرے میں\nڈال گئے ، اگر آپ واقعی حق شناس ہیں تو آپ اپنے اُن حسیات اور جذبات کو\nیاد میں لا دیں جنکی تاثیر سے آپ منبروں پر لمبے چوڑے خطبوں کے دوران میں اور اپنی صوادھا\nتقریروں میں اپنے خون کو، اپنی اولاد کے خون کو ہماری ترقی و اقبال کی راہ میں زبانی\nجمع خرچ سے گرایا کرتے تھے، پس مہربانی کر کے ہماری حکومت کی درماندگی و پریشانی حالی پر رحم کھا ئیں\nاور آپ جانتے ہیں کہ محض آپکی خود رائی اور خلاف شریعت آرزووں کی طفیل سے ہمیں یہ روز بد\nدیکھنا پڑا ہے، اور آپ افغانستان کے زر وجواہر اپنے ساتھ لیگیے ہیں جسکی وجہ سے آج ہمارے\nسکے کا نرخ حد سے زیادہ تنزل کر گیا ہے ۔ بڑا ہی لطف وکرم ہوگا اگر آپ ہماری ملت کے\nپیسے سے اس قرض کو ادا کریں جو آپ نے ہمارے لئے لیا تھا ، اور جو باقی بچے ہماری متبوع\nحکومت کو لوٹا دیں ، اس طریقے سے یہ ثابت ہو جائیگا کہ آپ کے بیانات میں کچھ نہ کچھ حقیقت\nتو تھی، اور ہمیں یہ فائدہ ہو گا کہ اپنی آئندہ حیات کے سنبھالنے اور استوار کرنے کیلئے ہمارے پاس\nثروت موجود ہو جائیگی ۔\nچونکہ ہماری ملت مفلس اور ناتواں ہو گئی ہے ہم اپنا حق چھوڑ نہیں سکتے، ہم مجبور ہیں اور ناگزیر\nحکومت کے حضور میں پیش کرینگے کہ جس ذریعے اور وسیلے سے بھی ممکن ہو ہمارا حق امان اللہ خان سے وصول کرے ۔"}
{"book": "adl0111", "page": 83, "text": "۸۰\n\nاعلیحضرت معظم غازی بعد از منظوری فیصله‌های وکلای ملت نطق وداعیه‌شان را\nقرائت میفرمایند بجانب راست تخت عموم سفرا و نمایندگان دول خارجه و بجانب چپ تخت\nصدراعظم و هیئت کابینه و مامورین بزرگ مرکزی بالمقابل عموم وکلای منتخبه لویه جرگه ۱۳۰۹ نشسته\nارشادات همایونی را میشنوند.\n[ILL] ۲۷ سنبله ۱۳۰۹\n\nاعلیحضرت غازی کی الوداعی تقریر کا منظره جو وکیلوں اور مامورین اور سفیروں کی سامنی فرما رهی هیں"}
{"book": "adl0111", "page": 84, "text": "۸۱\n\nفهرست وکلای محترم افغانستان در لویه جرگۀ ۱۳۰۹\nلویه جرگه ۱۳۰۹ کے تمام افغانستان کے محترم وکلا کی فہرست\n\nبا اینکه تصاویر وکلای لویه جرگه بقید تمام ولایات و حکومات اعلای افغانستان قبلاً نشر شده ولی بلحاظ اینکه ناظرین محترم خوبتر از اسمای سامی و هویت و مسکن آنها مطلع و مقاماتی را که اوشان از طرف موکلین خود (که عامه اهالی همان منطقه است) اصولاً وکیل منتخب شده اند خوبتر بشناسند جداول آتی الذکر را مطالعه فرمایند:-\nباوجودیکه لویه جرگہ کے وکیلوں کی تصویریں تمام افغانستان کی مختلف ولایتوں اور اعلیٰ حکومتوں کے ناموں کے ساتھ پیشتر شائع ہوچکی ہیں، لیکن اس غرض سے کہ قارئین کرام اُن کے گرامی ناموں، شخصیت اور رہائش سے بہتر واقف ہو جائیں اور یہ کہ جن صوبوں میں سے انکے موکلین نے (اسی صوبے کے عوام) انکو اصولاً اپنا وکیل منتخب کیا ہے انکو اچھی طرح ذہن نشین کرلیں۔ ذیل میں ایک فہرست شائع کرتے ہیں۔\n\nاسمای وکلای محترم لویه جرگهٔ ۱۳۰۹ از ولایت کابل:\n\n| نمبر عمومی | نمبر خصوصی | اسماء | ولدیت | مسکن | منطقه انتخابیه |\n|---|---|---|---|---|---|\n| ۱ | ۱ | حاجی شہنواز خان | احمد جان خان | بابای خودی علیہ الرحمه | وکیل اہالی شہر کابل |\n| ۲ | ۲ | غلام نقشبند خان | محمد اسمعیل خان | دروازهٔ لاہوری | \" \" \" \" |\n| ۳ | ۳ | میر آقا خان | میر محمد حسین خان | قلعه ہزارہ ہای چنداول | \" \" \" \" |\n| ۴ | ۴ | میجر غلام قادر خان | محمود آخند زاده | زبیداغ میدان | مرکز حکومتی میدان |"}
{"book": "adl0111", "page": 85, "text": "۸۲\nبقیهٔ اسمای وکلای محترم لویه جرگهٔ ۱۳۰۹ از ولایت کابل\n\nنمبر عمومی | نمبر شخصی | اسماء | ولدیت | سکونت | طبقهٔ اهالیه\n۵ | ۵ | شیر علیخان | عبدالوهاب خان | چهار آسیاب | وکیل اهالی چهار آسیاب\n۶ | ۶ | ملک سمندر خان | ملک ظفر خان | جلیریز میدان | \" علاقهٔ دایمرداد\n۷ | ۷ | حاجی محمد خان | نورمحمد خان | ده دانا | \" محلهٔ اول و دوم چها [ILL]\n۸ | ۸ | حاجی محمد شریف خان | عبدالحمید خان | بکتوت | قریه بکتوت افغانیه حکومتی پغمان و بکتوت\n۹ | ۹ | محمد عمر خان | محمد حفیظ خان | کمری | وکیل اهالی حصهٔ اول بگرامی\n۱۰ | ۱۰ | میرعبدالقادر خان | میر احمد خان | بخت یاران | \" \" \" ۲\n۱۱ | ۱۱ | محمد سرور خان | غلام حیدر خان | دایمیر داد وردک | \" علاقه دایمیر داد وردک\n۱۲ | ۱۲ | جمعه خان | ملک عبدالعزیز خان | خوات | \" \" وردک\n۱۳ | ۱۳ | میرزا عبدالخالق خان | ملا خواجه محمد خان | عربان وردک | \" \" \"\n۱۴ | ۱۴ | خواجه فیض الله خان | حاجی خواجه بابا خان | کلنگار | قریه جات حکومتی لوگر\n۱۵ | ۱۵ | محمد اسلم خان | فیض محمد خان | چرخ لوگر | \" چرخ و خروار و شأنزاه شعله حکومتی لوگر\n۱۶ | ۱۶ | عبدالغفار خان | رستم خان | محمد آغه | وکیل اهالی علاقه داری محمد آغه\n۱۷ | ۱۷ | خال محمد خان | دولت محمد خان | بامیان | \" مرکز حکومتی بامیان\n۱۸ | ۱۸ | محمد رحیم خان | حضرت قلی خان | قریهٔ شق | \" \" \" کهمرد\n۱۹ | ۱۹ | شهر یاربیک | دولت بیک | سیغان | \" سیغان"}
{"book": "adl0111", "page": 86, "text": "۸۳\n\nبقية اسمای وکلاے محترم لویه جرگۀ ۱۳۰۹ از ولایت کابل:\n\nنمره عمومی | نمره شخصی | اســـماء | ولـــدیت | سکونت | منطقۀ انتخابیه\n۲۰ | ۲۰ | محمد نعیم خان | شجابت خان | پنجشیر | وکیل اهالی پنجشیر\n۲۱ | ۲۱ | محمد افضل خان | تیمورشاه خان | جبل السراج | \" حکومتی جبل السراج\n۲۲ | ۲۲ | سمندر خان | میراحمد خان | قلعۀ حاجی | \" کلکان وفرزه دسترپیچ و غیره\n۲۳ | ۲۳ | کمال الدینخان | رحمت الله خان | چهاریکار | وکیل اهالی مرکز حکومتی کلان شمالی\n۲۴ | ۲۴ | میرزا محمد اسلم خان | محمد ناصر خان | شکر دره | \" علاقه‌داری شکردره\n۲۵ | ۲۵ | میرغلام حیدر خان | غلام بهاؤالدین خان | استالف | \" \" استالف\n۲۶ | ۲۶ | محمد صدیق خان | محمد یعقوب خان | خاوج دره | \" \" مربوطه بگرام\n۲۷ | ۲۷ | حافظ عبدالمجید خان | عبدالصمد خان | درۀ کلان | \" حکومتی نجراب\n۲۸ | ۲۸ | عبدالحبیب خان | محمد گل خان | تگاب | علاقه‌داری نغلو و برفی متعلقه حکومتی تگاب\n۲۹ | ۲۹ | میرزا احمد خان | عزت خان | خنج پنجشیر | وکیل اهالی علاقه‌داری سفید شهر پنجشیر\n۳۰ | ۳۰ | محمد سرور خان | سلطان محمد خان | تگاب | وکیل اهالی مرکز حکومتی تگاب\n۳۱ | ۳۱ | محمد قاسم خان | عبد الشکور خان | فند قستان | \" غوربند علاقه‌داری آن\n۳۲ | ۳۲ | محمد امین خان | ملک شاهین خان | بولغین | ریزه کوهستان\n۳۳ | ۳۳ | عبدالرؤف خان | علی اصغر خان | قریۀ خم زرگر | وکیل اهالی حکومتی ریزه کوهستان\n۳۴ | ۳۴ | میرزا فضل احمد خان | خداد خان | شهر غزنی | \" \" کلان غزنی و قصبات ان"}
{"book": "adl0111", "page": 87, "text": "٨٤\nبقیه اسمای وکلای محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ از ولایت کابل:\nنمره عمومی\nنمره ولایتی\nاسماء\nولدیت\nسکونت\nمنطقه انتخابیه\n٣٥\n٣٥\nغلام محی الدینخان\nشیر محمدخان\nقره باغ غزنی\nوکیل اهالی قره باغ غزنی\n٣٦\n٣٦\nملک شاه پسندخان\nغلام رضاخان\nعلودانی\n\"\nدر علاقه داری حتوغزنی\n٣٧\n٣٧\nحاجی سید موسی خان\nسید مرتضی خان\nجاغوری\n\"\nحکومتی جاغوری\n٣٨\n٣٨\nعلی جمعه خان\nپاینده محمدخان\nمالستان\n\"\nعلاقه داری مالستان\n٣٩\n٣٩\nمیرزا امرالدین خان\nسیف الدین خان\nشکو مقر\n\"\nحکومتی مقر\n٤٠\n٤٠\nفیض الله خان\n\"\nعلاقه داری ناوه گیلان مقر\n٤١\n٤١\nمحمد حسن خان\nرضا بخش خان\nکجاب بهسود\n\"\nحکومتی بهسود\n٤٢\n٤٢\nسید زوار خان\nسید عبدالحسین خان\nقریه درویشان\n\" علاقه داری دهولت\nپای مربوطه حکومت بهسود\n٤٣\n٤٣\nملک محمد صدیق خان\nعبدالله خان\nقول خویش\nوکیل اهالی افاغنه کوچی بهسود\n٤٤\n٤٤\nسید شاه محمودخان\nشاه اسمعیل خان\nیکاولنگ\n\"\nحکومتی یکاولنگ\n٤٥\n٤٥\nمحمد عسکرخان\nمحمد نعیم خان\nشکر آباد پشه ی دایزنگی\n\"\nعلاقه داری دایزنگی\n٤٦\n٤٦\nشیر علیخان\nغلام علیخان\nسرخ و پارسا\n\"\nحکومتی سرخ و پارسا\n٤٧\n٤٧\nشهاب الدین خان\nمهرول خان\nاندر\n\"\nعلاقه داری اندر\n٤٨\n٤٨\nمحمد اکبرخان\nنصرالله خان\nسنگر غزنی\n\"\nحکومتی کلان غزنی\n٤٩\n٤٩\nمیر محمد حسین بیگ\nمحمد نبی بیگ\nنرگس\n\"\n\"\n\"\nدایزنگی\n٥٠\n٥٠\nارباب محمد مهدی خان\nمیرزا حسین خان\nقریه لعل\n\"\n\"\n\"\n\"\n٥١\n٥١\nمحمد صادق خان\nمیرسلیمان بیگ\nدایکندی\n\"\n\"\n\"\nدایکندی"}
{"book": "adl0111", "page": 88, "text": "۸۵\n\nاسمای وکلای محترم لویه جرگهٔ ۱۳۰۹ از ولایت قندهار\n\nنمره عمومی\nنمره شخصی\nاسماء\nولدیت\nسکونت\nمنطقه انتخابیه\n\n۵۲\n۱\nعبد القیوم خان\nمحمد رحیم خان\nشهر قندهار\nوکیل اهالی مرکز شهر قندهار\n\n۵۳\n۲\nعبد الوهاب خان\nمحمد عمر خان\n\"\n\"\n\" \" \" \"\n\n۵۴\n۳\nقاضی عبد القیوم خان\nمحمد اخند زاده\n\"\n\"\n\" \" \" \"\n\n۵۵\n۴\nسید اکرم خان\nسید احمد خان\n\"\n\"\n\" \" \" \"\n\n۵۶\n۵\nمیرزا علی اکبر خان\nغلام حیدر خان\n\"\n\"\n\" \" \" \"\n\n۵۷\n۶\nحاجی محمد عمر خان\nعبد الله خان\n\"\n\"\n\" \" \" \"\n\n۵۸\n۷\nلالا حاجی اکو خان\nحاجی محمد عمر خان\n\"\n\"\n\" \" \" \"\n\n۵۹\n۸\nجلال خان\nامیر محمد خان\nمال گیر\n\" مرکز حکومت پشتون دره\n\n۶۰\n۹\nحاجی شیر دل خان\nجلال الدین خان\nشهر قندهار\n\" حکومت میوند\n\n۶۱\n۱۰\nولی محمد خان\nفیض محمد خان\nزمین داور\n\" \" زمین داور\n\n۶۲\n۱۱\nمحمد اکبر خان\nمحمد اکرم خان\nترین\n\" \" ترین\n\n۶۳\n۱۲\nمحمد ایوب خان\nشیرین خان\nقریهٔ دو آب\n\" \" خاکریز\n\n۶۴\n۱۳\nعبد الله خان\nصمد الدین خان\nپوپلزی\n\" علاقه داری میانشینت\n\n۶۵\n۱۴\nعبد الحبیب خان\nنظر محمد خان\nمعروف\n\" \" معروف\n\n۶۶\n۱۵\nحاجی عبد الاحد خان\nعبد الرحیم خان\nجلدک\n\" حکومت ترنک و جلدک"}
{"book": "adl0111", "page": 89, "text": "٨٦\nاسماء وکلای محترم لویہ جرگۂ ۱۳۰۹ از ولایت قندھار :\nنمبر عمومی\nنمبر شخصی\nاسـمـاء\nولــدیـت\nسـکونـت\nمنطقۂ انتخابیہ\n٦٧\n١٦\nحاجی غلام جان\nمحمد شریف خان\nارغستان\nوکیل اہالی محال ارغستان\n٦٨\n١٧\nصفدر جنگ\nمجنون خان\nبابا جی\n\"\nعلاقه داری قلعہ گز\n٦٩\n١٨\nگل محمد خان\nتواب خان\nشور اندام\n\"\n\" دامان داکبر\n٧٠\n١٩\nسید محمد عمر خان\nسید امیر خان\nزنگی آباد\n\"\n\" پنجوائی زارِیا\n٧١\n٢٠\nمحمد عثمان خان\nعبد اللہ خان\nدہلہ\n\"\n\" حکومتی دہلہ\n٧٢\n٢١\nعبد القیوم خان\nصالح محمد خان\nقلات\n\"\n\" قلات\n٧٣\n٢٢\nیار محمد خان\nسید محمد خان\nمیان پشت\n\"\n\" گرمسیر\n٧٤\n٢٣\nغلام دستگیر خان\nمحمد جانخان\nدہ راوُد\n\"\n\" دہ راوُد\n٧٥\n٢٤\nمحمد فاضل خان\nپیر دوست خان\nدہشیر\n\"\n\" علاقه داري شير و سرخ\n٧٦\n٢٥\nمحمد صدیق خان\nعبدالحق خان\nنادهٔ بارکزائی\n\"\n\" نادهٔ بارکزائی \"\n٧٧\n٢٦\nحاجی محمد ایوب خان\nحاجی محمد علم خان\nقریۂ نوزاد\n\"\n\" نوزاد \"\n٧٨\n٢٧\nآدم خان\nنظر محمد خان\nکاریزئا\n\"\n\" قلعہ گز\n٧٩\n٢٨\nمحمد حلیم خان\nمحمد عیسیٰ خان\nقلعہ بست\n\"\n\" قلعہ بست\n٨٠\n٢٩\nحاجی محمد امین خان\nنائب محمد غوث خان\nساربان قلعہ\n\"\n\" پشت رود\n٨١\n٣٠\nعبد القیوم خان\nعبدالرحمن خان\nغورک\n\"\n\" نیِش غورک\n٨٢\n٣١\nحاجی محمد اعظم خان\nحاجی طور خان\nخاکریز\n\"\n\" خاک ریز\n٨٣\n٣٢\nمحمد سرور خان\nصمد خان\nشور آبک\n\"\n\" شور آبک\n٨٤\n٣٣\nحاجی غلام حیدر خان\nنظر محمد خان\nارغنداب\n\"\n\" ارغنداب\n٨٥\n٣٤\nعبد اللہ خان\nسلطان محمد خان\nزمین داور\n\"\n\" قندہار"}
{"book": "adl0111", "page": 90, "text": "۸۷\nاسمای وکلای محترم لویه جرگهٔ ۱۳۰۹ از ولایت هرات:\nنمبر عمومی | نمبر ولایتی | اسماء | ولدیت | سکونت | منطقه انتخابیه\n٨٦ | ١ | علی نظر خان | ملا درویش خان | جوند | وکیل اہالی علاقہ داری جوند\n٨٧ | ٢ | ملا محمد معصوم خان | ملا عبدالوهابخان | قریۀ اسپاچه | \" بلوک کہرق\n٨٨ | ٣ | حاجی معروف خان | قاسم بای | کوهستان | \" کوهستان\n٨٩ | ٤ | ملا سعید محمد خان | ملا موسی خان | | \" حکومتی تولک\n٩٠ | ٥ | محمد یسین خان | قاضی عبدالاحد خان | انار دره | \" انار دره\n٩١ | ٦ | عبدالله خان | مجال خان | بادغیسین | \" علاقه داری کروخ\n٩٢ | ٧ | ملا غلام محمد خان | قاضی الیاس خان | قلعه شیخی | \" \" فرسی\n٩٣ | ٨ | محمد شریف خان | عبدالرحمن خان | بلده هرات | \" بلوک گذره\n٩٤ | ٩ | جلال الدینخان | ذوالفقار خان | قریۀ ده تپه | \" علاقه میلان غوریان\n٩٥ | ١٠ | سید محمد خان | حاجی اکبر خان | سیاه جوی | \" \" فراه رود\n٩٦ | ١١ | محمد ابراهیم خان | میرزا محمد علیخان | محله قیسان | \" حکومتی غوریان\n٩٧ | ١٢ | میرزا سید محمد خان | محمد ابراهیم خان | قریۀ کاته | \" علاقه داری پس کوتل\n٩٨ | ١٣ | محمد کریم خان | نائب شادیخان | حوضنکان | \" \" پسا بند غور\n٩٩ | ١٤ | ملا عبدالوهاب خان | ملا عبدالحکیم خان | قریه کن علیا | \" مرکز حکومتی غور\n١٠٠ | ١٥ | سلطان محمد خان | گل محمد خان | گلران | \" علاقه داری گلران"}
{"book": "adl0111", "page": 91, "text": "۸۸\n\nبقیه اسماء وکلای محترم لویه جرگهٔ ۱۳۰۹ از ولایت هرات\n\nنمره عمومی\nنمره شخصی\nاسماء\nولدیت\nسکونت\nمنطقه انتخابیه\n\n١٠١\n١٦\nمحمد نادر خان\nعبدالقادر خان\nقریه شادبجام\nوکیل اهالی علاقه بلوک نفقان\n\n١٠٢\n١٧\nدین محمد خان\nشیر محمد خان\nکشکت کهنه\n\" حکومتی کشک\n\n١٠٣\n١٨\nمحمد اعظم خان\nمحمد رسول خان\nقریه خر مگاه\n\" \" اسفزار\n\n١٠٤\n١٩\nسید احمد خان\nخلیفه فیض الله خان\nقلعه نو\n\" \" قلعه نو\n\n١٠٥\n٢٠\nمحمد یوسف خان\nابو بکر خان\nنبرد انک حسن خان\n\" \" آلوجان نیک\n\n١٠٦\n٢١\nقاضی غلام نبی خان\nحاجی محمد زمانخان\nمحل بر درانی\n\" شهر هرات\n\n١٠٧\n٢٢\nحافظ ملا فخرالدین خان\nمحمد عظیم خان\n\" قطبی چاق\n\" \" \"\n\n١٠٨\n٢٣\nشیخ محمد امین خان\nغلام محمد خان\nخواجه عبدالله مصری\n\" \" \"\n\n١٠٩\n٢٤\nعبدالوهاب خان\nحاجی آقا محمد خان\nگذر اسمعیل مرغاب\n\" حکومتی مرغاب\n\n١١٠\n٢٥\nمولا داد بیگ\nمحمد جان بیگ\nچغچران\n\" \" چغچران\n\n١١١\n٢٦\nحاجی محی الدینخان\nسیف الدینخان\n\"\n\" علاقه داری غلجی\n\n١١٢\n٢٧\nملا صالح محمد خان\nملا رحیم داد خان\n\"\n\" حکومتی شهرک\n\n١١٣\n٢٨\nنصرالدینخان\nعبدالله خان\nمارآباد اوبه\n\" \" اوبه\n\n١١٤\n٢٩\nمحمد فضل خان\nمحمد سر خان\nنو بادام\n\" \" علاقه داری چورک\n\n١١٥\n٣٠\nحاجی عبدالحق خان\nقاضی محمد حیدر خان\nشهر هرات\n\" نائب الحکومگی هرات"}
{"book": "adl0111", "page": 92, "text": "۸۹\n\nبقیه اسمای وکلای محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ از ولایت هراة\nنمبر عمومی | نمبر شخصی | اسماء | ولدیت | سکونت | منطقه انتخابیه\n١١٦ | ٣١ | محمد ایوب خان | گل محمد خان | گلران | وکیل اهالی نایب الحکومگی هرات\n١١٧ | ٣٢ | دربوزه خان | | کشک | \" \" \" \"\n١١٨ | ٣٣ | ملا موسی خان | شاه پسند خان | غوریان | \" \" \" \"\n١١٩ | ٣٤ | شیر علی خان | ذوالفقار خان | کرخ | \" کرخ\n١٢٠ | ٣٥ | حاجی شاه پسند خان | سکندر خان | شفلان | \" علاقه شفلان"}
{"book": "adl0111", "page": 93, "text": "۹۰\n\nاسمای وکلای محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ از ولایت مزار شریف :\nنمبر عمومی | نمبر ولایت | اســــــماء | ولـــــديت | سـكـــونت | منطقه انتخابیه\n۱۲۱ | ۱ | حاجی محمد شفیعخان | شرف بای | دروازه برون و یا | وکیل اهالی محکمه مرکزی مزار شریف\n۱۲۲ | ۲ | سید حسین خان | سید محمد عظیم خان | گذر دروازه تاشقرغان | \" \" \" \"\n۱۲۳ | ۳ | ایشان صدیق خان | ایشان عثمان خان | گذر قوا دیان | \" \" \" \"\n۱۲۴ | ۴ | ملا عبدالرحمن خان | ملا غیاث خان | سر پل | \" \" \" \"\n۱۲۵ | ۵ | میرزا عبدالاحدخان | میرزا عبدالصمدخان | \" | \" از محکمه کوهی سر پل\n۱۲۶ | ۶ | طوره خان | پیر محمد خان | \" | \" افاغنه \" \"\n۱۲۷ | ۷ | ملا محمد کریم خان | ملا بابه علیخان | کوهستان سر پل | \" کوهستان \" \"\n۱۲۸ | ۸ | سید یعقوب خان | سید عبدالواحد خان | سنگ چارک | \" حکومتی سنگ چارک\n۱۲۹ | ۹ | میرزا غلام شاه خان | پاینده محمد خان | \" | \" بلخاب\n۱۳۰ | ۱۰ | محمد ابراهیم خان | حاجی امیر بای خان | سرقریه تاشقرغان | \" تاشقرغان\n۱۳۱ | ۱۱ | داکتر شیر احمد خان | شیر زمان خان | تاشقرغان | \" \"\n۱۳۲ | ۱۲ | ملا آدینه جان محمد خان مشهور به ملا | \" | \" | \" \"\n۱۳۳ | ۱۳ | میرزا مراد خان | محمد موسی خان | سایباغ | \" ایبک\n۱۳۴ | ۱۴ | سید عبدالعزیزخان | سید رحمن خان | آقچه | \" آقچه\n۱۳۵ | ۱۵ | ملا کمال الدینخان | عبدالصمد خان بای | جوی سلطان | \" \"\n\nجزوه سر ۲۵۰۰\nایضاً"}
{"book": "adl0111", "page": 94, "text": "۹۱\n\nبقیه اسمای وکلای محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ از ولایت مزار شریف :\nنمره عمومی\nنمره حوزوی\nاسماء\nولدیت\nسکونت\nمنطقه انتخابیه\n۱۳۶\n۱۶\nملا عبدالوهاب خان\nمحمد طاهر خان\nخلوتی شبرغان\nوکیل اهالی حکومتی شبرغان\n۱۳۷\n۱۷\nخالی بای خان\nتروی بای خان\nچقچی\n\" \"\n\" \"\n۱۳۸\n۱۸\nاستانه قل خان\nسید محمد خان\nچهارکنت\n\" \"\nعلاقه داری \"\n۱۳۹\n۱۹\nدوست علیخان\nسلیمان خان\nبابا یادگار\n\" \"\nنهر شاخ\n۱۴۰\n۲۰\nملا حبیب الله خان\nحاجی محمد افضل خان\nروئی دو آب\n\" \"\nروئی دو آب\n۱۴۱\n۲۱\nحاجی طوره خان\nقربان علی خان\nقریه آدینه\n\" \"\nچهار بنز حکومتی بلخ\n۱۴۲\n۲۲\nمحمد ایوب خان\nملک فتح محمد خان\nباغ و راق\n\" \"\n\" \" \"\n۱۴۳\n۲۳\nملا رحمت الله خان\nعطا محمد خان\nجوی شار سبز\n\" \"\nنهر فیض آباد\n۱۴۴\n۲۴\nعیسی قلی خان\nقلیچ بای\nقرقین\n\" \"\nقرقین\n۱۴۵\n۲۵\nروزی بای\nعباد الله\nنهر دولت آباد\n\" \"\nنهر دولت آباد\n۱۴۶\n۲۶\nمحمد شاه خان\nمحمد حسن خان\n\" \"\n\" \"\n\" \" \"\n۱۴۷\n۲۷\nملا سید نظر خان\nقربان نظر خان\nشور تپه\n\" \"\nعلاقه داری شور تپه\n۱۴۸\n۲۸\nعبدالصمد خان\nعبدالعزیز خان\nدره صوف\n\" \"\nدره صوف\n۱۴۹\n۲۹\nحاجی عبدالله خان\nمحمد قربان خان\nتونج\n\" \"\nکشنده\n۱۵۰\n۳۰\nمیرزا محمد یعقوب خان\nمیرزا نجف علیخان\nآقچه\n\" \"\nبوین قره"}
{"book": "adl0111", "page": 95, "text": "۹۲\nاسماء وکلای محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ از ولایت قطغن و بدخشان:\nنمره عمومی\nنمره جزوی\nاسماء\nولدیت\nسکونت\nمنطقه انتخابیه\n۱۵۱ ۱ نذری محمد خان حیت خان را کو وکیل اهالی حکومتی کلان بدخشان\n۱۵۲ ۲ رستم بیک خان دوران شاه خان فیض آباد \" \"\n۱۵۳ ۳ حاجی سلطان رضا خان محمد حسین خان ده ویران \" نائب الحکومگی\n۱۵۴ ۴ خالقداد خان ناظر اله داد خان گدحیات آبادقانآباد \" \"\n۱۵۵ ۵ دوست محمد خان معاذ الله خان اقیاسس \" \"\n۱۵۶ ۶ جله اش بای خان محمد بای خان جلگه ینگی قلعه \" علاقه ینگی قلعه\n۱۵۷ ۷ محمد اکبر خان ملا عبد الحکیم خان شاخ دره راغ \" \" راغ\n۱۵۸ ۸ شمس الدینخان محمد میر خان غوری \" \" پنج دهۀ غوری\n۱۵۹ ۹ ملا سید عبد القیوم خان خواجه میران جرم د خاش \" \" حکومتی جرم و خاش\n۱۶۰ ۱۰ میرزا رحمت الله خان میر محمد عمر بیگ اندراب \" \" اندراب\n۱۶۱ ۱۱ شیر محمد خان با به لاله خان چال و شکش \" علاقه داری چال کش\n۱۶۲ ۱۲ فضل احمد خان میرسید محمد خان تاله و برفک \" \" تاله و برفک\n۱۶۳ ۱۳ ملا محمد خان ملا سید علی خان بغلان \" \" بغلان\n۱۶۴ ۱۴ ملا عبد الحفیظ خان ملا عبد الجلیل خان فرخار \" \" فرخار\n۱۶۵ ۱۵ شمس الدین خان دولت محمد خان کسهم \" علاقه کشم در ایم"}
{"book": "adl0111", "page": 96, "text": "۹۳\n\nبقیهٔ اسمای وکلای محترم لویه جرگهٔ ۱۳۰۹ از ولایت قطغن و بدخشان:\nنمره عمومی\nنمره ولایتی\nاسماء\nولدیت\nسکونت\nمنطقهٔ انتخابیه\n١٦٦\n١٦\nملا نور محمد خان\nشوقی بای\nحضرت امام صاحب\nوکیل اهالی حکومتی حضرت امام\n١٦٧\n١٧\nمحمد اکرم خان\nلاله میر خان\nقندز\n” ” علاقه داری قندز\n١٦٨\n١٨\nفتح الله خان\nبابا خان\nشهر بزرگ\n” ” ” بزرگ\n١٦٩\n١٩\nمیرزا میراحمد خان\nخنجان\n” ” ” خنجان\n١٧٠\n٢٠\nملا عبدالخالق خان\nملا علیجان خان\nجلغاغ\n” حکومتی نهرین\n١٧١\n٢١\nسید نصیر الدین خان\nسید مرتضی خان\nکیان دولتی\n” علاقه داری دولتی\n١٧٢\n٢٢\nمحمد عمر خان\nمیر محمد یعقوب خان\nخوست و فلغن\n” خوست و فرنگ\n١٧٣\n٢٣\nمیر جان خان\nمیرزا نبات خان\nقریه عوض شاه علیا\n” علاقه داری\n١٧٤\n٢٤\nسلطانعلی خان\nقاسم علیخان\nزیباک\n” ” ” زیباک\n١٧٥\n٢٥\nمیرزا عبد المؤمن خان\nعبدالولی شا خان\nقریه نسی درواز\n” مرکز حکومتی وا...\n١٧٦\n٢٦\nسنجر خان\nمحمود خان\nشغنان\n” ” علاقه دار شغنان\n١٧٧\n٢٧\nمیر سید جان\nیار محمد خان\nواخان\n” ” حکومتی واخان"}
{"book": "adl0111", "page": 97, "text": "٩٤\nاسمای وکلای محترم لویه جرگه ١٣٠٩ از حکومتی اعلای مشرقی\nنمبر عمومی\nنمبر جزوی\nاسماء\nولدیت\nسکونت\nمنطقه انتخابیه\n١٧٨\n١\nشیرین خان\nشیرزه خان\nحصارک\nوکیل الی اقوام سرخرودخیل\n١٧٩\n٢\nمحمد صدیق خان\nقطب خان\nقریه سیاہ حصارک\n\" \" جبار خیل\n١٨٠\n٣\nمیرزا محمد خان\nمحمد عباس خان\nکابی خیل\n\" \" خربوتی گیانی\n١٨١\n٤\nمحمد اصلاح خان\nخانو خان\nمرکی خیل\n\" \" شیرزاد خوگیانی\n١٨٢\n٥\nملک شمس الدین خان\nنصر الله خان\nآگام\n\" \" وزیر \"\n١٨٣\n٦\nمحمد صدیق خان\nمیرزا شهسوار خان\nاشپان\n\" \" شیرزاد \"\n١٨٤\n٧\nسید محمد اکرم خان\nاورنگ شاه خان\nمستی خیل\n\" \" چپریار\n١٨٥\n٨\nسید زمانخان\nسید جان پادشاه\nحصار شاهی\n\" \" حصارک و کرنی\n١٨٦\n٩\nمیرزا محمد کریم خان\nمحمد آزاد خان\nقریه دو شه هارود کوت\n\" \" رود کوت\n١٨٧\n١٠\nملک شنواری\nاکبر شاه خان\nنازیان\n\" \" سنگوخیل نازیان شنواری\n١٨٨\n١١\nملا عبد الله جان\nعبد الصمد خان\nپایین شنواری\n\" علاقه داره بالای\n١٨٩\n١٢\nملا محمد گل آخندزاده\nملا عبد الرحمن\nکوت خشک شنواری\n\" اقوام سرپای و عبد الرحیم خیل شنواری\n١٩٠\n١٣\nعش میر خان\nحضرت میر خان\nعبدالخیل\n\" \" \" \" \" \" \"\n١٩١\n١٤\nملا محمد جان خان\nمیرزا محمد یوسف خان\nخوش کنبد\n\" \" اقوام سرخرود\n١٩٢\n١٥\nحاجی میرزا محمد نسیم خان\nعبد الحکیم خان\nقریه مرزایان\n\" \" سرخرود"}
{"book": "adl0111", "page": 98, "text": "٩٥\nبقیه اسمای وکلای محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ از حکومتی اعلای مشرقی\nنمره عمومی\nنمره جروي\nاسماء\nولدیت\nسکونت\nمنطقه انتخابیه\n١٩٣\n١٦\nملا عبدالغفور خان\nمفتی عبدالرحیم خان\nقریه قلعه اخند\nوکیل اهالی اقوام کامه\n١٩٤\n١٧\nملا محمد جان\nملا گل حسن خان\nلعل پوره\nلعل پوره دکه\nوغیره تعلقه مهمند\n١٩٥\n١٨\nمیرزا حمید الله خان\nملا سیف الله „\nبتی کوت\n„ بتی کوت غیره تعلقه\n١٩٦\n١٩\nقاضی گلابشاه خان\nحضرت شاه „\nقریه پشپلاق\n„ کو کو زائی و حسن خیل\nوغیره تعلقه مهمند\n١٩٧\n٢٠\nشیر علی خان\nعبد الجلیل „\nعلی شنگ\n„ „ مرکز حکومتی لغمان\n١٩٨\n٢١\nاحمد جان خان\nتاج محمد خان\nقریه هائی چهار باغ\nلغمان\nچکله میانه تعلقه لغمان\n١٩٩\n٢٢\nملا محمد معظم „\nملا محمد شیر دل „\nقریه چند زائی\n„ „ قریه جات گنج\nگل و سرکانی متعاقه کنر خاص\n٢٠٠\n٢٣\nملک میران\nملک بدرالدینجان\nسلوتی\nسلوتی و کلهائی\nمتعلقه کنر خاص\n٢٠١\n٢٤\nملک فقیر محمد خان\nعبد الرحمن خان\nقریه و ملکی چنته\nسری\n„ قریه و ملکی و غیره\nتعلقه مرکز حکومتی کلان اسمار\n٢٠٢\n٢٥\nعتیق الله خان\nعبد اللطیف خان\nقریه موتی شیگل\n„ „ شیگل متعلقه\nحکومتی کلان اسمار\n٢٠٣\n٢٦\nدرویش خان\nقدیر خان\nلچای شیگل\n„ „ „ „ „\n٢٠٤\n٢٧\nحسن خان\nملک حمیین خان\nقریه وته پور\n„ چنته سرای متعلقه\nحکومتی کلان اسمار\n٢٠٥\n٢٨\nمحمد حسین خان\nداد رسول خان\nقریه سین زائی\n„ دره پیچ متعلقه\nحکومتی دره پیچ\n٢٠٦\n٢٩\nسید عبدالغفار خان\nگل احمد خان\nنور احمد\n„ „ علاقه داری\nدره علی شنگ لغمان\n٢٠٧\n٣٠\nمحمد نادر دن خان\nمحمد اکبر خان\nچهار باغ لغمان\nوکیل اهالی قریه جات توابع علاقه\nداری چگله میانه لغمان"}
{"book": "adl0111", "page": 99, "text": "۹۶\nبقیه اسمای وکلای محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ از حکومتی اعلای مشرقی :\nاســــــماء\nولدیت\nسکونت\nمنطقه انتخابیه\n۳۱\n۲۰۸\nحبیب الرحمن خان\nمحمد نسیم خان\nقریه تندی لغمان\nوکیل اهالی مرکز حکومتی لغمان\n۳۲\n۲۰۹\nسید شریف خان\nسید حاتم شاه خان\nقریه خواجه خیل سفلی\n\"\n\"\nدره علینگار\n\"\nشیوه و قطعه تک\n۳۳\n۲۱۰\nسید عبد الاحد خان\nسید غلام جان\nشیوه\n\"\n{\nرشکی متعلقه کوز کنر\nتاجگ وصافی قریه شیو\n۳۴\n۲۱۱\nگل محمد خان\nملک شاه محمود خان\nنورگل علیا\n\"\nنورگل و دره قریه کوز کنر\n۳۵\n۲۱۲\nعبد الله خان\nملک مهر الله خان\nدرۀ نور\n\"\n\"\nدره نور\n۳۶\n۲۱۳\nسلطان محمد خان\nطلب الدین خان\nمورچل\n\"\n\"\n\"\nپیچ\n۳۷\n۲۱۴\nایشاخان\nفیض طلب خان\nکندی\n\"\n\"\nاقوام صافی دره پیچ\n۳۸\n۲۱۵\nمیرزا محمد رفیق خان\nمیرزا محمد عثمان خان\nشهر جلال آباد\n\"\n\"\nمرکز شهر جلال آباد\n۳۹\n۲۱۶\nسعد الله خان\nعنایت الله خان\nاغز باغ\n\"\n\"\nسلارزائی اسمار\n۴۰\n۲۱۷\nسید امان خان\nنصر علی خان\nرود ســـــاو\n\"\n\"\nمشوانی\n\"\n۴۱\n۲۱۸\nملک محمد یوسف خان\nعبد القادر خان\nقریه نازی\n\"\n\"\nدرۀ نند\n۴۲\n۲۱۹\nنور محمد خان\nبنگی خان\nپشان\n\"\n\"\nنورستان لغمان\n۴۳\n۲۲۰\nعبد الغفور خان\nعبد الله خان\nپل رستم\n\"\n\"\nحکومتی نورستان\n۴۴\n۲۲۱\nملایار محمد خان\nآزاد خان\nمیردیس\n\"\n\"\n\"\n\""}
{"book": "adl0111", "page": 100, "text": "۸۹\nبقیهٔ اسمای وکلای محترم لویه جرگهٔ ۱۳۰۹ از ولایت هراة\nنمره عمومی | نمره ولایتی | اسماء | ولدیت | سکونت | منطقهٔ انتخابیه\n۱۱۶ | ۳۱ | محمد ایوب خان | گل محمد خان | گلران | وکیل اهالی ثلث اجمهٔ بلوکیات هرات\n۱۱۷ | ۳۲ | دریوزه خان | \" | کشک | \" \" \" \"\n۱۱۸ | ۳۳ | طاموس خان | شاه پسند خان | غوریان | \" \" \" \"\n۱۱۹ | ۳۴ | شیر علی خان | ذوالفقار خان | کرخ | \" کرخ\n۱۲۰ | ۳۵ | حاجی شاه پسند خان | سکندر خان | شفلان | \" علاقهٔ شفلان"}
{"book": "adl0111", "page": 101, "text": "۹۰۸\n\nبقیه اسما و کلای محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ از حکومتی علای جنوبی\nنمبر عمومی\nنمبر شخصی\nاسماء\nولدیت\nسکونت\nمنطقه انتخابیه\n۲۳۷\n١٦\nخان ولی خان\nمغل خان\nمیرزکه\nوکیل ثانی سوسی خیل منگل\n۲۳۸\n۱۷\nشیخان\nخیال الدین خان\n\"\n\" اقوام پیر که منگل\n۲۳۹\n۱۸\nمعاذ الله خان\n\"\n\"\n\" بزاغ بانی خیل منگل\n٢٤٠\n۱۹\nملک پرگل خان\nگلزار خان\n\"\n\" اقوام بانی خیل منگل\n٢٤١\n۲۰\nمحمد ایوب خان\nمیر محمد خان\nپطان جاجی\n\" پطان چکنی\n٢٤٢\n۲۱\nسلطان محمد خان\nامیر محمد خان\nمقبل\n\" مقبل \"\n٢٤٣\n۲۲\nمحمد گل خان\nمحمد زمان خان\nچکنی\n\" چکنی\n٢٤٤\n۲۳\nعزیز خان\nسند و خان\n\"\n\" \" \"\n٢٤٥\n٢٤\nعالم خان\nولی خان\nجانی خیل\n\" میاخیل جدران\n٢٤٦\n٢٥\nملک شنگس خان\nمحمد کبیر خان\nشورک جدران\n\" میزانی جدران\n٢٤٧\n٢٦\nحاجی محمد خان\nجان محمد خان\nخوست\n\" تنی خوست\n٢٤٨\n۲۷\nملک صاحب جان خان\nشیر جانخان\nیعقوبی\n\" یعقوبی خوست\n٢٤٩\n۲۸\nملک عجب نور خان\nصالح محمد خان\nلنگ\n\" لک خوست\n٢٥٠\n۲۹\nحسین شاه خان\nحریف شاه خان\nلکن\n\" اقوام لکن خوست\n٢٥١\n۳۰\nدین محمد خان\nصالح محمد خان\nمنون\n\" متون گندی خوست"}
{"book": "adl0111", "page": 102, "text": "۹۹\n\nبقیه اسمای وکلای محترم لویه جرگهٔ ۱۳۰۹ از حکومتی اعلای جنوبی :\n\nنمره عمومی | نمره شخصی | اســــمـــاء | ولدیت | سکونت | منطقهٔ انتخابیه\n--- | --- | --- | --- | --- | ---\n٢٥٢ | ٣١ | میرزا محمد خان | جان محمد خان | متون | وکیل اهالی متون (گندمی)\n٢٥٣ | ٣٢ | ملک بلند خان | پیاوی | گربز | \" اقوام گربز (خوست\n٢٥٤ | ٣٣ | ملک سلیم خان | پیرا گلخان | اسمعیل خیل | \" اسمعیل خیل \"\n٢٥٥ | ٣٤ | حکیم شاه خان | عبدالرحیم خان | مندو زائی | \" مندوزائی خوست\n٢٥٦ | ٣٥ | ملک رحیم خان | ملک امرالله خان | قدم | \" اقوام تنی (تریزو) \"\n٢٥٧ | ٣٦ | ملک گل محمد خان | میراحمد خان | شمل | \" شمل خوست\n٢٥٨ | ٣٧ | علی جانخان | سلطان محمد خان | خوست | \" لکنی خوست\n٢٥٩ | ٣٨ | محمد هاشم خان | خواجه محمد خان | باک | \" باک \"\n٢٦٠ | ٣٩ | محمد یعقوب خان | محمد سرور خان | \" | \" \" \"\n٢٦١ | ٤٠ | شیر شاه خان | دبدب خان | آبدکه نیازی | \" نیازی (طویزه خوستم؟)\n٢٦٢ | ٤١ | بهاء الدین خان | عبدالکریم خان | شرن | \" شرن و کته وزی و سلیمان خیل\n٢٦٣ | ٤٢ | صاحب خان | حاجی مهروان خان | \" | \" حکومتی کتوا‌ز\n٢٦٤ | ٤٣ | علی محمد خان | محمد عظیم خان | دوشین | \" \" \"\n٢٦٥ | ٤٤ | ملک نظر محمد خان | پیر محمد خان | مرکز ارگون | \" تاجک نشین ارگون\n٢٦٦ | ٤٥ | ملا عبدالحکیم خان | عبدالرحمن خان | \" | \" \" \""}
{"book": "adl0111", "page": 103, "text": "۱۰۰\n\nبقیه اسمای وکلای محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ از حکومتی اعلای جنوبی:\n\nنمبر عمومی\nنمره شخصی\nاسماء\nولدیت\nسکونت\nمنطقه انتخابیه\n\n۲۶۷\n٤٦\nملک اختر محمد خان\nصادر خان\nدشتی جدران\nوکیل اهالی اقوام جدران، گردیز\n\n۲۶۸\n٤٧\nخوشدل خان\nعباس خان\nسروضه\n\"\n\" خروتی \" \"\n\n۲۶۹\n٤٨\nنور محمد خان\nصالح محمد خان\nباک\n\"\n\" باک خوست\n\n۲۷۰\n٤٩\nدین محمد خان\nفیروز خان\nگردیز\n\"\n\" گردیز\n\n۲۷۱\n٥۰\nمدد خان\nدلاور خان\n\"\n\"\n\" \"\n\n۲۷۲\n٥۱\nخان محمد خان\nصالح محمد خان\nزرملت\n\"\n\" زرملت\n\n۲۷۳\n٥۲\nخان شیرین خان\nپیرونان\nکلال گو\n\"\n\" \"\n\n۲۷۴\n٥۳\nمبین خان\nملک عبدالرحمن خان\nجانی خیل\n\"\n\" جانی خیل کٹواز\n\nبقیه ضمیمه اینجدول بدرستی ۳ صفحه در اخیر کتاب در تحت نمره ص ۱۰۰ چاپ شده چشم"}
{"book": "adl0111", "page": 104, "text": "۱۰۱\nاسمای وکلای محترم لویه جرگۀ ۱۳۰۹ از حکومتی اعلای فراه و چخانسور\n\nنمبر عمومی | نمبر حکومتی | اسماء | ولدیت | سکونت | منطقه انتخابیه\n۲۷۵ | ۱ | یار محمد خان | غلام محمد خان | کده خیل | وکیل اهالی چخانسور\n۲۷۶ | ۲ | محمد اسلم خان | محمد موسی خان | تولک | \" مرکز حکومتی فراه\n۲۷۷ | ۳ | سید محمد خان | قمرالیخان | داراباد | \" \" \"\n۲۷۸ | ۴ | یار محمد خان | حاجی گلاب | اصل خوابگاه | \" علاقه داری خاک سفید\n۲۷۹ | ۵ | میرزا محمد عظیم خان | محمد ابراهیم خان | نهر شاهی | \" صل چخانسو\n۲۸۰ | ۶ | عبد القدوس خان | عبد الرحیم خان | گلستان | \" کوهستان گلستان\n۲۸۱ | ۷ | عبد الغفار خان | نیاز محمد خان | بکوا | \" کوچی \" \"\n۲۸۲ | ۸ | شهاب الدین خان | شاه جهان خان | خانه پشت بکوا | \" بکوا و خاشرود\n۲۸۳ | ۹ | غلام محمد خان | عبد الوهاب خان | لاش جوین | \" لاش جوین\n۲۸۴ | ۱۰ | عبد البصیر خان | عبد الرحمن خان | دوکن فراه | \" اقوام کوچی کن فراه\n۲۸۵ | ۱۱ | محمد جانخان | جان محمد خان | گرجی | \" \" \"\n۲۸۶ | ۱۲ | محمد عظیم خان | حاجی محمد دین خان | زیر کوه فراه | \" \" \"\n۲۸۷ | ۱۳ | غلام محمد خان | بهلول خان | شیخ سر | \" مرکز حکومتی چخانسور\n۲۸۸ | ۱۴ | عطا محمد خان | شیر محمد خان | چهار بر جک | \" چهار برجک"}
{"book": "adl0111", "page": 105, "text": "۱۰۳\n\nاسمای وکلای محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ از حکومتی اعلای میمنه\nنمبر عمومی\nنمبر خصوصی\nاسماء\nولدیت\nسکونت\nمنطقه انتخابیه\n۲۸۹\n۱\nملا جوره خان\nمحمود بای خان\nبلچراغ\nوکیل اهالی در زاب گرزیوان\n۲۹۰\n۲\nامان قل خان جک باشی\nکلجک بای خان\nعرب شاه\n”\nاندخوی\n۲۹۱\n۳\nامام گلدی بای خان\nعثمان خان\nاندخوی\n”\n” ”\n۲۹۲\n٤\nمحمد ولیخان\nمحمد یار خان\n”\n”\n” ”\n۲۹۳\n٥\nملا عبدالرحیم خان\nمیرزا مولان خان\nگذرکوهی خانه\n”\nمرکز میمنه\n۲۹۴\n۶\nملا قربان خان\nدولت مرادخان\nشهر میمنه\n”\n” ”\n۲۹۵\n۷\nملا یماق خان\nمحمد امین خان\nجمشید\n”\nعلاقه داری سر حوض پیا\n۲۹۶\n۸\nملا خیر الله خان\nحسین بابا خان\nسرای قلعه نقارین\n”\nشیرین تگاب\n۲۹۷\n۹\nحاجی کریمداد خان\nعطا خان\nبندر کوهستان\n”\nبندر کوهستان\n۲۹۸\n۱۰\nکلا خان\nحاجی داد محمدخان\nاچغ\n”\nعلاقه دارانی المار و\n۲۹۹\n۱۱\nمحمد سعید بیگ خان\nتحقیق خان\nقیصار\n”\nعلاقه داری قیصا\n۳۰۰\n۱۲\nمحمد زمان بیگ خان\nطور خان\nالمار\n”\n” ” المار\n۳۰۱\n۱۳\nایشان قل خان\nعاشورخان\n”\n”\n” دولت آباد"}
{"book": "adl0111", "page": 106, "text": "١٠٣\nاسما شا شرکت معظمه لو جر گه ١٣٠٩ صفت ممیزه\n٣٠٢ ١ اعلیحضرت معظم محمد نادر شاه غازی بروز افتتاح جهت تا پادشاه نامی استقلال بخش افغانستان\n٣٠٣ ٢ جناب عالیقدر جلالتمآب محمد هاشم خان صدر اعظم افغانستان\n٣٠٤ ٣ عالیقدر جلالتمآب شاه محمود خان سپه سالار و وزیر حرب \"\n٣٠٥ ٤ \" فیض محمد خان وزیر خارجه \"\n٣٠٦ ٥ \" محمد گل خان \" داخله \"\n٣٠٧ ٦ \" حضرت فضل عمر صاحب مجددی \" عدلیه \"\n٣٠٨ ٧ \" میرزا محمد ایوب خان \" مالیه \"\n٣٠٩ ٨ \" علی محمد خان \" معارف \"\n٣١٠ ٩ \" میرزا محمد اکبر خان \" تجارت \"\n٣١١ ١٠ \" عبد الاحد خان رئیس شورای \"\n٣١٢ ١١ \" احمد شاه خان وزیر دربار \"\n٣١٣ ١٢ \" محمد نوروز خان سر منشی حضور اعلیحضرت غازی\n٣١٤ ١٣ جلالتمآب محمد اکبر خان مدیر مستقله طبیه\n٣١٥ ١٤ عالیجاه شجاعت همراه سردار اسد الله خان فرقه مشر سر یاور من حضور\n٣١٦ ١٥ \" سید شریف خان سر یاور حربی \"\n٣١٧ ١٦ والا شان جلالتمآب محمد سرور خان وکیل ولایت کابل"}
{"book": "adl0111", "page": 107, "text": "١٠٤\n\nنمبر عمومی | نمبر جزو | اسما سامیان محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ | صفت ممیزه\n٣١٨ | ١ | عالیقدر صداقتمآب عبدالرحیم خان | مشاور صدارت عظمی\n٣١٩ | ٢ | عالیقدر یار محمد خان | رئیس ضبط احوالات\n٣٢٠ | ٣ | \" یار محمد خان | مدیر اول تحریرات صدارت عظمی\n٣٢١ | ٤ | \" محمد قاسم خان | \" \" \" ٢ \"\n٣٢٢ | ٥ | \" محمد شاه خان | \" \" \" ٣ \"\n٣٢٣ | ٦ | \" باز محمد خان | \" اوراق \" \"\n٣٢٤ | ١ | عالیجاه شجاعت همراه علی شاه خان فرقه مشر | معین وزارت حربیه\n٣٢٥ | ٢ | \" \" \" محمد عمر خان | رئیس ارکان حربیه عمومیه\n٣٢٦ | ٣ | \" عزت \" جانبار خان | نائب سالار\n٣٢٧ | ٤ | \" \" \" زلمی خان | \"\n٣٢٨ | ٥ | \" \" \" زرخان وزیری | \"\n٣٢٩ | ٦ | \" شجاعت همراه احمد شاه خان | فرقه مشر\n٣٣٠ | ١ | عالیقدر صداقتمآب میرزا محمد خان | معین وزارت خارجه\n٣٣١ | ٢ | عالیقدر جلالتمآب شیر احمد خان | سفیر کبیر جلالتین افغانی مقیم در طهران\n٣٣٢ | ٣ | \" سلطان احمد خان | \" \" \" \" انقره\n٣٣٣ | ٤ | صداقتمآب غلام یحیی خان | مدیر عمومی سیاسی وزارت خارجه"}
{"book": "adl0111", "page": 108, "text": "١٠٥\n\nنمبر عمومی\nکدام تحریر است\n\nاسمائ سامعین محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ صفت ممیزه\n٣٣٤ ٥ صداقتمآب غلام غوث خان مدیر عمومی اداری وزارتخارجه\n٣٣٥ ٦ عالیقدر صداقتمآب غلام جیلانی خان مستشار سفارت کبری افغانی مسکو\n٣٣٦ ٧ صداقتمآب سلطان محمد خان مدیر عمومی تشریفات وزارتخارجه\n٣٣٧ ٨ \" صلاح الدین خان \" مطبوعات \" \"\n٣٣٨ ٩ \" عبد الصمد خان \" دول غرب \" \"\n٣٣٩ ١٠ \" محمد ابراهیم خان \" مامورین \" \"\n٣٤٠ ١١ \" حفیظ الله خان \" محاسبه \" \"\n٣٤١ ١٢ \" عبد الغفار خان \" اوراق \" \"\n٣٤٢ ١٣ \" محمد یونس خان سر کاتب ممیزه و قونسلگری \" \"\n٣٤٣ ١٤ \" محمد شفیع خان \" دول شرقیه وزارت خارجه\n٣٤٤ ١ عالیقدر صداقت مآب آدم خان معین اول وزارت داخله\n٣٤٥ ٢ \" \" غلام فاروق خان \" \" ٢ \"\n٣٤٦ ٣ \" \" نیک محمد خان \" \" ٣ \"\n٣٤٧ ٤ \" \" خیر محمد خان \" \" ٤ \"\n٣٤٨ ٥ صداقتمآب خداداد خان مدیر مأمورین \"\n٣٤٩ ٦ \" غلام محی الدین خان \" پست و تلگراف \""}
{"book": "adl0111", "page": 109, "text": "١٠٦\n\nنمبر عمومی\nنمبر مخصوص\nجرگه\n\nاسما سامی اعضای محترم لویه جرگه ۱۳۰۹\nصفت ممیزه\n\n٣٥٠\n٧\nصداقتمآب سعد الدین خان\nمدیر معابر وزارت داخله\n\n٣٥١\n٨\n\" میرزا بدرالدین خان\n\" محاسبه \" \"\n\n٣٥٢\n٩\n\" شاه محمد خان\nکفیل مدیریت عمومی پولیس دارالخلافه\n\n٣٥٣\n١٠\nعالیقدر شاه محمود خان\nحاکم سابقه لوگر\n\n٣٥٤\n١\nعالیقدر صداقتمآب فضل احمد خان\nمعین وزارت عدلیه\n\n٣٥٥\n٢\n\" امین الله خان\nرئیس اصلاحیه \" \"\n\n٣٥٦\n٣\nفضیلت پناه مولوی عبدالرب خان\nرئیس تمیز \" \"\n\n٣٥٧\n٤\n\" عبدالله خان\nعضو اول تمیز \" \"\n\n٣٥٨\n٥\nصداقتمند میرزا محبب میر خان\nمدیر مأمورین \" \"\n\n٣٥٩\n٦\n\" میرزا عبدالسلام خان\nمدیر تحریرات \" \"\n\n٣٦٠\n٧\nعالیجاه فضایل همراه ملا بزرگ صاحب\nرئیس جمعیة العلماء \" \"\n\n٣٦١\n٨\nفضیلت پناه میان عبدالعلی خان\nاعضاء \" \"\n\n٣٦٢\n٩\n\" ملا عبدالحمید خان\n\" \" \"\n\n٣٦٣\n١٠\n\" ملا محمد حسن خان\n\" \" \"\n\n٣٦٤\n١١\n\" مولوی عبدالحی خان\n\" \" \"\n\n٣٦٥\n١٢\n\" ملا سید محمد خان\n\" \" \""}
{"book": "adl0111", "page": 110, "text": "۱۰۷\n\nنمبر عمومی | نمبر جزوی | اسما سامیعین محترم لویہ جرگہ ۱۳۰۹ | صفت ممیزه\n٣٦٦ | ۱۳ | فضیلت پناه ملا عبد الله خان | اعضاء وزارت عدلیه\n٣٦٧ | ١٤ | \" مولوی محمد قاسم خان | \" \" \"\n٣٦٨ | ١٥ | \" مولوی عبدالواحد خان | \" \" \"\n٣٦٩ | ١٦ | \" ملا دین محمد خان | ریاست جمعیتہ العلماء وزارت عدلیه\n٣٧٠ | ١٧ | \" مولوی محمد عثمان خان | \" \" \" \"\n٣٧١ | ١٨ | \" مولوی عبید الله خان | \" \" \" \"\n٣٧٢ | ١٩ | \" سلیمان قل خان | \" \" \" \"\n٣٧٣ | ٢٠ | \" مولوی غلام حیدر خان | \" \" \" \"\n٣٧٤ | ٢١ | \" میان عبید الله خان | \" \" \" \"\n٣٧٥ | ٢٢ | \" ملا عبد الباقی خان | \" \" \" \"\n٣٧٦ | ٢٣ | \" ملا محمد بهرام خان | \" \" \" \"\n٣٧٧ | ٢٤ | \" ملا عبد الکریم خان | \" \" \" \"\n٣٧٨ | ٢٥ | \" مولوی محمد ابراهیم خان | \" \" \" \"\n٣٧٩ | ٢٦ | \" مولوی فضل ربی خان | \" \" \" \"\n٣٨٠ | ٢٧ | \" مولوی عبد القدوس خان | \" \" \" \"\n٣٨١ | ٢٨ | \" میر غلام خان | دفتر جمعیتہ العلماء \" \""}
{"book": "adl0111", "page": 111, "text": "۱۰۸\nنبر مجموعی\nنبر شخصی\nاسماء ساسا معین محترم لویه جرگه ۱۳۰۹\nصفت ممیزه\n۳۸۲\n۲۹\nجناب حضرت فضل عثمان خان\n۳۸۳\n۳۰\nعالیجاه نورالدین خان\n۳۸۴\n۳۱\n\" گل محمد خان\n۳۸۵\n۳۲\nفضیلت پناه مولوی حفیظ الله خان\n۳۸۶\n۱\nعالیقدر صداقتماب میرزا محمد حسین خان\nمعین وزارت مالیه\n۳۸۷\n۲\nعالیجاه \" صوفی عبدالحمید خان\nرئیس مطابع\n۳۸۸\n۳\nصداقتماب سید محمد ایشان خان\nمعاون رئیس مطابع\n۳۸۹\n۴\n\" میرزا محمد اسلم خان\nمدیر محاسبه وزارت مالیه\n۳۹۰\n۵\n\" میرزا عزیز الله خان\n\" بودجه \" \"\n۳۹۱\n۶\n\" محمد هاشم خان\n\" محاسبه ریاست مطابع\n۳۹۲\n۷\n\" میرزا محمد فضل خان\n\" مامورین وزارت مالیه\n۳۹۳\n۸\n\" \" عبدالحکیم خان\n\" تحقيقات و تصفیه \"\n۳۹۴\n۹\n\" سید محمد داود خان\nخطاط ریاست مطابع\n۳۹۵\n۱۰\n\" محمد سرور خان\nخزانه دار ریاست مطابع\n۳۹۶\n۱\nعالیقدر صداقتمآب میر سید قاسم خان\nمعین وزارت معارف\n۳۹۷\n۲\nصداقتماب هاشم شایق\nمعاون ریاست دارالتالیف معارف"}
{"book": "adl0111", "page": 112, "text": "۱۰۹\nشماره عمومی\nشماره در حصه\nاسما سامی اعیان محترم لویه جرگه ۱۳۰۹\nصفت ممتازه\n۳۹۸\n۳\nصداقتمند عزیز الرحمن خان\nمدیر تفتیش وزارت معارف\n۳۹۹\n۴\n\" میرزا عبدالله خان\n\" تنظمیات \" \"\n۴۰۰\n۵\n\" فتح محمد خان .\n\" مکتب استقلال \"\n۴۰۱\n۶\nعالیقدر قاری عبد الرسول خان\nرئیس مکتب دارالعلوم عربیه \"\n۴۰۲\n۷\nصداقتمند محمد نبی خان\nوکیل مدیر مکتب حبیبیه \"\n۴۰۳\n۸\n\" غلام محمد خان\nپروفیسر مدیر مکتب صنایع نفیسه \"\n۴۰۴\n۹\n\" سید غلام فاروق خان\nمدیر مکتب دار المعلمین \"\n۴۰۵\n۱۰\n\" محمد حسین خان\nمعاون مکتب امانیه \"\n۴۰۶\n۱۱\n\" محمد ایوب خان\n\" \" امانی \"\n۴۰۷\n۱۲\n\" محمد رضا خان\nمدیر موزه و حفر یات \"\n۴۰۸\n۱۳\n\" میرزا محمد قاسم خان\n\" تحریرات وزارت \"\n۴۰۹\n۱\nعالیقدر صداقتماب محمد حسین خان\nمعین وزارت تجارت\n۴۱۰\n۲\n\" غلام حیدر خان\nرئیس پنیات \" \"\n۴۱۱\n۳\nصداقتمند عبد القیوم خان\nمدیر گمرکات \" \"\n۴۱۲\n۴\n\" حاجی محمد اکبر خان\nمدیر زراعت \" \"\n۴۱۳\n۵\n\" جان محمد خان\n\" مامورین \" \"\nعبیدالله شرشته دار"}
{"book": "adl0111", "page": 113, "text": "۱۱۰\n\nنمبر عمومی | نمبر | اسما ساسا معین محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ | صفت ممیزه\n٤١٤ | ٦ | صداقتمند محمد ضیاء الدین خان | سرکاتب وزارت تجارت\n٤١٥ | ٧ | \" محمد عنایت الله خان | \" \" \"\n٤١٦ | ٨ | \" فخرالدین خان | \" \" \"\n٤١٧ | ٩ | \" عبدالمجید خان | \" ترجمان \"\n٤١٨ | ١٠ | \" محمد کریم خان | \" متخصص \"\n٤١٩ | ١١ | \" نور احمد خان | \" \" \"\n٤٢٠ | ١٢ | \" محمد شریف خان | \" \" \"\n٤٢١ | ١ | عالیقدر صداقت مآب شیردلخان | معین ریاست شورا\n٤٢٢ | ٢ | صداقتمند سردار محمد سرور خان | اعضاء \" \"\n٤٢٣ | ٣ | \" جرنیل عبدالرحیم خان | \" \" \"\n٤٢٤ | ٤ | \" حاجی میرزا محمد عمر خان | \" \" \"\n٤٢٥ | ٥ | \" حاجی میرزا عبدالرحیم خان | \" \" \"\n٤٢٦ | ٦ | \" حاجی عزیز احمد خان | \" \" \"\n٤٢٧ | ٧ | \" میرزا عبدالواحد خان | \" \" \"\n٤٢٨ | ٨ | \" میرزا محمد یوسف علیخان | \" \" \"\n٤٢٩ | ٩ | \" حاجی عبدالغفار خان | \" \" \""}
{"book": "adl0111", "page": 114, "text": "۱۱۱\nنمبر عمومی نمبر شخصی اسمائیکه معین محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ صفت ممیزه\n٤٣٠ ١٠ صداقتمند ملا محمد نذیر خان اعضاء ریاست شورا\n٤٣١ ١١ \" ملا روشن دل خان \" \" \"\n٤٣٢ ١٢ \" غلام نقشبند خان \" \" \"\n٤٣٣ ١٣ \" خان آقا خان \" \" \"\n٤٣٥ ١٤ \" شیر محمد خان \" \" \"\n٤٣٦ ١٥ \" حیدر خان \" \" \"\n٤٣٧ ١٦ \" سردار امین الله خان \" \" \"\n٤٣٨ ١٧ \" جلال الدین خان \" \" \"\n٤٣٩ ١٨ \" معاذ الله خان \" \" \"\n٤٤٠ ١٩ \" سراج الدین خان عضو منتخبۀ ریاست شورا\n٤٤١ ٢٠ \" ملا یزدان قل خان \" \" \"\n٤٤٢ ٢١ \" ملا امیر محمد خان \" \" \"\n٤٤٣ ٢٢ \" ملا محمد یوسف خان \" \" \"\n٤٤٤ ٢٣ \" وزیر محمد خان \" \" \"\n٤٤٥ ٢٤ \" ابو الخیر خان \" \" \"\n٤٤٦ ٢٥ \" میرزا شیر محمد خان \" \" \""}
{"book": "adl0111", "page": 115, "text": "۱۱۲\nنمبرعمومی\nنمبرحصہ\nاسماۓ معایز محترم لویه جرگه ۱۳۰۹\nصفت ممیزه\n٤٤٧\n۲۶\nصداقتمند میرزا عبدالواحد خان\nعضو منتخبه ریاست شورا\n٤٤٨\n۲۷\n” فقیر محمد خان\nمنشی ریاست شورا\n٤٤٩\n۲۸\n” میرزا محمد انور خان\nسرکاتب ” ”\n٤٥٠\n۲۹\n” ” عطا محمد خان\n” ” ”\n٤٥١\n۳۰\n” ” خان محمد خان\n” ” ”\n٤٥٢\n۳۱\n” ” عبدالودود خان\n” ” ”\n٤٥٣\n۳۲\n” ” عبدالرشید خان\n” ” ”\n٤٥٤\n۳۳\n” حافظ عبدالغفار خان\nعضو ریاست شورا\n٤٥٥\n١\nصداقتمآب عبدالغفار خان\nمدیر شفاخانگی مدریت نظامیه\n٤٥٦\n١\nعالیقدر صداقت مآب محمد حیدر خان\nمعین وزارت جلیله دربار\n٤٥٧\n۲\nعالیقدر حاسبے محمد نواب خان\nمصاحب حضور شاهانه\n٤٥٨\n۳\nصداقتمآب عبدالوهاب خان\nمدیر محاسبه وزارت دربار\n٤٥٩\n٤\n” عبدالرحیم خان\n” تحریرات ” ”\n٤٦٠\n٥\n” جمعه خان\nمعاون تشریفات ” ”\n٤٦١\n٦\n” اکرم خان\n” مامورین ” ”\n٤٦٢\n٧\n” عبدالصمد خان\nده باشی پیش خدمت ها\nعضو مجلس"}
{"book": "adl0111", "page": 116, "text": "۱۱۳\n\nنمبر عمومی | نمبر | اسمای کسان معین محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ | صفت ممایزه\n۴۶۳ | ۸ | صداقت مآب محمد علم خان | معاون پیش خدمت باشی\n۴۶۴ | ۹ | \" محمد اسمعیل خان | \" \"\n۴۶۵ | ۱۰ | محمد اسلم خان | پیش خدمت\n۴۶۶ | ۱۱ | \" میراحمد خان | آب دار\n۴۶۷ | ۱۲ | \" عطاء الله خان | متخصص ماشین بکرالصوت\n۴۶۸ | ۱۳ | \" قربانعلی خان | مقرر ماشین \"\n۴۶۹ | ۱ | عالیجاه عزت و شجاعت همراه سیدعبدالله خان | وکیل یاور اول حضور\n۴۷۰ | ۲ | صداقت مآب عبدالکریم خان | مدیر محاسبه \"\n۴۷۱ | ۳ | \" غلام محی الدین خان | \" جش \"\n۴۷۲ | ۴ | \" عبدالغیاث خان | \" تعمیرات \"\n۴۷۳ | ۵ | \" خیرمحمد خان | \" فابریکه کوتوالیه ستوری \"\n۴۷۴ | ۶ | \" میرزا محمد علی خان | وکیل مدیریت تحریرات \"\n۴۷۵ | ۷ | \" محمد یونس خان | مدیر دائره هندسی \"\n۴۷۶ | ۱ | شجاعت همراه شیر محمد خان | یاور حربی\n۴۷۷ | ۲ | \" محمد صفر خان | \"\n۴۷۸ | ۳ | \" سلطان احمد خان | \""}
{"book": "adl0111", "page": 117, "text": "١١٤\nنمبرعمومی\nصنف\nاسمای محترمین لوی جرگه ۱۳۰۹ صفت ممیزه\n٤٧٩ ٤ شجاعت همراه فیض محمد خان یاور حربی\n٤٨٠ ١ عالیقدر حافظ نور محمد خان مدیر شعبه اول تحریرات\n٤٨١ ٢ \" عبد الاحد خان \" شعبه ۲ \"\n٤٨٢ ٣ \" مولوی برهان الدین خان کشککی \" \" ۳ \"\n٤٨٣ ٤ صداقت مآب محمد سرور خان سرکاتب \" \"\n٤٨٤ ٥ \" محمد مرید خان کاتب \" ۱ \"\n٤٨٥ ٦ \" غلام قادر خان \" \" ۲ \"\n٤٨٦ ٧ \" سید اسحق خان \" \" ٤ \"\n٤٨٧ ١ عالیقدر صداقت مآب سید حبیب خان مستوفی ولایت کابل\n٤٨٨ ٢ حمیت مند عبد المکیم خان قوماندان کوتوالی \"\n٤٨٩ ٣ شجاعت همراه طره باز خان سر مامور قوماندان \"\n٤٩٠ ٤ صداقتمآب میر سلام الدین خان مدیر محاسبه \"\n٤٩١ ٥ \" نظر محمد خان \" خزانه \"\n٤٩٢ ٦ \" محمد عمر خان \" گمرک \"\n٤٩٣ ٧ \" پاینده محمد خان \" مخابرات \"\n٤٩٤ ٨ \" محمد رفیق خان \" واردات و مصارفات \"\n\nص ۳۰۰۰ نسخه\nچاپ کابل\nدر مطبعه ماشینه"}
{"book": "adl0111", "page": 118, "text": "١١٥\nنمبر عمومی نمبر صنف اسمای سامیان محترم لویه جرگه ۱۳۰۹ صفت ممیزه\n٤٩٥ ٩ صداقتمآب میرزا محمد علی خان مدیر تحریرات ولایت کابل\n٤٩٦ ١ عالیقدر صداقت همراه غلام قادر خان رئیس بلدیه\n٤٩٧ ٢ عالیجاه غلام محی الدین خان معاون\n٤٩٨ ٣ \" سید جلال خان \"\n٤٩٩ ٤ \" میرزا غلام نقشبند خان مدیر محاسبه\n٥٠٠ ٥ \" عبد الصمد خان مدیر تحریرات\n٥٠١ ٦ \" عالیجاه سردار گل محمد خان از اعزهٔ کابل\n٥٠٢ ٧ \" عالیجاه میرزا محمد هاشم خان از اعزهٔ کابل\n٥٠٣ ١ صداقت همراه مولوی محمد امین خان مدیر جریده اصلاح\n٥٠٤ ٢ \" محمد زمانخان معاون \"\n٥٠٥ ٣ \" غلام دستگیر خان محرر \"\n٥٠٦ ٤ \" شیر احمد خان \" \"\n٥٠٧ ٥ \" محمد قدر خان \" \"\n٥٠٨ ١ صداقتمند غلام محی الدینخان مدیر جریده انیس\n٥٠٩ ٢ \" عبد الرشید خان معاون جریده \"\n٥١٠ ٣ \" محمد اسلم \" سرکاتب \" \""}
{"book": "adl0111", "page": 119, "text": "١١٦\n\nنمبر عمومی\nنمبر خصوصی\nاسمای هیئت سیاسیه دول معظمه در افغانستان که برای شنیدن فیصله های جرگه بروز پنجم دعوت شده بودند\nصفت ممیزه\n\n٥١١ ١ جلالتمآب ستارک سفیر کبیر شوروی\n٥١٢ ٢ عالیقدر ریکس مستشار سفارت کبرای شوروی\n٥١٣ ٣ آقای الکساندروف سرکاتب دوم ” ”\n٥١٤ ٤ ” اتشه ملیطر سفارت ” ” ”\n٥١٥ ٥ ” توتولیمن اتشه سفارت ” ” ”\n٥١٦ ٦ جلالتمآب خلعت بری سفیر کبیر ایران\n٥١٧ ٧ آقای حاجب سرکاتب سفارت کبرای ایران\n٥١٨ ٨ جلالتمآب حکمت بیگ سفیر کبیر ترکیه\n٥١٩ ٩ آقای سعدالله بیگ سرکاتب سفارت کبرای ترکیه\n٥٢٠ ١٠ ” جمال کاظم بیگ کاتب ٣ ” ”\n٥٢١ ١١ ” عارف امین بیگ ” ” ” ”\n٥٢٢ ١٢ ” فواد بیگ داکتر ” ” ” ”\n٥٢٣ ١٣ عالیقدر پاسنتر مستشار سفارت برطانیه\n٥٢٤ ١٤ آقای میجر فارول اتشه ملیطر ”\n٥٢٥ ١٥ ” ” ایچ ایچ السٹ سرجن دکتور ” ” ”\n٥٢٦ ١٦ ” کپٹن میکین سکرتری ” ” ”\n٥٢٧ ١٧ خانصاحب سکندر خان اورنٹیل سکرتری ” ” ”\n٥٢٨ ١٨ آقای بے گیر شارژ دافر سفارت فرانسه\n\nجریده نمبر ۳۰۰ سراج الاخبار افغانیه"}
{"book": "adl0111", "page": 120, "text": "۱۱۷\n\nمعروضهٔ علمای افغانستان | افغانستان کے علماء کی درخواست\n\n[ راجع باین نشریه باسی باطلهٔ شاه مخلوع که | [ شاه مخلوع کی باطله اشاعت نے افغانستانمیں ایک هیجان \nنمک پاش قلوب جراحت رسیدهٔ عموم | برپا کردیا ہے ۔ اور اس نے تمام ملت کے مجروح دلوں پر\nملت افغانستان ، مخصوصا از علمآ اعلام | نمکپاشی کی ہے ، خصوصا ہمارے علماءِ کرام اس سے \nگردیده است ، بسیار عرائض و پیشنهادهآ | بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں ، چنانچہ ہمارے علماءِ\nاز طرف علما واصل شده که درینجا تنها ازان | کرام کی طرف سے بہت سی عرضیان اور تجویزیں\nبه نگاشتن معروضهٔ آتیه که مظهر احساسات | پہنچی ہیں ۔ مگر ہم ان میں سے صرف ذیل کی ایک\nعلما درین مورد است اکتفا میشود ] | درخواست کی اشاعت پر جوکہ اس موضوع پر\nاعلیحضرت امام مسلمان ما ! | افغانستان کے سب علماء کے احساسات کی ترجان\nدرین روز هآ تشریحات جریدهٔ اصلاح چنین | اکتفا کرتے ہیں ) وهو ہذا\nمیدهد که امان الله مطرود غضب الهی ومخرب | اعلیحضرت امام مسلمانان !\nملت ومملکت اسلامی افغانی با عمال شنیعهٔ | ان دنوں جریدهٔ اصلاح ہمارے مطالعہ سے گذرا اس کی بعض\nبالفساد خویش میخواهد ، خود را از تمام خرابیها | تشریحات اور جوابات سے معلوم ہوتا ہے کہ امان اللہ جو غضب الہی کا\nو تباهیها نیکه براب ملت و مملکت پیش کرده | مورد اور اسلامی ملت کا مخرب اور افغانی مملکت جو خونریزی\nو اساس هآی رنگارنگ نفاق وشقاق را | کرانیوالا ہے اپنی شریرانہ آق بد اعمالیوں کیوجہ سے چاہتا ہے کہ\nتخم زمین این سرزمین نموده بری الذمه نشاند او ما | اپنی ذات کو ان تمام خرابیوں ا ورتباہیوں سے جنہیں ملک و ملت کے لئے\nملت غیور با عزم و فدائی شریعت اسلام را | کیا ہے اور اس سرزمین میں نفاق وشقاق کا بیج بو گیاہے بری الذمہ دکھائے"}
{"book": "adl0111", "page": 121, "text": "۱۱۸\n\nبی اراده بدنیامعرفی کند پس برای آن\nعاصی و طاغی، اگر هر قدر داستانها بنگاریم\nخیال میکنیم برای او یک اسباب ساعت\nتیری و تفریح قصه خوانی پیدا میشود، چون بغیر از\nهمین مالیخولیا سرائی برای او کاری و\nباری نمانده است. لہٰذا ما بحضور انشرحمت الاسلام\nظهور شما التجا میکنیم کہ مسائل امان اللہ\nنزد علماء شریعت و ملت بادین و دیانت\nاز آفتاب ہم روشن تر است، باید ذکراین\nدر میان این ملت بند کرده شود، زیرا ماچرا\nاوقات خود را ضایع کنیم و به او جواب آخرین\nخود را چنین بگوئیم :\nقَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَی\nوَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا\nدر خاتمه این عبارت را تزیید میکنیم که امان الله از\nدست رفته است وقتی که او را بمیدان\nمحاکمه حاضر کرده نمیتوانیم، باید تحریرات\n\nہماری عقیدہ با عزم اور شریعت پر مر مٹنے والی ملت کے\nدنیا میں ایک بے ارادہ ملت مشہور کرے پس ہمارے\nخیال میں اگر ہم اس عاصی طاغی کی کرتوتوں کو بیقدر\nتفصیل کے ساتھ بیان کریں اوران جگر خراش قا\nداستانوں کی صورت دیں تو اُسکی اس بیکاری کے\nدنوں میں اُسکے لئے وقت گزارنے کا ایک مشغلہ نکل آئیگا او\nاُسکی تفریح طبع کا سامان مہیا ہو جائیگا۔ چونکہ اسکو\nآجکل ایسی واہیات اور فضولیات بکنے کے سوا اور کوئی\nکام ہی نہیں ہاسواسطے ہم آپکے حضور بسماحیت ظہور میں\nالتجا کرتے ہیں کہ امان اللہ کے تمام اقوال و اعمال ہمارے علما کے\nشریعت اور ہماری متدین دیانتدار ملت کے سامنے موجو\nاور آفتاب سے بھی روشن ہیں ، ملت میں ایسی خرافات کا ذکر\nو اذکار بالکل بند کر دینا چا کیونکہ یہ خواہ مخواہ ہماری تضیع\nاوقات کا باعث ہو گا حالانکہ ہم ملک وملت کی اصلاح\nاور تعمیر کے کام میں سخت مصروف ہیں۔ ہم اس آیہ کریمہ کی\nتلاوت کر کے اس کو آخری جواب دیتے ہیں اللہ تبارک و تعالٰی فرمانا\nوَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا\nآخر میں ہم ان چند سطور کو بڑھا کر اپنا کلام ختم کرتے ہیں\nامان اللہ ہمارے ہاتھ اور اختیار سے نکل گیا ہے جبکہ ہم\nاسکو عدالت میں کھڑا کر کے اس پر محاکمہ نہیں\nکر سکتے تو ضروری ہے کہ اُسکی تمام تحریریں اور"}
{"book": "adl0111", "page": 122, "text": "۱۱۹\n\nو شایعات او از داخل این مملکت اسلامی\nاشاعتیں اس اسلامی مملکت کے اندر ممنوع قرار دیجائیں\n\nبند کرده شود ، اگر کدام اعوانی برای\nاگر اسکا کوئی ہوا خواہ اور مددگار اسکی فتنہ پردازیوں\n\nشیوع فتنه اندازی های او گرفتار آید\nاور رخنہ اندازیوں کی اشاعت کرتا ہو پکڑا جائے\n\nباید حکومت آنرا بحضور محاکم شریعت غرا\nتو حکومت کو چاہئے کہ اسکو فوراً محکمۂ شریعت میں بھیجے\n\nجزایش را تعیین و محکومش بدارد ، باقی\nجہاں اسکے اثبات جرم کے بعد سزا مقرر کیجائیگی جسکو وہ بھگتیگا\n\nاز خدای بی نیاز خویش نیاز میکنیم که زمین\nباقی ہم اپنے خدا ئی بی نیاز کی درگاہ میں نیاز کرتے ہیں\n\nافغانستان را از وجود امان الله و اعوان آن\nکہ افغانستان کی خاک پاک کو امان اللہ کے وجود اور اسکے\n\nپاک داشته بار دیگر ملوث ننماید ، و اعلیحضرت\nاعوان انصار سے پاک صاف رکھے اور بار دگر اس\n\nنادر شاه افغان مسلمان ما را بعدالت\nسر زمین کو اُن سے آلودہ نہ کرے ۔ اور دعا کرتے ہیں کہ ہمارے مسلمان با ایمان اعلیحضرت محمد نادر شاہ افغان کو\n\nو پابندی احکام شریعت قایم بدارد ، بحمدہ آمین آمین\nعدل و انصاف اور شریعت کے منور احکام کی پابندی پر قائم و دائم رکھے ، آمین ثم آمین ۔\n\nمحل امضای جم غفیری از علمای افغانستان"}
{"book": "adl0111", "page": 123, "text": "[BLANK PAGE]"}
{"book": "adl0111", "page": 124, "text": "[BLANK PAGE]"}
{"book": "adl0111", "page": 125, "text": "[BLANK PAGE]"}
